تازہ ترین

سیاحتی خطہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے مواقع اور درپیش مسائل پر خصوصی ادارتی رپورٹ۔

سکردو(ٹی این این خصوصی رپورٹ موسیٰ چلونکھا )حکومت پاکستان نے پورے ملک میں سیاحت کی فروغ کیلئے جو اقدامات اٹھایا گیا ہے وہ قابل تعریف اقدام ہے اور ساتھ ہی پاکستان کے دلکش گلگت بلتستان سیاحت کے لئے کافی مقبول ترین علاقہ ہونے کی وجہ سے پورے دنیا بھر میں اس کا الگ مقام حاصل ہے۔ کیونکہ دنیا کے بلند ترین 14 ہزار چوٹیوں میں سے پانچ گلگت بلتستان کے میں موجود ہیں ان میں چار بلتستان میں ایک دیامر میں موجود ہے اور ہر سال ہزاروں کوہ پیما ان بلند بالا پہاڑوں کو سر کرنے کیلئے گلگت بلتستان کا روخ کرتے ہیں اور ہزاروں کوہ پیماؤں کو پہلے سابقہ دور حکومت میں ویزہ پالیسی سخت ہونے کی وجہ سے ان پہاڑوں کو سر کرنا دور کی بات قریب تک نہیں پہنچ نہیں سکتا تھا ۔ سابقہ حکمرانوں نے سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیا گیا بلکہ سیاحت کو نقصان پہنچانے کیلئے ویزہ پالیسی اور گلگت بلتستان کا الگ این او سی کے قانون نے گلگت بلتستان جیسا دنیا کا خوبصورت ترین خطہ غیر ملکی سیاح کی پہنچ سے دور رہے۔ سابق دور حکومت میں اہم صنعت کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے ٹور آپریٹرز کو سیاحت کے کاروبار کو خیرباد کہنے پر مجبور کیا جارہا تھا اور گلگت بلتستان کے سینکڑوں ٹور آپریٹرز نےکمپنیاں بند کر دی تھی۔
موجودہ حکومت نے ویزہ پالیسی کو بہت آسان بنایا گیا ہے اب لگتا ہے کہ غیرملکی سیاح پاکستان کا رخ کرینگے پاکستان میں جو بھی غیر ملکی سیاح آتا ہے اس میں سے اسی فیصد سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں گلگت بلتستان کو سیاحت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے بہت ہی زیادہ نعمتوں سے نوازا گیا ہے گلگت بلتستان کی خوبصورت وادیوں بلند بالا پہاڑ جھیلوں اور صاف شفاف گلیشئرز دنیا بھر کے سیاحوں کا توجہ کا مرکز ہیں مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر شعبے میں مقابلے کا رحجان بھی ہیں مگر افسوس سیاحت کے شعبے میں پاکستان بھارت سے مقابلہ نہیں کیا جارہا ہیں کیونکہ لداخ جو بھارت کا حصہ ہے لداخ کا بارڈر بلتستان کے ساتھ لگا ہوا ہے اور لداخ میں بھارت نے سیاحت کی فروغ کیلئے جو اقدامات اٹھائی گئی ہیں وہ مثالی ہے لداخ میں ہر سال پانچ لاکھ کے قریب غیر ملکی سیاح اتے ہیں اور گنجائش سے زیادہ سیاح انے کی وجہ سے لداخ میں کئی کئی دن تک سیاحوں کیلئے انٹری بند کیا جاتا ہے اور بھارت نے اپنے حصے میں جو سیاچن گلیشیر موجود ہیں وہاں تک سیاحوں کو جانے کی اجازت دیا ہوا ہے اور بھارت نے کرگل کے آخری بارڈر تک سیاحوں کو جانے کی اجازت دیا ہوا ہے۔ دوسری طرف بھارت کا آخری گاوں تھنگ جو لداخ میں ہیں وہاں تک سیاحوں کو جانے اجازت ہے جہاں سے بلتستان کا آخری گاوں فرانو جو ضلع گانچھے میں موجود ہے وہاں تک سیاح آکر پاکستان کے گاوں کو دیکھ چلا جاتا بہت خوش ہوکر کیونکہ سیاحوں کو دوسرے ملک کا بھی دیدار نصیب ہوتا ہے اور قابل افسوناک بات یہ ہے کہ سیاحوں کو دور کی بات بلتستان کے مقامی لوگوں بارڈر سے پچاس کلومیٹر دور روکا جاتا ہے۔ سیاچن گلیشیر دیکھنے کا تمنا ملکی سیاحوں اور غیر سیاحوں کے علاوہ مقامی افراد کو بھی ہوتا ہے ان کو بھی سیاچن گلیشیر تو دور کی بات خپلو گاوں سےآگے جانے کی اجازت نہیں ۔ اور دنیا کا جنت کا ایک ٹکڑا گلگت بلتستان میں موجود ہیں منی مرگ دومیل اور شنگوشگر اور ضلع کھرمنگ کے لائن آف کنٹرول کے خوبصورت وادیوں کی کی طرف سیاح تو دور کی بات گلگت بلتستان کے مقامی افراد تک کو جانے کی اجازت نہیں ، دوسری طرف بھارت نے اپنے ممنوعہ علاقے سیاحوں کو کھول کر جانے کی اجازت دی ہوئی ہے کیونکہ بھارت کو پتہ ہے گوگل ارتھ کے ذریعے کچھ نہیں چھپا ہوا ہے اور اپ اس جدید دور میں تھری ڈی گوگل ارتھ کے زریعے بھی اپ سب گھر بیٹھے ہوئے نظر آسکتا ہے تو سیاحوں کے لئے جانے کی اجازت نہ دینا ملکی معیشت اور اس علاقے کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے پاکستان اپ تک اٹھارویں صدی سے نہیں نکل سکا اس دور جدید میں بھی سارے خوبصورت اور سیاحوں کی دلچسپی کے علاقوں کو سیاحوں اور مقامی افراد کیلئے ممنوعہ علاقہ قرار دیکر سیاحت کا شعبہ تباہ کیا جارہا ہے اپ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان سارے صورتحال میں گلگت بلتستان میں سیاحت کی شعبے کو ترقی دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو کتنا کارآمد ثابت ہوگا یہ تو انے والا وقت ہی بتائے گا گلگت بلتستان میں صرف پچاس فیصد علاقے میں سیاحوں کو جانے کی اجازت ہو اس علاقے میں کیا سیاحت کا شعبہ ترقی کریگا؟ اور اگر پاکستان بھارت دونوں ملکر سیاحت کے فروغ کیلئے کام کرتے ہوئے لداخ اور گلگت بلتستان میں سیاحوں کو ایک دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت دیکر بارڈر کھولا جائے تو ایک اندازے میں کینیڈا، نیپال، بھوٹان، ترکی،سوٹزلینڈ،ملائشیاء سمیت دینا بھر کے سیاحتی ملکوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اور ملکی معیشت کو بھی مستحکم کر سکتا ہے لداخ بھارت نے قدیم ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے لداخ کی ثقافت اور بلتستان کے بلند بالا پہاڑوں کو دیکھنے کا موقع سیاحوں کو ایک ہی ٹور میں دیکھنے کو مل جائے گا جس سے سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اور جب امن وامان زمانہ چل رہا ہے تو ممنوعہ علاقہ قرار دیکر سیاحوں کو اجازت جن علاقوں میں نہیں دیا جارہا ہے ان علاقوں میں سیاحوں کو جانے اجازت دینا ہوگا ورنہ سیاحت کو فروغ دینا برائے نام ہوگا (مذید جاری ہے )

  •  
  • 48
  •  
  •  
  •  
  •  
    48
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*