تازہ ترین

یکجہتی کے ساتھ یوم حقوق منانے کا منطق کیا تھا۔۔۔

گزشتہ دنوں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی و کابینہ کے بعض اراکین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کو جب بھی حقوق ملنے کی باری آتی ہے تو کشمیری قیادت روڑے اٹکاتی ہے اور حقوق کے رستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے. پریس کانفرنس میں مقبوضہ کے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی بھی کی گئی اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا لیکن یکجہتی کے ساتھ یوم حقوق گلگت بلتستان منانے کا بھی اعلان کیا گیا بہ ظاہر تو اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی مگر یہ پریس کانفرنس غلط وقت پر کی گئی اور اس کا منفی پیغام گیا. یہ امر انتہائی نازک ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے یہ معاملہ ریاست کیلئے موت اور زندگی کا ہے. یکجہتی کشمیر ایک قومی بیانیہ ہے جس پر ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہیں. کشمیر سے پاکستان کا رشتہ نظریے کا اور روحانی ہے ہندوستان چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز کمزور ہو اس لئے آئے روز مقبوضہ علاقوں میں ہندوستانی افواج ظلم کی تمام حدیں پار کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب جدوجہد آزادی کی تحریک کو دبانے کیلئے ہر محاذ پر ہندوستان منظم طریقے سے کام کر رہا ہے ایسے میں ہماری صفوں سے یوم یکجہتی کے موقع پر مشکوک قسم کا بیانیہ سامنے آنا کسی طور جائز نہیں ہے حالانکہ گزشتہ دنوں ہونے والی پریس کانفرنس میں اراکین اسمبلی کی نیتیں ٹھیک ہوسکتی ہیں لیکن اس کا پیغام انتہائی بھیانک نوعیت کا گیا ہے جس کا ازالہ بہت ضروری ہے. کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دنیا کا کوئی بھی مہذب انسان رد نہیں کرسکتا کیونکہ اظہار رائے کی آزادی اور حق خود ارادیت عالم انسانیت کا چارٹر ہے اور دنیا میں مقیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے. ہندوستان نے گزشتہ بہتر برسوں سے ان سے اظہار رائے کی آزادی چھینی ہے اور انہیں حق خود ارادیت سے بھی تاحال محروم رکھا ہے. آزادی کی یہ تحریک انسانی ہے اور انسانی بنیادوں پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے. کشمیری جس طرح جینا چاہتے ہیں وہ ان کا حق ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں نے جو جواز کشمیریوں کو دیا ہے ان پر عملدرآمد کرنا وقت کا تقاضا ہے. آج مقبوضہ کشمیر کی گلی کوچوں میں نوجوان اپنے ہاتھ میں پاکستان کا پرچم تھامے سفاک ہندوستانی فوج کے سامنے برسر پیکار ہیں اور اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں ایسے عالم میں مسئلہ کشمیر پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ اور مرکز گریز پالیسی و منتشر موقف ریاست کی جڑوں کو کمزور کرنے کی مترادف ہے اور گلگت بلتستان کی سیاسی محرومیوں کو اس دن سے منسوب کرنا بھی انتہا درجے کی سطحی اپروچ ہے. گلگت بلتستان کی عوام نے ڈوگرہ سے آزادی بھی اس نظریے کی وجہ سے حاصل کی تھی جس نظریے کے تحت پاکستان وجود میں آیا اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ وابستگی بھی اس نظریے کی پرچار ہے.اس میں دو رائے نہیں کہ گلگت بلتستان کی سیاسی ارتقا کی پختگی اور ریاست کے مرکزی ایوانوں میں نمائندگی بھی وقت کا تقاضا ہے یہ کام بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا مقبوضہ کے نہتے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کا ہے مگر دونوں حوالوں کو یکجا کر سوچ کو منتشر اور مبہم کرنا نہ تو گلگت بلتستان کی خدمت ہے اور نہ ہی مقبوضہ کے مسلمانوں سے اظہار محبت ہے. یہ وہ کنفیوژن ہے جس پر گلگت بلتستان کی عوام نے یوم حقوق گلگت بلتستان والی بیانیہ کو آج مسترد کرتے ہوئے گلگت بلتستان بھر کے 10 اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور مقبوضہ کشمیر کے بے یارو مددگار مسلمانوں کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستانی بربریت کے خلاف نعرے بازی بھی کی. گلگت میں فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان کی قیادت میں یکجہتی ریلی نکالی گئی جس میں خطے کی تمام سیاسی،مذہبی اور سماجی تنظیموں نے شرکت کی. ریلی میں حکمران جماعت کے ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان، مجلس وحدت المسلمین کے رکن اسمبلی رضوان پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن جاوید حسین اور تحریک اسلامی کے اسکندر خان کے علاوہ ہزاروں مختلف جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی. اسی طرح بلتستان بھر میں اور ضلع دیامر میں بھی یوم یکجہتی کو بھر پور انداز میں منایا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوئی کہ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ مسئلہ کشمیر کی نزاکتوں سے واقف ہے اور ریاستی بیانیہ کے ساتھ کھڑا ہے. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشمیری لیڈرشپ گلگت بلتستان سے مخلص نہیں ہے اسلئے ہمیں بھی کشمیریوں کی دہلیز تک جانے کی بجائے گلگت بلتستان میں بیٹھ کر مقبوضہ کے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کرنی چاہئے. یہ یکجہتی آزاد کشمیر کی قیادت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے مظالم کے خلاف ہے اسلئے یہ منطق نہیں بنتی کہ کشمیری لیڈرشپ کے دہرے پن اور منافقت کا غصہ ہم مقبوضہ کے مسلمانوں پر اتار دیں۔
تحریر: فیض اللہ فراق

  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares
  •  
    6
    Shares
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*