تازہ ترین

جموں وکشمیر حکومت نےخطہ لداخ کو ریاست کے تیسرے صوبے کا درجہ دے دیا ۔

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک/کشمیر میڈیا سروس /ٹی این این)جموں کشمیر حکومت نے لداخ کو ریاست کے تیسرے صوبے کا درجہ دیا گیا ہے۔کمشنر سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی سوگت بسواس کو لداخ صوبے کا پہلا ڈویژنل کمشنر تعینات کردیا گیا ہے۔ وہ تین ہفتے لہہ ہیڈ کوارٹر پر رہیں گے جبکہ ایک ہفتہ وہ جموں میں قیام کریں گے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو ریاستی حکومت کی طرف سے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے۔فیصلہ کی رو سے لداخ صوبے کے لئے صوبائی کمشنر اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدوں کو منظوری دینے کے علاوہ صوبے میں نئے محکموں کے ڈویژن سطح کے عہدوں کی نشاندہی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مختلف محکمہ جات کے صوبائی سطحوں کے سربراہوں کی بھی نشاندہی کرے گی۔ گورنر انتظامیہ کی طرف سے جمعہ کو جاری حکم نامہ میں کہا گیا’’ لداخ خطہ کے لوگوں کے انتظامی و ترقیاتی احساسات کی تکمیل کیلئے سرکار کا یہ فیصلہ دور اندیش ہے،اور اس مسئلے کو کئی پلیٹ فارموں پر زیر بحث لایا گیا،جبکہ لداخ کے لیہہ اور کرگل آزاد پہاڑی ترقیاتی کونسلوں سمیت دیگر کئی جماعتوں کا مسلسل مطالبہ تھا کہ لداخ کو علیحدہ صوبے کا درجہ دیا جائے‘‘۔حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ لداخ ریاست میں سب سے زیادہ وسیع آبادی والا علاقہ ہے اور ریاست کی بلندچوٹیوں پر سطح سمندر سے9800فٹ اونچائی پر واقع ہے،جبکہ جغرافیائی طور پر صوبہ لداخ ریاست کے دور افتادہ خطہ میں شمار ہوتا ہے جہاں پر موسمی حالات کے ساتھ ساتھ پہاڑی و پتھریلے خدوخال ہونے کے نتیجے میں آبادی کے ساتھ کم از کم 6مہینے تک رابطہ منقطع رہتا ہے۔حکم نامہ میں کہا گیا’’فی الوقت صوبہ میں تعمیری و ترقیاتی پروجیکٹوں کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے اور اس طرح یہاں مقامی آبادی کو سخت دشواریاں درپیش ہیں۔جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار خطہ مانا جانے والا لداخ مختلف سطحوں پر نظر انداز ہوتا رہا ہے جن میں لوگوں کے بنیادی مسائل سے عدم توجہی، انتظامی اْمور کے حوالے غفلت شعاری اور حکومتی سطح پر بھی یہاں لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑر ہا ہے‘‘۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ لداخی عوام نے طویل عرصے سے خطہ میں مقامی سطح پر موثر ادارہ جاتی نظم و نسق کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطہ میں ترقی کی رفتار اور منصفانہ بنیادوں پر عوامی شکایات کا ازالہ ممکن ہو، تاکہ یہاں آبادی کو بھی انتظامی و سیاسی سطح پر ہر وقت اعتماد میں لیا جاسکے۔اس سلسلے میں کہا گیا کہ فی الوقت صوبہ میں تمام انتظامی اْمور سے متعلق اختیار ات مرکزی حکومت کو تفویض کئے جاچکے ہیں جس کے لئے یہاں دہائی قبل پہاڑی ترقیاتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حکم نامہ میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں خطہ میں ترقیاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کے لئے لیہہ اور کرگل میں قائم ترقیاتی کونسلوں میں سال 2018میں مزید اختیار ات دئے گئے۔معلوم ر ہے کہ پہاڑی ترقیاتی ہل کونسل لیہہ اور کرگل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لداخ اٹانومس ہل ڈیولپمنٹ کونسل ایکٹ 1997کو سال 2018میں مزید اختیارات فراہم کرنے کے لیے ایکٹ میں مزید ترمیم کی گئی۔حکم نامہ میں کہا گیاُ’’جغرافیائی اعتبار سے نازک مانا جانے والا خطہ لداخ کے لیہہ اور کرگل موسم سرما میں 6مہینوں تک مسلسل بیرون دنیا سے الگ تھلک رہتا ہے جس دوران یہاں کی آبادی کے ساتھ اہم اْمور پر رابطہ قائم کرنے کے لئے صرف لیہہ تک فضائی رابطہ ممکن ہوپاتا ہے‘‘۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران سخت موسمی حالات کے نتیجے میں یہاں کی مقامی آبادی بھی مکمل طور پر باقی دنیا سے رابطہ اْستوار کرنے میں ناکام رہ جاتی ہے۔حکم نامہ کے مطابق’’خطہ کی جغرافیائی اور موسمی حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی ریاستی حکومت نے بالآخر لداخ کو ریاست کے تیسرے انتظامی و مالیاتی صوبے کا درجہ دینے کی منظور ی دی ہے‘‘۔ ریاستی حکومت نے پرنسپل سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، نگرانی اور ترقی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو آنے والے دنوں میں نئے صوبے سے متعلق اہم عہدوں، محکمہ جات کے لیے عملہ کی تعیناتی، اْن کے کردار اور ذمہ داری کے علاوہ محکمہ جات کے قیام اور دفاتر کی تعمیر کے لیے زمین کی نشاندہی کرے گی۔
جغرافیائی اعتبار سے نازک مانا جانے والا خطہ لداخ کے لیہہ اور کرگل موسم سرما میں 6مہینوں تک مسلسل بیرون دنیا سے الگ تھلک رہتا ہے جس دوران یہاں کی آبادی کے ساتھ اہم امور پر رابطہ قائم کرنے کے لیے صرف لییہ تک فضائی رابطہ ممکن ہوپاتا ہے۔اس دوران سخت موسمی حالات کے نتیجے میں یہاں کی مقامی آبادی بھی مکمل طور پر باقی دنیا سے رابطہ استوار کرنے میں ناکام رہ جاتی ہے۔ جبکہ کرگل کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کا ہیڈکوارٹر لہہ میں رکھنا اکثریتی آبادی والے کرگل کے ساتھ ذیادتی ہوگی ۔کرگل کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ہیڈکوارٹر کو باری باری کی بنیادوں پر کرگل اور لہہ میں رکھا جانا چاہئے تاکہ کسی بھی ضلع کے ساتھ کوئی بھی امتیازی سلوک نہ ہو۔ انکا کہنا تھا کہ دراس،زنسکار اورقمری کے لوگوں کولہہ سے سرینگر تک لہہ کے مقابلے میں رسائی حاصل ہیں،جبکہ انتظامیہ کو چاہے کہ وہ کرگل اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ لینا چاہے۔

  •  
  • 217
  •  
  •  
  •  
  •  
    217
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*