تازہ ترین

شکریہ پاکستان۔۔۔۔

جب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا فیصلہ آیا ہے۔سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری چند افراد اور بعض لکھاریوں کی طرف سے اس علاقے کو متنا زعہ علاقے کے نام سے سوشل اور دیگر میڈیا پر جو طوفان بد تمیزی برپا کر رکھی ہے ۔اسے دیکھ کر ہماری عقلی شعور کا بھی خوب اندازہ ہونے لگا ہے کہ ہم آئین،تاریخ اور موجودہ صورت حال پر کیسی نظر رکھتے ہیں۔مزید برآں ہم نے اپنے تمام تر مسائل کا حل آئینی حقوق کے پیچھے سمجھ رکھا ہے۔اس نقطہ نظر کو عوام کی ذہنوں میں راسخ کرنے کا سہرا سیاستدانوں کے سوا کسی اور کے سر نہیں بندھ سکتا کیونکہ انہوں نے ووٹ لیتے وقت جو بھی وعدے کئے وہ پورے نہ ہو سکے ۔ ماضی سے اب تک دور اقتدار میں اس طرف کہاں دلچسپی جاتی ہے لہذاٰ انہیں ان کاموں کو نہ کرنے کے بہانوں کا ایک خوبصورت بہانہ ’’آئینی حیثیت‘‘کی صورت میں مل گیا۔ ان کا دوسرا مفاد شاید یہ ہو کہ وہ اس حیثیت کے حصول کی صورت میں اعلی ایوانوں تک پہنچ کر اپنے مزید خواب پورے کر سکیں۔سادہ لوح عوام نے بھی اپنی عوامی خواہشات( صحت ، تعلیم بجلی،پانی،روزگار وغیرہ ) کو بھی اس آئینی حیثیت کے ساتھ وابستہ کرلیا ہے کہ جس دن الہ دین کا یہ چراغ ہاتھ لگ گیا ہمارے سارے مسائل چٹکی بجاتے حل ہو جائیں گے۔ ان سوچوں میں گم حضرات کے لئے چلاس سے چند کلو میٹر آگے کے پی کے کے بعض علاقوںکو ہستان،بونیر ،شانگلہ اور مانسہرہ لئے چلتے ہیں جہاں سے ایک نہیںکئی ممبران قومی و صوبائی اسمبلی تک رسائی رکھتے ہیں۔سینیٹ میںبھی ان کی سیٹیں ہیں۔ملک کے اعلی ایوانوں میں ان علاقوں کے افراد کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایسا قیام پاکستان کے بعد سے ہوتا آرہا ہے۔لیکن ان علاقوں کی پسماندگی تو ہم سے بھی گئی گزری ہے۔عوام کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ آئینی حقوق سے ترقی ضروری نہیں ہو جاتی ۔اس کے لئے ہمدرد،باشعور اور دیانت دار افراد نمائندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ایسے افراد ہمیں میسر آتے تو آئینی حقوق نہ رکھتے ہوئے بھی ہم کہیں آگے پہنچ چکے ہوتے۔
وفاقی حکومت برسوں سے اربوں روپے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے دیتی رہی ہے۔اس قدر دور دراز اور دشوار گزار ہونے کے باوجود انہی راستوں سے زندگی کی ہر سہولت دینے کی کوشش کی جاتی رہی۔کبھی موقع ملے تو ملک کے مشہور شہروں سے ملحق علاقوں کا دورہ کر کے دیکھئیے ۔آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے کہ وہ زندگی کی معمولی معمولی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ہم اس قدر سخت موسمی حالات میں رہتے
ہوئے بھی کئی سہولیات سے لیس ہیں۔کیا اس میں ہمارا اپنا کمال ہے؟
اس قد ر ترقیاتی فنڈ کی فراہمی کے باوجود ترقی نظر نہیں آتی تو کیا آئینی حقوق ملتے ہی ترقیاتی کاموں میں کرپشن نہیں ہوگی ؟اور ہر طرف ترقی دیکھنے کو ملے گی؟یہ یاد رکھئیے گا ۔اس کے بعد بھی ترقی کے نام پر سڑکیں کھنڈر رہیں گی جیسا کہ آج کل ہیں۔ری کا رپٹنگ کے نام پر کام کو طول دینا اور فنڈ کو جھول اور پھر جھٹکا دینا تو کوئی ہمارے ارباب اختیار سے سیکھے جنہیں کرپشن کے ’’آداب‘‘ بھی نہیں آتے۔
اب عوام کو سمجھنا ہو گا کہ سیاستدانوں نے سادہ لوح عوام کو آئینی حقوق کے پیچھے لگا کر خود کو تمام ذمہ داروں سے مبرا کر دیا ہے۔دوسری طرف حکومت پاکستان نے معاشی مسائل کے باوجود ہر دور میں جی بی کے عوام کی ہر وقت دلجوئی کی ہے اور ان کی ضروریات کو پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ ہم خود اپنے پائوں پر کلھاڑا مارتے ہوئے ایسے نمائندوں کو منتخب کرتے رہے جنہیں عوام سے زیادہ اپنی ترقی عزیز تھی۔اب اس میں حکومت پاکستان کی کیا غلطی۔اس نے تو اول روز سے اس خطے کو اہمیت دی۔اسے نام دیا،پہچان دی، تعلیمی اداروںکی کمی محسوس کرتے ہوئے کئی قسم کے ادارے کھولے،صحت کے مراکز قائم کئے۔ علاقے کو کامیاب بنانے والے کئی ادارے ہمارے ہاں موجود ہیں بس ان میں موجود ہمارے اپنے ہی انہیں پیچھے لے جارہے ہیں۔ ملک کے محدود مسائل میںہاتھ بٹانے کے لئے ہم نے ایک ہی مدد کی۔بے ہنگم آبادی!!
جہاں تک سپریم کورٹ کے فیصلے کی بات ہے اس میں اختلاف کا حق سب کے پاس ہے لیکن اس میں بھی ایک اختیار کا عندیہ چھپا ہوا ہے کہ اب ہمارے لوگوں کی رسائی ملک کے اعلی ترین عدالت تک ہے ۔ہماری سماجی طبیعت کا اب یہ خا صہ بنتا جارہا ہے کہ ہر خبر پر ایسے تبصرہ کیاجائے جیسا کہ ہم اسی میدان کے شہ سوار ہیں اور ہم اس مخصوص خبر سے متعلق تمام جزئیات سے آگاہی رکھتے ہیں۔سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے پر بھی کچھ ایسی ہی صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔عام آدمی اس کے اصل متن سے یکسر بے خبر ہے۔جوحقیقت اس میں بیان کی گئی ہے اسے دنیا کا کوئی ایسا شخص جو قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتا ہو جھٹلاا نہیں سکتا ۔اگرسادہ لفظوں میں بات کی جائے تو حقیقت یوں سامنے آتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں زیر التوا ہے جبکہ جموں و کشمیر کے ساتھ جی بی بھی منسلک ہے۔یوں یہ علاقے متنازعہ ہو گئے۔حیرت تو اس بات کی ہے کہ اگر یہی صورت حال کسی کی ذاتی زمین کے ساتھ پیش آئے تو اسے بڑے آرام سے متنازعہ کہا
جاتا ہے لیکن یہی حقیقت اگر جی بی پر لاگو ہو تو طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔رائی کا پہاڑ بنا کر عوام کو ملک عزیز پاکستان سے متنفر کرنے کا پیچھے معلوم نہیں کیا عزائم چھپے ہوئے ہیں لیکن چیخ چیخ کر بولنے والے ایسے تمام لوگوں سے گزارش ہے جن کے چہروں پر ملک سے پیار کے جذبے مدھم پڑتے نظر آتے ہیں کہ خدارا عدالتی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔عام آدمی کی پریشانیوں میں پریشان ہونے کا شوق ہے تو اپنی سطح پر اپنا کردار ادا کریں۔ہمارا کیس لڑنے کے لئے ہمارا پاکستان ہماری پشت پر کھڑا ہے۔بجائے فریاد و آہ زاری کے،اس بات کا شکر کریں کہ عام حالت میں ہم سے کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ہمارے بچے اگر محنت کریں تو ملک کی ہر سہولت اور ادارہ ان کے لئے کھلا ہے۔ جی بی کے عوام کو بھی مملکت پاکستان کی طرفسے بطور شہری وہی شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے جو کراچی یا لاہور کے شہریوں کیلئے۔شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر کہیں نہیں لکھا جاتا کہ اس کے حامل کا تعلق کسی متنازعہ علاقے سے ہے اور نہ ہی ایسی کوئی بات آئین پاکستان میں لکھی گئی ہے۔صرف تنازعہ کشمیر میں رائے شماری میں عددی اکثریت کے لئے مجبوراً کچھ عرصے کے لئے جی بی کے عوام کو یہ قربانی دینی ہو گی۔حکومت پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو سراہا ہے کہ جی بی کے عوام نے پاکستان کی بقا اور سا لمیت کے لئے ہمیشہ اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے اور شہ رگ کشمیر بھی پاکستان کے لئے لازم و ملزوم ہے۔لہذاٰ ان دونوں علاقے کے بہترین مفاد میں جو بھی ہو گا۔پاکستان اسی کوشش میں سرگرداں ہے۔ایسے میں بجائے معاملے کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے اس شور شرابے کا کیا مقصد ہے؟
ہمیں تو اپنے پیارے پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے جو ہماری تمام تر شکایتوں کے باوجود ہمارا خیال رکھتاہے ۔اپنا نقصان کر کے ہمیں فائدہ دینے کی جتن کرتاہے۔ ہماری یہ دھرتی تو ہماری ماں ہے۔کوئی ماں ناانصافی نہیں کرسکتی۔یہ اور بات ہے کہ اولاد اپنے کرتوت خراب رکھتی ہے اور الزام ماں پر دھرتی ہے۔(فیڈ بیک کے لئےnabiwani8@gmail.com )

تحریر: نبی وانی

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*