تازہ ترین

تاریخ عدل گلگت بلتستان کا فیصلہ سنائے گی۔۔

تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا، یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔ ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہئے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں، تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔ گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والی چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکی ہے، رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اُس وقت کے پادری غلط۔ برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔تاریخ میں حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کی گردن پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون ہے جبکہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں، حجاج کو شکست ہو چکی ہے ابن زبیرؓ فاتح ہیں۔ جس ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر مروایا اس کے مرنے کے بعد ایک جیسی سو قبریں کھو دی گئیں اور کسی ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کس قبر میں دفن ہے، یہ اہتمام اس خوف کی وجہ سے کیا گیا کہ کہیں لوگ اُس کی قبر کی بے حرمتی نہ کریں، گویا تاریخ کا فیصلہ بہت جلد آگیا۔آج سے ایک سو سال بعد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا، تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے، آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے. کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے، کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے، کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان، کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہئے لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔ اآٓج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا، مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بے رحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہوگا۔ سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بے رحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا، کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم حجاج کی طرح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے، کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے….. کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا۔۔!کیوں نہ پھر ہم باشندگان گلگت بلتستان ماضی کی داستانوں کے منتقی انجام کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان آئینی حثیت تعین معملے کو عدل تاریخ کو سونپ دے ؛؛؛؛ یقیننا عدل تاریخ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کرے گی اور میرےخیال سے ہمیں کرنا بھی یہی ہوگا علاقائی تشخص کو منوانے کے لئیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے معاشرے کو کن اقدار میں پیرویا ہے جدوجہد بھلے وہ علاقائی تشخص کو منوانے یا پھر آفراد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنوانے پر ہوں اسکی کامیابی کے لئیے لازم ہیکہ سب سے پہلے معاشرے کو بہتر اقدار میں تعمیر کیا جائے دنیا بھر میں اب ممالک کے آپس میں تعلقات قائم کرنے میں معشیت کا کردار سب سے اہم ہے؛؛؛میری نظر میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی معشیت ہی ہیں؛؛؛ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاشی نظام میں ہم کہا کھڑے ہیں؛؛؛ سی پیک جیسے خالصتا تجارتی منصوبے کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے مستفید ہونے کے لئیے ہم کتنے تیار ہے آیا کیا حکومتی سطح پر اور تاجر تنظیموں نے اس ضمن میں کتنی تیاری کر رکھی ہے؛؛؛؛ہمیں اس ضمن میں عام عوام تک آگاہی پہنچانی ہوگی تاجر تنظیموں اور حکومت وقث کو سی پیک مہم سے عام عوام کیسے معاشی طور پر مستفید ہوسکتی ہے اس حوالے سے عام آفراد کو آگاہی دینا ہوگی۔دوسرا جو سب سے بڑا مسئلہ ہمیں درپیش ہے وہ نسل نو کے روشن محفوظ مستقبل کو یقینی بنانا مجھے حیرت ہوتی ہیں ان کرداروں پر جو نسل نو کے مستقبل کو پس پشت رکھ کر پانچواں صوبہ منوانے یا پھر آزاد کشمیر طرز جیسا نظام کے حصول میں مگن ہیں؛؛؛کسی بھی معاشرے یا خطے کی اہمیت کو دنیا بھر میں تبھی منوایا جاسکتا ہے جب اس معاشرے کے نوجوانوں نسل نو کی تربیت معاشرتی اقدار کیمطابق کی جائے بہتر معاشرتی اقدار ہی نسلوں کو باعمل آفراد کا روپ بخشتے ہیں اور انہیں علوم و فنون کی طرف راغب رکھا جائے انہیں معیاری علم کے حصول کے تمام تر مواقع بآسانی فراہم کئے جائے؛ ایسے ہی معاشرے کے یہی نوجوان پھر اپنی صلاحیتوں سے پوری دنیا میں اپنے خطے کو نمایاں مقام دلوا سکتے ہے اور یہ سب ہم موجودہ متنازعہ حثیت میں رہ کر بھی کر سکتے ہے اسکے لئیے لازم نہیں کہ ہم سب سے پہلے آئینی یا آزاد کشمیر طرز کا نظام کے حصول میں جت جائے۔ ہم بحثیت آفراد معاشرتی پسماندیوں کے شکار ہیںسیاسی نظام سیاسی کردار سہولت کاری میں مگن دین کے معلم قوم کی اسلام کے روشن راہنما اصولوں کیمطابق تربیت سازی سے انسان دوست معاشرہ تشکیل دلوانے کے بجائے جزباتی انتشاری معاشرہ بنانے میں مصروف عمل دیکھائی دے رہے ہیں قوم پرست یک نکاتی بہترین نظرئہ کے پیروکار آکابرین انفرادیت کے شکار قلمکار قوم کی راہنمائی کرنے کے بجائے سرمایہ دارانہ سوچ کے حصار میں قید صحافت کو سرمایہ داروں کے منشاء کیمطابق فروغ دینے میں مشغولسی پیک تجارت سے علاقائی روایات رواج کلچر کو لاحق سنگین خطرات سے محفوظ رکھنا اہل ادب کے زمہ ہے مگر اہل ادب عشقیہ شاعری داستانوں میں گم؛؛سنو ؛؛؛؛؛ باشندگاں گلگت بلتستان؛؛جاگ جاوں اب عملا جاگ جاو اپنی توانائیوں کو صلاحیتوں اور وقت کو آئینی صوبہ یا آزاد کشمیر طرز نظام کے حصول پر صرف کرنے کے بجائے اسے تاریخ کی عدالت میں پیش کرکے موجودہ اسی متنازعہ حثیت میں ہی رہ کر اپنا وقت اپنی توانائیوں کو اپنی نسل نو کی تربیت کے لئیے وقف کردے ملکر معاشرے کی ازسرنو تعمیر کا آغازکرے۔یاد رکھوں ہم میں سے ہر ایک کا زکر “تاریخ” ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے سامنے کرے گی اور عدل تاریخ صرف سچ بیان کرتی ہے صرف سچ وقت ابھی آپکی دسترس میں ہے اب یہ آپ پر منحصر ہیکہ آپ نسلوں کے معمار بنتے ہیں یا انکے مجرم۔۔۔۔۔

تحریر : علی شیر
روشن دریچے

  •  
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*