تازہ ترین

سکردو حسین آباد نوجوان تشدد کیس،واقعے کا افسوناک پہلو بھی سامنے آگیا، کیس کو دبانے کا خدشہ۔

سکردو(ٹی این این) گزشتہ روز سکردو کے ایک مقامی اخباری رپورٹر کی جانب سے ایک نوجوان کے تشدد زدہ تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ بتایا گیا کہ اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے آبائی گاوں کے پیش امام نے اُن کے اوپربلاوجہ تشدد کی اور قتل کی دھمکی دی۔ اس خبر کے دوسرے ہی روز مذکورہ شخص نے محمد تقی ولد قربان نےسکردو حسین آباد تھانے میں درخواست دائر کردی جس میں کہا گیا کہ پیش امام سید مظاہر حسین اور انکے بیٹوں نے بلاوجہ ان کو گھر سے اٹھا کرلے گئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک لوہے کے راڈ اور زنجیروں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اُن سے زبردستی بیان دلوایا اور میڈیا یا پولیس کو اطلاع دینے کی صورت میں قتل کرنے اورخاندان کو ختم کرنے کی دھمکی دی۔اس واقعے کی خبر سوشل میڈیا کے بعد مقامی اخبارات میں بھی شائع ہوئی اور گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے سخت نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔
دوسری جانب اس حوالے سے حسین آباد کے پیش امام آغا مظاہر کی جانب سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا البتہ ذرائع سے خبر ملی ہے کہ مذکورہ شخص اُس عورت کی قریبی رشتہ دار ہے اور آغا مظاہر نے اُس بیوہ عورت سے نکاح کی ہوئی ہے لیکن شہید کے وارثت اور فنڈز میں بچوں کے شرعی حق کے مطالبے پر اُس عورت نے آغا مظاہر کے ساتھ ملکر مذکورہ شخص کو گھر پر بُلا کر عزت پر ہاتھ لگانے کا الزام لگایا اور بدترین طریقے سے تشدد کا نشانا بنایا۔ یہ گاوں چونکہ فدا ناشاد کا آبائی علاقہ ہے لہذا کہا یہ جارہا ہے کہ ناشاد چونکہ اس قسم کے معاملے کو دبانے میں پہلے ہی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اس بار بھی عہدے کا ناجائز استعمال کرکے معاملے دبا سکتا ہے ،لہذا اس حوالے سے چیف سیکرٹیری اور آئی جی گلگت بلتستان کو براہ راست مداخلت کرکے اس معاملے کے اصل گناہگار کو سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔

  •  
  • 301
  •  
  •  
  •  
  •  
    301
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*