تازہ ترین

بلتستان والوں کے مسیحا کو سلام۔۔۔

یوں تو آجکل گلگت بلتستان میں ناقص اشیاء کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں عروج پر لیکن ان سب میں سے خاص امراض قلب جو کہ بہت جلد جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے ایسے میں جب گلگت بلتستان کے کسی باسی کو یہ بیماری لگ جائے تو سرکاری اسپتالوں میں ای سی جی پر ہی اکتفاء کیا جاتا ہے, لیکن بھلا ہو افواج پاکستان کا جہاں سی ایم ایچ میں ایکو اور ای ٹی ٹی کرنے کے آلات موجود لیکن حتمی فیصلے اور علاج امراض قلب ابھی بھی اس دور جدید میں بھی گلگت بلتستان میں ناممکن ہے کیونکہ انجیوگرافی کرنے کی سہولیات پورے گلگت بلتستان میں موجود نہیں جو کہ ہمیں سوچنے کا مقام ہے.. اب جب بیماری لگ جاتی ہے تو علاج تو کرنا ہے ایسے میں غریب ,امیر سب کو راولپنڈی ریفر کیا جاتا ہے امیر تو خیر اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں اپنا علاج کرواتے ہیں لیکن بات اس غریب کی ہے جس کے پاس راولپنڈی تک پہنچنے کا کرایہ بھی مشکل سے ہوتا ہے. یہاں پہنچنے کے بعد بھلا ان عظیم ہستوں کا جنہوں نے بلتستانیہ کمپلکس, انگتپورہ امام بارگاہ اور دیگر ہاوسسز قائم کئے ہیں وہاں قیام پذیر ہوجاتے ہیں لیکن ہسپتال جانے اور وہاں سے کسی اچھے طبیب سے علاج کروانا ایک ناممکن چیلنج سا ہوجاتا ہے. ایسے میں سب کی نظر راولپنڈی میں مقیم خدمت انسانیت سے سرشار , دکھوں اور بےسہاروں کا مداوا, عظیم انسان ڈاکٹر عباس پاروی کی شکل میں ملتے ہیں جو اپنی خدمات بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں انجام دے رہے ہیں. ان کا میں یہاں تعارف کراتا چلوں ڈاکٹر غلام عباس پاروی کا تعلق بلتستان کے ضلع کھرمنگ پاری سے ہے. انہوں نے ابتدائی تعلیم پاری سے پھر میڑکولیشن ہائی اسکول مہدی آباد سے پھر انٹرمیڈیٹ ڈگری کالج اسکردو سے کی اور ایم بی بی ایس چانڈیکا میڈیکل کالج لاڑکانہ سے مکمل کی اور نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس , اے ایف آئی سی سے کارڈییولوجی میں ڈپلومہ حاصل کی اور ابھی بینظیر ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ امراض قلب میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں.
گلگت بلتستان سے آئے ہوئے غریب مریض جنکا راولپنڈی میں اللّہ کے سواء کوئی نہیں ہوتا ان کیلئے ڈاکٹر عباس پاروی ایک مسیحا سے کم نہیں وہ ان کیلئے ساری چیزوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کوئی مسئلہ ہوا تو بتانا, آجکل کے اس دور میں ایسے انسان دوست ڈاکٹر کسی نعمت سے کم نہیں جو جی بی والوں کیلئے ہر ممکن تعاون دیار غیر میں صحت کے حوالے سے سہولیات دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. انسانیت کی خدمت سے سرشار ایسے انسان دوست ڈاکٹر کو سلام پیش کرتے ہیں.
ایک دن میرا بھی بینظیر ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا وہاں دیکھا سارے گلگت بلتستان سےآئے ہوئے مایوسیوں میں ڈوبے ہوئے لوگ ایک امید کی تلاش میں ڈاکٹر عباس کے کمرے کے باہر کھڑے تھے میں نے کسی نے اتفاق پوچھا کیسا ڈاکٹر ہے عباس صاحب تو انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے کسی سہارے اور امید سے کم نہیں کیونکہ میں گاؤں سے آیا ہوا ہوں اور یہاں کسی چیز کا نہیں پتہ لیکن جب میں ڈاکٹر صاحب سے ملا تو مجھے ایسا لگا جیسا کہ میں صدیوں سے جاننے والا کسی اپنے قریبی رشتہ دار سے ملا ہوں ڈاکٹر صاحب کی ملنساری , انکساری اور اعلی اخلاق نے مجھے نہیں لگا کہ میں سفر میں مسافر ہوں. یوں جب ایڈمن کے دوران بھی خبرگیری کیلئے آتے اور احوال پرسی کرتے رہتے تھے. ایک اور جواں کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا یہاں راولپنڈی میں ریفر کرنے کے بعد جب یہاں پہنچا تو کافی پریشان تھا اور پریشانی کی عالم میں بینظیر ہسپتال پہنچا جب ڈاکٹر عباس سے میری ملاقات ہوئی تو دیار غیر میں بھی ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے دیس میں ہوں اللّہ ڈاکٹر عباس کو ترقی و کامیابی عطا کرے.
انسان اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے جینا پیسہ روپیہ کمانا کوئی بڑی بات نہیں ,بلکہ آپ کی وجہ سے کسی کا مسئلہ حل ہو, پریشانی دور ہو, آپ کو دیکھ کر امید اور راحت محسوس کرے یہ خداوند کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے جو کہ ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا..
تو ہماری دعا ہے کہ ڈاکٹر عباس جیسی شخصیت , درد دل ہر کسی میں ہو اور معاشرہ , انسان اس سے استفادہ حاصل کرے..
اسی لئے شاعر نے کیا خوب کہا ہے
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں.

والسلام

تحریر: علی آصف بلتی

  •  
  • 11
  •  
  •  
  •  
  •  
    11
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*