تازہ ترین

انقلاب اسلامی ، ہے تو جہانی ہے مگر …

۱۱فروری ۱۹۷۹، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا تاریخ ساز دن ہے ـ یہ انقلاب آج سے ۳۹برس قبل ایران کی سرزمین پر عوامی طاقت سے معرض وجود میں آیا، جس کی قیادت زمانے کی نبض پر ھاتھ رکھنے والے عظیم فقیہ امام خمینی( رح) نے کی آپ کی رحلت کے بعد اس انقلاب کی قیادت رھبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای فرمارہے ہیں اور ۱۱فروری ۲۰۱۹ کو سربلندی اور عزت سے سرشار یہ انقلاب چالیس برس میں داخل ہوگیا ۔
انقلاب سے قبل ایرانی معاشرے کی حالات ناگفتہ بہ ہے اوراسی معاشرے میں امام راحیل بھی اپنی زندگی کے پاکیزہ لمحات گزار رہے تھے ـ جب اس عظیم شخصیت نے دیکھا کہ ایرانی قوم خواب غفلت میں مست ہے، وہ رضاشاہ پہلوی کے مظالم کو اپنی تقدیر کا حصہ سمجھ کر غلامانہ زندگی بسر کررہی ہے ، ایرانی معاشرے میں روز بروز دینی تعلیمات اور احکام قصہ پارینہ کا حصہ بنتے جارہے ہیں ـ استعماری طاقتوں کےاثر ونفوذ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ، آذادی کے نام پر فحاشیت اور بے پردگی عام ہوتی جارہی ہے ،اقدار انسانی مسخ ہوکر بہیمت کی صفات انسانوں میں نشونما پارہی ہیں ، لوگ دین اور سیاست کے اجتماع کو محال سمجھ رہے ہیں ، دینی مدارس اور یونیورسٹی کے طلباء ایک دوسرے سے روز بروز دوری اختیار کرنے میں اپنی عافیت تلاش کررہے ہیں ، مسجدیں ویران جب کہ لہو لعب کی محفلوں میں لوگوں کو جگہ نہیں مل رہی ہے ، نیک اور صالح افراد کی حوصلہ شکنی جب کہ بدکردار اور برے لوگوں کی خوب حوصلہ افزائی ہورہی ہے، ملک کے جوانوں کو اپنی صلاحتوں کے بل بوتے پر کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں مل رہا ہے ،ملک میں ناانصافی کا دور دورہ ہے، غریب غریب تر اور امیر امیرتر ہوتے جارہے ہیں ، کمزور اور نادار طبقے کا کوئی پرسان حال نہیں ، ایران کی تیل کی پوری ثروت امریکہ اور اس کے ہم نوالوں کی جیب میں جارہی ہے ،ایرانی قوم پر مسلط رضا شاہ پہلوی امریکہ کے اشارے سے سرمو اختلاف کرنے کی جرات نہیں رکھتے ، وہ امریکہ کے غلام مطلق بنے ہوئے ہیں، اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی عیاشی کی خاطر پورے ملک کی ثروت پر استعماری طاقتوں کی اجارہ داری قائم کررکھی ہے اور پورا نظام مملکت کی زمام امریکہ کے ھاتھ میں دے کر اسے مختار کل بنایا ہوا ہے تو آپ (رح) نے اپنے جد بزرگوار حسین ابن علی (ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رضا شاہ پہلوی کی ظالم سلطنت کے خلاف آواز حق بلند کی ایرانی عوام کو شعور دلایا ـ ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی کہ اسلام میں ظلم کرنا بھی گناہ ہے اور ظلم سہنا بھی ـ ۔
امام خمینی رح) نے ایرانی عوام اورخواص دونوں کو یہ باور کروایا کہ رضا شاہ پہلوی ہمارے وقت کا یزید ہے، جس کے خلاف قیام کرنا ہمارے اوپر واجب ہےـ جب تک اس فاسد نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے تب تک ایرانی عوام کو سکھ کا سانس لینا ممکن نہیں اور فرمایا رضا شاہ کی سلطنت کے زیر سایہ بسر کی جانے والی زندگی ذلت ہے بلکہ موت ہے اور یہ سید الشھداء حضرت امام حسین (ع)کی منطق کے برخلاف ہے ،ان کی منطق یہ تھی کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہےـ عزت کی راہ میں مرنا موت واقع ہونا نہیں بلکہ مرنے والا حیات جاودانہ کا مالک بن جاتا ہے اور اس کے برعکس ذلت آمیز زندگی زندگی نہیں بلکہ حقیقت میں وہ ابدی موت ہے جس کے بعد زندگی کا تصور نہیں ـ۔
اس میں شک نہیں کہ انقلاب کربلا کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا انقلاب وہ منفرد انقلاب ہے جس کی نظیر آج تک کرہ ارض پر دکھائی نہیں دیتی ـ یہ دنیا کی عیاشی میں مست ظالم رضا شاہ پہلوی کے مظالم سے تنگ آکر ایرانی عوام کے اتحاد واتفاق کی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہوا ـ جس کی آبیاری شھداء کے مقدس لہو سے ہوئی ـ اس مقدس تحریک کو مستحکم کرنے کے لئے ایرانی قوم نے پوری جدوجہد کی جس کے نتیجے میں سنہ ۱۹۷۹ کو ایران کی سرزمین پر انقلاب کا سورج طلوع ہوا ، امام خمینی کو ایران میں نظام حکومت اسلامی کی بنیاد رکھنے میں کامیابی ملی اور ایرانی قوم کو عادلانہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ عزت اور سربلندی سے جینے کا موقع ملا ـ امیر اور غریب کی تفریق مٹ چکی ، طبقاتی نظام کا شیرازہ بکھیر چکا ـ ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اپنے بلند وارفع اہداف کے پیش نظر ایران کی حد ہرگز محدود نہ رہا بلکہ قلیل مدت میں ہی گلاب کی خوشبو کی طرح اس کی خوشبو سے دنیا کے مختلف ممالک معطر ہوئے ـ بدون تردید اسلامی انقلاب مستضعفین جہاں کے لئے منارہ نور ثابت ہوا اور اسی کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے مستضعفین عالم ظلم وستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ، جس کی مثال یمن، بحرین، کشمیر شام سمیت عربی وغیر عربی ممالک میں دیکھی جاسکتی ہے ـ انقلاب اسلامی ایران کو آئیڈیل قرار دے پوری دنیا میں آج کمزور طبقے نظام آمریت شہنشاہیت اور نظام ظلم واستبداد کو زمین بوس کرنے کے لئے تحرکیں چلارہے ہیں ، مگر بعض مغرض افراد حقائق سے چشم پوشی کرکے اس انقلاب کو فقط ایک مکتب یا ایک ملک میں محصور ومحدود کرنے کی سعی لاحاصل کرکے آسمان پر تھوکا کے مصداق قرار رہے ہیں ـ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب اسلامی جہانی اور عالمی ہے ـ اس کے ثمرات سے پوری انسانیت مستفید ہورہی ہے ، جس پر بہترین گواہ امام راحل کا وصیت نامہ اور ۳۹ برس میں حکومت اسلامی ایران کی عملی کارکردگی ہے ـ اس پورے عرصے میں ایران کی قیادت اور حکومتی مسؤولین نے اتحاد مسلمین کے استحکام کے لئے بے نظیر اقدامات کیے ـ استعماری طاقتیں خصوصا شیطان بزرگ امریکہ اور اس کا ہم نوالہ رجیم اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور پریپیگنڈوں کو ناکام بنانے کے لئے سب سے ذیادہ کردار ادا کیا اور کررہے ہیں ـ ملت مظلوم جہاں خصوصا ملت مظلوم فلسطین یمن اور کشمیر کی بھر پور حمایت کررہے ہیں ـ۔
انقلاب اسلامی جہانی ہونے کو ذیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے لئے بین الاقوامی حوادث کے متعلق نظریہ دینے والے نظریہ پردازوں نے انقلاب اسلامی کے حوالے سے جن نظریات کا اظہار کیا ہے انہیں ضرور پڑھیں بطور نمونہ اس ویب سائٹ http://www.hajij.com/ur/ethnic-and-morality/imam-khomeini/item/2063-1392-12-25-11-46-56 پر موجود جعفری صاحب کے مقالے کا ایک حصہ نقل کررہاہوں ملاحظہ ہو
” ایران میں امام خمینی کی حکومت کے آغاز کے ساتھ اسلام نے ایک نئی زندگی کا آغاز کر لیا جس نے بہت مختصر وقت میں عالمی سطح پر اپنے ایسے سیاسی اور ثقافتی آثار و برکات نچھاور کئے جن کی ہر گز پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی تھی”۔(ماہنامہ اسلام و غرب، شمارہ بہمن و اسفند٧٨ )
” اسلامی انقلاب اور اس کے رہبر( امام خمینی) بے شک اسلام کو نئی زندگی دینے والی تحریک کے موجد ہیں جنہوں نے دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی اسلامی ہویت اور شخصیت کو دوبارا حاصل کرنے کا سلیقہ سکھلا دیا۔ یہ تحریک قومیت سے بالاتر اثر و رسوخ کی حامل ہے”۔ ( پروفیسر کارسٹن کوپلر، شکل اسلام، ص٦٧)
امام خمینی نے اسلامی انقلاب کے ذریعہ نہ صرف ایرانیوں اور مشرقی وسطی کو بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنا عاشق بنا دیا”۔ ( گراہام فولر امریکی، قبلہ عالم، جیوپولیٹیک ایران، ترجمہ عباس مخبر، ص١١١)
جس طریقہ سے امام خمینی نے ایرانیوں کی زندگی کو معنی اور مفہوم دیا ہے اسی طریقہ سے کروڑوں مستضعف انسانوں کو زندگی کی امید دی ہے ” (فتحی شاقی، تحریک فلسطین کا رہبر، انتفاضہ و طرح اسلامی معاصر، ص٨٧)
آج اسلامی انقلاب کے آثار و برکات ایرانی باڈر سے باہر نکل گئے ہیں اور مشرق وسطی میں سب سے بڑا سیاسی اور اسلامی تحریکوں کا محرک اسلامی انقلاب ہے”۔ ( ڈاکٹر ماروین زونیس، امریکہ یونیورسٹی کا استاد، رسالت نیوز اینجسنی کو انٹرویو دیتے ہوئے، ٧٩،١١،١٧)
انقلاب امام خمینی، مسلمان قوموں کو متحد کرنے کی غرض سے ان کے اندر اسلامی بیداری کی لہر پیدا کرنے میں سب سے زیادہ موثر ثابت ہوا ہے ” (شیخ عبد العزیز عودہ، )
آج شمال افریقہ سے لے کر ایشیا کے جنوب مشرق تک تمام اسلامی ممالک میں اسی انقلاب کی وجہ سے اسلامی بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر آئے دن اس کے طرفداروں میں اضافہ ہوتا چلا جا ر ہا ہے”۔( پیتر۔ ال۔ برگر، معروف امریکی سوشیالیسٹ، افول سکولاریزم، ترجمہ افشار امیری، ص٢٣)
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے فلسطینی انقلاب اور عوام پر بہت گہرا اثر ڈالا” ۔( شیخ عبد اللہ شامی، تحولات انقلابی در ایران، جمیلہ کدیور، پایان نامہ کارشناسی ارشد، ص١٤٢)
اور فلسطینی عوام نے یہ احساس کر لیا کہ اسرائیل کو شکست دینا ممکن ہے”۔( فتحی شقاقی، مذکورہ حوالہ)
اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران ایک خاص مکتب وملک سے مخصوص ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے اس حقیقت کو ہر غیر متعصب انسان نے تسلیم کیا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران جہانی ہے کسی مخصوص مکتب فکر سے ہر گز مختص نہیں ـ ختم کلام کے لئے علامہ اقبال رح) کا یہ حقیقت پر مبنی خوبصورت شعر موزون ہے

تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

تحریر: محمد حسن جمالی

  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares
  •  
    5
    Shares
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*