تازہ ترین

جذبہ لوٹ مار وطن۔۔۔

قارئین کرام آپ نے جذبہ اسلام،جذبہ انسانیت،جذبہ حب الوطنی وغیرہ کے متعلق ضرور سنا ہوگا۔بانیان اسلام و اولیائے کرام ، مجاہدین اور رہنمائے وطن نے جذبہ اسلام سے سرشار ہوکر اسلام کو سر بلند کیا اور آنے والے پیروکاران اسلام کے لیے مشعل راہ بن گئے۔اسی طرح جذبہ انسانیت کی دنیا میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں نے بھی وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ جیسا کہ حاتم طائی کی سخاوت،عدلِ نوشیروانی، مادر ٹریسا، اور مسلمانوں میں ہم فقط اپنے ملک عزیز ہی کو لیتے ہیں، جہاں حکیم سعید، عبدلستار ایدھی، انصار برنی وغیرہ نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے ۔دنیا ان کے کردار کو سراہتی ہے اور جذبہ حب الوطنی کے حوالے سے ٹیپو سلطان، عبد الجمال ناصر، مصطفی کمال اتاترک، قائد اعظم اور یہاں تک کہ خواتین نے بھی اپنے وطن کی حرمت کو بچانے کے لیے تاریخ رقم کی ہے ،جیسے چاند بی بی، جھانسی کی رانی اور لیلا خالد جیسی دلیر خواتین کی مثالیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مجاہد ین تو بے شمار ہیں، جیسے لالک جان، عزیز بھٹی شہیداور سیّد یاسر عباس جیسے سرفروشوں نے اپنی جانیں قربان کرکے مادر وطن کی لاج رکھی ہے۔تاریخ عالم میں ایسے جواں مرد اور خواتین کا ذکر ملتا ہے، جن کی داستانیں سن کر ہر غیرت مندشخص کی رگوں میں خون جوش مارتا ہے۔جبکہ آج ہمارے درمیان ایسی مثالیں بھی موجود ہیں، جن کے بارے میں سن کر انسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتاہے کہ مذکورہ بالا مثالوں کے برعکس شیطان صفت ،وطن فروش، ضمیر فروش، ایمان فروش اور نہ جانے کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کیا کچھ فروشی نہیں کرتے ہیں۔ان ہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے آج پاکستان مسائلستان بنا ہوا ہے۔دنیا کے بڑے بڑے معیشت دان جب یہ دیکھتے ہیں کہ مملکت پاکستان میں غربت کی سطح آئے روز بڑھ رہی ہے، تو یہ ماہرین حیران ہوجاتے ہیں کہ پاکستان جیسا زرعی ملک اور آبی ذخائر و دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ، غربت کی لکیر سے بھی نیچے کیسے گر سکتا ہے،جبکہ پاکستان کے ساتھ کئی ترقی یافتہ ممالک کی سرحدیں بھی جڑی ہوئی ہیں۔پاکستان ایک ایسا زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے کہ یہاں پر تو غربت کی پر چھائیں بھی نظر نہیں آنی چاہئےں۔یہاں جو غربت پھیل رہی ہے ،وہ درحقیقت حکمرانوں کی شاہ خرچیاں اور لوٹ مارکی وجہ سے پھیل رہی ہے۔کون سا ایسا محکمہ ہے ،جہاں کرپشن نہیں، کونسا ایسا ادارہ ہے، جہاں پر خردبرد نہیں ہوتی ۔اس ملک میں چپڑاسی سے لیکر ایوان بالا تک ہر کوئی حصہ بقدر جُثہ کی مانند لُو ٹ مار میں مصروف ہے۔مال ِسرکار کو شِیر مادر، کی طرح جائز سمجھا جاتا ہے ۔ یہ سرکاری مال ہے لہٰذا ہضم کرکے ثواب دارین میں شامل ہونا ہر ایک کی فطرت بن چکی ہے۔ایک معمولی کلرک، بھرتی ہوجانے کے دس سال بعد ،کروڑں روپے کا مالک بن جاتا ہے۔ ایک پٹواری جس سے سابق صدر (مرحوم) ایوب خان نے بھی ہار مانی تھی کہ پٹواری کو کنٹرول کرنا بس کی بات نہیں۔کسٹم جاؤ رشوت لوٹ مار، انکم ٹیکس میں بھی بُری حالت،محکمہ مال میں مال ہی ہضم،پی ڈبلیو ڈی میں تو ہر چیز ڈبل ہے، اسی طرح محکمہ ایجوکیشن میں بھی بگاڑ اور کرپشن کی حد ہو چکی ہے، جبکہ محکمہ پولیس کاتو باوا آدم ہی نرالا ہے ۔میں فقط گلگت بلتستان کی بات نہیں کر رہا ہوں، بلکہ پورا ملک ہی میرا مطمع نظر ہے، جس کا نام ” اسلامی جمہوریہ پاکستان“ رکھا گیاہے۔اگر اسلام کے حوالے سے بات کریں گے تو یہاں اسلام ہر ایک کی خواہش کے مطابق ہے۔ ہر ایک کا اپنا اسلام ہے،جمہوریت کی بات کریں ،تو آمریت شرماجائے اور پاکستان کی بات کرتے ہیں تو سرزمین تو نظر آرہی ہے کہ ہاں یہ پاکستان کی سرزمین ہے، لیکن اس میں اگر محب وطن پاکستانی کو تلاش کیا جائے ،تو شاید خوردبین کی ضرورت پڑے۔اگر قانون کی بات کرتے ہیں ،تو محض غریب ہی اس کے شکنجے میں آتاہے۔ بہت کم مثالیں ایسی ہیں کہ کوئی بڑا آدمی اس کا شکار ہوا ہو۔ اگر ہوا بھی ہے تو دوسرا بڑا آدمی بغرض انتقام یہ کام کرتا ہے۔ اس میں بھی ملک یا قوم کے ساتھ ہمدردی کا عنصر دور دور تک نظر نہیں آتا ۔اس نظام میں سرمایہ دار، جاگیر دار، صنعت کار کروڑوں کے قرضے معاف کرواکر ”جذبہ لوٹ مار ِوطن“ کا ثبوت دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر کوئی غریب اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانے کی خاطر قرضہ لیتا ہے اور ملکی حالات و غربت کی وجہ سے اس حاصل شدہ قرضے کو واپس کرنے کا اہل نہیں رہتا ہے ،تو اُس غریب کی جھونپڑی بھی نیلام کرواکے اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیتا ہے۔یہاں پر قرضے معاف کروانے کے لیے بھی لینڈ لارڈ اور سرمایہ دار ہونا ضروری ہے۔یہاں بنت حوّا کو برہنہ کرکے سرِ عام نچوایا جاتا ہے،یہاں غریب کی عزت کو سر راہ تار تار کیا جاتا ہے۔ یہاں بڑے زمیندار لوگ ہاریوں کو اپنی نجی جیلوں میں قید رکھ کر ،ان کے ساتھ ہر جائز و ناجائز سلوک کرتے ہیں ،مگر ہمارے اس معاشرے میںکوئی پوچھنے ولا نہیں ہے۔ یہاں پر بڑے بڑے دہشت گرد ثبوت کی عدم فراہمی پر رہا ہوجاتے ہیں اور یہاں پر غریب لوگ معمولی مقدموں میں اپنی زندگی تک ختم کر دیتے ہیں۔ یہ کونسا نظام ہے اس نظام کو کیا نام دیا جائے اگر جنگل کا نظام کہیں تو بھی زیب نہیں دیتا کیونکہ جانوروں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔یہاں پر آنکھوں سے بُرائی دیکھتے ہوئے گواہی دینا بھی عذاب سے کم نہیں۔میں یہاں پر ایک فقیر طبع انسان کے ایک جملے کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ایک اللہ والے شخض سے کسی نے کہا کہ جہنم کی کوئی مثال دنیا میں پیش کریں، تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا،”ہمارے ملک کا نظام جہنم اور ہم جہنمی مخلوق ہیں“ یعنی جہاں ہم رہ رہے ہیں اسے ہم نے خود (مِنی جہنم ) بنا رکھا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا اس جنت نظیر خطے کو ہم جہنم کی خصلت رکھنے والے لوگوں نے اسے اہل کے دنیا کے سامنے جہنم بنا رکھا ہے۔افسوس یہاں ہر زاویے کے طاقتور لوگ اپنے مفادات کے حصول کی خاطر کمزوروں کا معاشی و جانی خون کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے، بلکہ اپنی شان تصور کرتے ہیں۔لگتا ایسا ہے کہ اب ہم انسانوں کو بَلی چڑھاکر رقم بٹورنے میں لگے ہیں۔جبکہ پاکستان کا ہر بچہ اور ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی ہزاروں روپے کا مقروض ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ موجودہ بچہ اور پیدا ہونے والے بچے نے بھی کوئی خرد برد کیا ہے یا اُس نے بھی کوئی قرضہ لیا ہے ؟جو یہ معصوم بھی مقروضوں کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔مقروض قوم کے سربراہان کی عیاشی کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی ہے ۔اگرعیاشی کا اتنا ہی شوق ہے اگر دولت جمع کرنے کا اتنی ہی تمنا ہے، اگر بیرون ممالک میںمحلات اورجائیدادیں بنانے کااتنا ہی طمع ہے تو اپنی محنت کے پیسوں سے بنایا جائے ،نہ کہ حاصل شدہ قرضوں کے پیسوں سے۔یہاں اکثریت ہمارے سیاستدانوں کی ایسی ہے کہ جن کی بیرون ممالک جائیدادیں موجود ہیں۔یہاں پر بجلی ، گیس ، ٹیکس چوری، اور ہر طرح کی کرپشن اس طرح عام ہوچکی ہے گویا کہ ہمارے آئین میں یہ چیزیں شامل ہوں۔اس ملک میں اب یہ دن بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ ذمہ دار ،سرکاری ملازم، یونیورسٹی کے طلبائ، نیوی کے ریٹائرد، جی ایچ کیوں کے بھی ایک آدھ آفیسر دہشت گردوں کی پشت پناہی میں شامل نظر آرہے ہیں۔یعنی یہ لوگ بھی ملک کو توڑنے میں شامل ہیں ۔اب کون رہ گیا ہے ،اس ملک پر رحم کھانے والا؟جو کچھ ہمیں نظر آرہا ہے وہ فقط ” جذبہ لُوٹ مار ِوطن“ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور جذبہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔گزشتہ دنوں گلگت بلتستان اسمبلی میں بجٹ کے حوالے سے سیشن چل رہا تھا، وہاں پر ممبر قانون ساز اسمبلی ”نواز خان ناجی“ نے کہا کہ جب تک جذبہ لوٹ مار ِوطن چل رہا ہے ،ہم کبھی ترقی نہیں کرسکتے ۔کیا تاریخی جملہ کہا ہے نواز خان ناجی نے ۔انہوں نے گلگت بلتستان بجٹ کے حوالے سے بھی ایک اہم بات کہی ۔اُنہوں نے کہا،”آج تک جو کچھ بھی گلگت بلتستان کو ملا ہے ،میں کم یا زیادہ کی بات نہیں کرتا ،جیسا بھی ملا ہے، کیا وہ بجٹ کی رقم پوری دیانتداری اور خلوص سے اس غریب خطے پر خرچ ہوئی ہے؟ اگر سابقہ تما بجٹوں کی رقم دیانتداری سے خرچ ہوئی ہوتی، تو آج گلگت بلتستان سوئیزرلینڈ جیسا بن چکا ہوتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔بس ہر طرف یہاں پر ، وہاں پر جذبہ لُوٹ مارِ وطن ہی نظر آرہا ہے ۔ہماری تنزلی، غربت، کرپشن، دہشت گردی، یعنی تمام برائیوں کی جڑ ہی یہی ہے ۔احساس محرومی کی وجہ سے نئی نئی مشکلات جنم لیتی ہیں۔ لہٰذا خدا را یہ جذبہ لوٹ مار ِوطن بند کیا جائے۔ وہ کونسا ایسا شعبہ ہے، جہاں جذبہ لُوٹ مارِ وطن نظر نہیں آرہا ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں جذبہ لوٹ مارِ وطن تو باقی رہے ،مگر لوٹنے کے لیے کچھ باقی نہ بچے“۔قارئین! ہم سب کا قومی، دینی، اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ہم مل کر اس بےہودہ نظام کی درستگی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں،تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی ہماری طرح مسائل کا شکار نہ ہوتی رہیں۔اس کے لیے چپڑاسی سے لے کر ایوان بالا تک،سرکاری ملازمین ہو ںیا سیاستدان،امیر بالادست طبقہ ہو یا غریب،طالب علم ہوں یا مدرس ،ہم سب نے ملکر اس نظام کو اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔اس کے علاوہ مخلص دانشوروں کی ایک ایسی ٹیم کی ضرورت ہے، جو جذبہ لوٹ مارِ وطن کو روکنے کے لیے ٹھوس بنیا دوں پر کوئی حکمت عملی اپنائیں ،تاکہ غربت اور زندہ رہنے کی خاطر کوئی غریب اپنے بچوں کو فروخت کرنے کے لیے بازار میں کھڑا نہ ہوسکے،کوئی روزگار کی خاطر دہشت گرد نہ بن سکے۔علامہ اقبال کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
(اس سرابِ رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو۔۔ آہ اے ناداں! قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو)

تحریر : یوسف علی ناشاد

  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares
  •  
    8
    Shares
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*