تازہ ترین

چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس کا بڑا مطالبہ،مستقبل کا روڈ میپ بھی پیش کردیا۔

گلگت(ٹی این این)قومی اسمبلی میں دوچار بیروزگاروں کو روزگار دلانے سے گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوسکتا آرڈر 2019 کے نفاذ کیلئے راہ ہموار کیا جارہا ہے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت مکمل متنازعہ حقوق اب گلگت بلتستان کا حق ہے چاہے کشمیر طرز کی صورت میں ہو یا عبوری صوبے کی صورت میں مگر اب کے بار کسی آرڈیننس اور ریفامز کو صوبے کے نام پر مسلط ہونے نہیں دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ قومی حقوق کے حصول کیلئے اس گلگت بلتستان کی پوری قوم ایک پیج پر ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد صوبے کے لولی پاپ کا رنگ پھیکا پڑھ چکا ہے اب اس ڈیمانڈ پر مزید لوگوں کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین گلگت بلتستان کے سیاسی جماعتوں کا کام تھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاسی جماعتیں صرف اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تماشائی بننے کیلئے پوری قوم کا مستقبل داو پر لگارہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے دیگر اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے 17 فروری کو عوامی جلسے کا اہتمام کیا اس طرح کے جلسوں کے ذریعے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کیلئے جدوجہد کو تیز کیا جائے گا۔ اسی طرح عوامی نوعیت کے جلسے گلگت کے بعد دیامر سکردو سمیت دیگر تمام اضلاع میں منعقد کیئے جائیں گے.انہوں نےکہا کہ گلگت بلتستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اب سیاسی جماعتوں کو جو بھی فیصلہ لینا ہوگا بہت ہی سوچ سمجھ کر سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ اب وہ دور نہیں رہا کہ دوچار وفاقی سیاسی پارٹیاں آپس میں باریاں لگا کر مک مکا کریں گے.انہوں نےکہا کہ گلگت بلتستان کو عبوری بنانے کی بات کرنے والے سوچ لیں کیا عبوری صوبے کے بعد گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا کہ نہیں یا پھر سے ایک بار گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے نفاذ اور سبسڈیز کے خاتمے کے ساتھ ملازمتوں میں نچلے سطح تک وفاق سے آنے والے ملازمین کیلئے راہ ہموار کیا جارہا ہے.عبوری صوبہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت با اختیار طور پر ہوگا تو موجودہ وفاقی حکومت کا گلگت بلتستان پر احسان ہوگا لیکن عبوری صوبے کے آڑھ میں استحصال کی صورت میں عوام حساب دینا بہت مشکل ہوگا.لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کو جو بھی سیٹ اپ دیا جائے گلگت بلتستان اسمبلی اپوزیشن سمیت دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر کیا جائے اور اس ضمن میں گلگت بلتستان صوبائی حکومت کی ذمداری زیادہ بنتی ہے فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس بلاکر مشترکہ بیانییے کی تشکیل کیلئے راہ ہموار کیا جائے.انہوں مذید کہا کہ گلگت بلتستان کے تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں جبکہ نچلی سطح تک ملازمین کو وفاق سے لایا جارہا ہے رہے سہے چند اسامیاں ممبران اسمبلی اور اشرافیہ سفارشوں کے نذر ہوجاتے ہیں ٹھیک اسی طرح مائیننگ لیز وغیرہ کیلئے بھی ضروری ہے کہ لوکل کے مداخلت کے بنا لیز دینے سے گلگت بلتستان کے لوکل افراد کا استحصال ہورہا ہے.

  • 71
  •  
  •  
  •  
  •  
    71
    Shares
  •  
    71
    Shares
  • 71
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*