تازہ ترین

گلگت بلتستان میں بجلی کے متبادل ذرائع ۔۔

گلگت بلتستان ملک کا وہ غیر اعلانیہ صوبہ ہے جہاں سال کے بارہ مہنیے بجلی کی لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر ہوتی ہے۔حالیہ دنوں میں سکردو اور اس کے گردو نواح کی بد ترین لوڈشیڈنگ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تک جا پہنچی ہے۔نہلے پہ دہلا یہ کہ سکردوشہر میں جو تھوڑی بہت بجلی پیدا ہو رہی ہے وہ سکردو کے عوام کی بجائے خواص کے لئے ’’ سپیشل لائن ‘‘ کے نام سے دی جارہی ہے۔پچھلے دنوں وزیر برقیات و سپیکر جی بی اسمبلی کو اخبار میں ایک میگا واٹ کے نئے جنریٹر کی تنصیب کے دوران فوٹو سیشن کرتے دیکھا گیا تھا۔خدا جانے اس نئے جنریٹر سے کب اور کتنی بجلی پیدا ہو گی۔محکمے کے حال احوال جاننے والے کہتے ہیں کہ جنریٹر سے بجلی پیدا کرنا اس کے دیگر اخراجات کی وجہ سے محکمہ برقیات کے لئے انتہائی مہنگا پڑے گا ۔کہیں یہ کوشش بھی رائیگاں نہ جائے۔صوبائی حکومت کو روز اول سے ہی بجلی کے پیدا وار میں اضافے کے لیے سوچنا چاہیئے تھا لیکن ہمیشہ کی طرح توجہ اس وقت دی جاتی ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔پھر بھی بہتری کی گنجائش نکالتے ہوئے خامیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔اگر بجلی کے دیگر ذرائع ڈھونڈے جائیں تو بہت قلیل مدت میںبجلی کے بحران پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
بجلی کی پیداوار کے لیے سب سے آسان اور سستا ذریعہ پن بجلی گھر ہے۔باوجود اس کے کہ قدرت نے گلگت بلتستان کو وافر مقدار میں پانی کی دولت سے نوازا ہے ،اس طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔چھوٹے چھوٹے پن بجلی کے یونٹس نصب کر کے سینکڑوںمیگاواٹ بجلی آسانی سے پیدا کی جاسکتی ہے مگر ان چھوٹے یونٹوں کے قیام میںبرقیات سے منسلک افراد کو شاید منصوبے کے کمیشن نہ ملیں لہذاٰاس طرف کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔
دنیا میں جہاں کہیں بھی بجلی کا بحران یا فقدان دیکھنے میں آیا،پن اور تھرمل بجلی گھر کے ساتھ ساتھ دیگر ذرائع بھی استعمال میں لائے گئے۔مثلاًکئی ممالک بائیو فیول،قدرتی گیس، بائیو ماس انرجی ،جیو تھرمل پاور ونڈ انرجی اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرتے ہوئے بجلی کے بحرانوں پر قابو پاتے رہے ہیں ۔ایک ہم ہیں جو پن بجلی اور تھرمل بجلی سے آگے سوچنے کے لئے تیار ہی نہیں۔امریکہ کے ادارہ برائے اطلاعاتی توانائی کے مطابق سب سے آسان اور کم لاگتی توانائی کے منصوبوں کے لئے شمسی توانائی اور ونڈ انرجی ہے۔ونڈ اور سولر انرجی کے یو نٹس ہمارے اونچے پہاڑوں پر جہاں سورج کی تیز شعاعیں اور تیز ہوا سال کے بارہ مہینے چلتے ہیں،پر آسانی سے انسٹال کی جاسکتی ہیں۔
ہماری رائے میں اگر محکمہ برقیات سنجیدگی سے سوچے تو مستقبل قریب میں نئی ٹیکنالوجیز کو استعمال میں لاتے ہوئے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے افراد کو سوچنا ہو گا اور بجلی کے بحران سے نبٹنے کے لئے باقاعدہ ایک ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لاتے ہوئے سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے ملک میں شروع سے یہ قاعدہ رہا ہے کہ بہت دیر سے مفاد عامہ کے پروگرام شروع ہوتے ہیں۔بروقت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے پراجیکٹ ناکامی کا شکار ہوتے ہیں اورقومی خزانے کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اب تو عوام اپنے طور پر بھی بجلی حاصل کرنے کے ذرائع ڈھنونڈنے لگی ہے۔بڑی تقریبات میں استعمال کئے جانے والے جنریٹر اب گھریلو صارفین کی ضرورت بھی بنتی جارہی ہے لیکن ماحول دوست یو پی ایس زیادہ سہولت فراہم کر رہی ہے ۔اس کے علاوہ اب سول پینلز کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔تاجر حضرات عوام کی اس کمزوری سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہے اور چائنا کے دو نمبر کے سولر پینلز مہنگے داموں بیچتے ہوئے گاہکوں کو لوٹ رہے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ ان اشیاء کی کوالٹی چیک کرتے ہوئے ان تاجروں کو بھی لگام دے۔
بجلی کے ساتھ ساتھ پورے گلگت بلتستان میں پینے کے پانی کا مسئلہ بھی روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔صاحب حیثیت افراد تو سیف ڈرنکنگ بوٹل واٹر استعمال کرتے ہیں لیکن عوام کی کثیر تعداد عام نلکے کا پانی ہی استعمال کرتی ہے۔سکردو شہر میں چند واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب بھی ہیں لیکن ان میں سے اکثر خراب ہیں۔جو کام کر رہے ہیں انہیں بھی سردیوں میں بند کیا جاتا ہے۔صاف پانی پینا ہر شہری کا حق ہے۔اسے بھی کئی مشکلات کا شکار کرنا سمجھ سے بالا ہے۔حکومت وقت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلا تفریق پانی،بجلی اور زندگی کی دیگر اہم سہولیات بلا تفریق فراہم کرے ۔ایک رف سروے کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال سکردو میں زیادہ تر مریض معدہ ،جگر اور پیٹ کے دیگر امراض کا شکار ہوتے ہیں جولامحالہ گندے پانی کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔عوام گندے پانی کے مضر اثرات سے اتنے واقف نہیں۔ایک لحاظ سے عوام کی بے خبری بھی ایک نعمت ہے ۔اگر وہ اس معاملے کی نزاکت کو بھانپ لیں تو ان میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ خرید کر پانی پی سکیں ۔ پینے والے پانی کے اثرات سوچتے ہوئے وہ ذہنی طور پر بھی بیمار ہو ں۔پانی کا ذکر تو بر سبیل تذکرہ آگیا۔مختصر پیرائے
میں کیا عرض کروں۔علاقے میں گندے پانی سے انسانی صحت پر اثرات پر تو پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
آخر میں ڈپٹی کمشنر نوید احمد کو صد آفرین اور مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ سالہا سال سے سرکاری کوارٹرز پر قابض مافیا سے نجات دلانے کے بعد ضرورت مند اور غریب ملازمین کو بھی کوارٹرز کا حصول ممکن بنایا گیا۔اللہ انہیں مزید ہمت،طاقت اور نیک ارادوں میں استقامت عطا فرمائے۔آمین
تحریر : نبی وانی
(فیڈ بیک کے لئے nabiwani8@gmail.com)

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*