تازہ ترین

سول ایویشن نے سکردو میں 25 ہزار کنال زمینوں پر بغیر کسی معاوضے کے ائرپورٹ حدود کے نام پر قبضہ کیا ہوا ہے لیکن آج تک کسی نے اس حوالے سے انکوائری تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔

سکردو( نامہ نگار) ایک طرف بلتستان ریجن کے عوام کو قدیم بندوبستی باشندہ ہونے کے باجود اپنے زیر استعمال زمینوں کی انتقال ملکیت کا حق حاصل نہیں دوسری طرف سرکاری ادارے خالصہ سرکار کی غلط تشریح کرکے بلتستان کی زمینوں کو ہتیانے میں مصروف ہیں، پی آئی اے ایک سابق افیسر نے انکشاف کیا ہے کہ سکردو ائرپورٹ کیلئے سول ایویشن نے ماضی میں 14ہزارکنال زمین باقاعدہ ادارے کے نام پر انتقال کیا ہوا ہے اور دوسرے مرحلے میں دس ہزار کنال زمینوں پر بغیر کسی معاوضے کے قبضہ کیا ہوا ہے۔ یوں اس وقت ٹوٹل  24ہزار ارضی پر بغیر کسی معاوضے کے سول ایویشن نے قبضہ کیا ہوا ہے دوسری طرف عوام کو ایک کنال زیر کاشت اور قدیم ملکیتی زمین انتقال کرنے کا اختیار نہیں۔
گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کے دیگر خطوں کی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول قانون باشندہ نافذ ہیں لیکن،بھٹو کے دور میں اس خطے کو آئینی طور پر پاکستان میں شامل کئے بغیر اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کرکے یہاں کے عوام کو اپنے ہی زمینوں سے مسلسل بے دخل کیا جارہا ہے۔ لیکن عوام کو نہ احتجاج کرنے کا حق ہے اور نہ ہی عوامی نمائندوں کے پاس اس قسم کے اہم قومی ایشوز پر بات کرنے کی اخلاقی جرات نظر آتا ہے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں خالصہ سرکار کے حوالے سے گزشتہ ایک سال سے اپوزیشن کی طرف سے جمع کیا ہوا ایک بل زیر لتواء ہیں مگراس حوالے سے قانون ساز اسمبلی میں بھی بلکل ہی سناٹا چھایا ہوا ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اراکین قانون ساز اسمبلی کے اختیارات وہ نہیں جو بطور قانون ساز اسمبلی کے ہونا چاہئے تھا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*