تازہ ترین

فیس بک استعمال کرنے کا منطقی طریقہ اور نسل نو ۔۔

یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ الله تعالی نے ہر انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ہے لیکن اس خداداد صلاحیت کو پروان چڑھاکر مرحلہ قوت سے مرحلہ فعلیت میں لے آنے کا اختیار پروردگار نے انسان کو دے رکھا ہے ـ یہی وجہ ہے کہ افراد بشر کی عمر آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کی استعداد میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے ، بعض بے پناہ صلاحیتوں کا مالک بن جاتے ہیں تو کچھ کی صلاحتیں بہت محدود ہوتی ہیں ، وجہ یہ ہوتی ہے کہ جن لوگوں کی صلاحیتوں کی درست تربیت ہوچکی ہوتی ہے وہ قوی ہوتے ہیں ، ان کی صلاحتیں فعال ہوتی ہیں ، وہ نت نئی چیزوں کو ایجاد اور اختراعات کرنے پر قادر ہوتے ہیں لیکن اس کا برعکس جن افراد کی صلاحیتوں کی صحیح خطوط پر تربیت نہ ہوئی ہو ان کی صلاحیتیں سکڑ جاتی ہیں ، وہ رشد ونمو کے قابل نہیں رہتی، درنتیجہ ایسے افراد کی صلاحیتیں محدود دائرے کے اندر کام کرسکتی ہیں ـ۔
فیس بک خلاق صلاحیت کے حامل ایک انسان کا شاہکار ہے جو آج کے ترقی یافتہ دور کے بے شمار سائنسی ایجادات میں شمار ہوتا ہے ـ جسے 4 فروری 2004ء کو ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک ذہین طالب علم مارک زکربرگ نے اپنے کچھ ہمفکر دوستوں کے ساتھ مل کر معرض وجود میں لایا گیا ۔ جس نے مختصر مدت میں بے پناہ شہرت حاصل کی ـ ایک اطلاع کے مطابق آج دنیا میں اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد دو ارب سے ذیادہ ہے۔ اسے وجود میں لانے کا بنیادی مقصد تجارت تھا مگر آج لوگ متعدد مقاصد کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔
بغیر کسی تردید کے سوشل میڈیا کا استعمال جدید نسل کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے ـ بیشتر لوگوں کو اپنے اوقات فیس بک پر گزارنے کی عادت ہوچکی ہے ـ یوں سمجھیں کہ آج کے دور میں علم کا شد بد رکھنے والوں کی پسندیدہ مصروفیت فیس بک پر آنلائن ہوکر فیس بک کی دنیا میں نظارہ اور مشاہدہ کرنا ہے ـ جہاں پڑھنے کے لئے مختلف مطالب کی دستیابی کے ساتھ رنگ برنگ تصویروں سے لیکر ہر طرح کی ویڈیوز دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں ـ۔
سوال یہ ذھن میں ابھرتا ہے کہ بک فیس بک استعمال کرنے کا منطقی طریقہ کیا ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا معقول جواب پانے کے لئے زیلی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے ـ پہلا قابل غور سوال یہ ہے کہ کیا فیس بک کا درست استعمال یہی ہے کہ ہم فقط آنلائن ہوکر ہر طرح کی شئیرنگ اور سینڈ شدہ چیزوں کو دیکھتے رہیں ؟ کیا فیس بک پر بیہودہ تصویروں سے لے کر غیر مفید اپلوڈ ہونے والی چیزوں کے مشاہدے اور سماعت میں اپنے اوقات گزارانا ہماری اچھی فعالیت میں شمار ہوتا ہے ؟ کیا فیس بک پر فعال افراد سب کے سب درست سمت میں متحرک ہیں؟ فیس بک پر ہماری زندگی کے قیمتی لمحات گزر رہے ہوتے ہیں تو کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ ان کے مقابلے میں ہمیں عوض بھی مناسب ملنا چاہئے؟ اگر ایسا نہیں تو ہم گھاٹے کا سودا کررہے ہیں ـ کیا ہم نے غور کیا ہے کہ جوانی انسان کو زندگی میں فقط ایک بار ہی ملتی ہے جسے فیس بک کی دنیا میں نیلام کرنے کا نتیجہ پشیمانی کے سوا کچھ نہیں ؟ کیا فیس بک کے درست استعمال سے ہم واقف ہیں؟ کیا ہم نے اس کے فوائد اور نقصانات پر کھبی وقت نکال کر غور کیا ہے؟ و ….جب ہم ان سوالات کے بارے میں عمیق فکر کریں گے تو فیس بک کے استعمال کا منطقی ہدف یہ نکل آتا ہے کہ ہمیں اسے فقط فکری ارتقاء کے وسیلے کے طور پر استعمال کرنا چاہئے ـ ظاہر ہے انسان فطری طور پر کمال کا متلاشی ہے ـ وہ چاہتا ہے کہ مختصر وقت میں کمالات کے مدارج ومراحل طے کرکے انسان کامل بن جائے ـ اگر انسان پوری آگاہی کے ساتھ فیس بک کی دنیا میں سیر کرنے کی عادت کریں گے تو بلاشبہ یہ اسے مختصر مدت میں اپنی منزل سے ہمکنار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ کمالات کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم شناخت ہے ـ خدا، انسان اور جہاں کے بارے میں جتنا انسان کا علم بڑھے گا اتنا ہی وہ اوج کمال سے نذدیک تر ہوتا جائے گا۔ ـ
انسان فیس بک کی دنیا سے اپنے علم اور معلومات میں تین طرح سے اضافہ کرسکتے ہیں جو مطالعہ مباحثہ اور مفید علمی ومعلوماتی مطالب کی شئیرنگ سے عبارت ہے یوں افادہ بھی ہوگا اور استفادہ بھی ـ اس ہدف کی تکمیل کے لئے عمدہ طریقہ کار یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر افراد گروپس تشکیل دیں جن میں مختلف الخیال افراد کو ایڈ کرکےگروپس کو منظم انداز میں چلانے کا بیڑا اٹھائیں اور منطقی ترتیب سے مفید علمی و معلوماتی مواد و مطالب روزانہ گروپس میں شئیر کریں ، اسی طرح مختلف النوع مسائل (سیاسی، علمی، اقتصادی، مذہبی، سماجی ) پر گروپس میں ممبران کو بحث کرنے کا موقع فراہم کریں جو مختلف طریقوں سے ممکن ہوسکتا ہے بطور مثال گروپس کے ایڈمنز مطلوبہ موضوع کے بارے میں ایک مختصر جامع سوال بناکر اپنے گروپ میں چھوڑیں اور تمام ممبران سے اس کا مختصر الفاظ میں جواب لکھنے کا تقاضا کریں جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ گروپس میں مختلف آراء اور خیالات کا اظہار ہوگا ، ممبران کو ایک دوسرے کی رائ جاننے کا موقع ملے گا اور ایک ہی سوال کا جواب متعدد انداز اور الفاظ میں ان کے ذہنوں میں محفوظ ہوگا اور اس کی وساطت سے گروپس میں ایک علمی مذاکرہ اور مباحثے کی روایت قائم ہوگی ، درنتیجہ اس طریقے سے مجہول مسائل کو معلوم میں بدل سکیں گے اور طرح طرح کے شبھات کو بحث ومباحثہ کرکے دور کئے جاسکیں گے ـ۔
آج کی نسل نو فیس بک استعمال ضرور کرتی ہے مگر اس کے درست طریقہ استعمال سے اکثریت نابلد ہوتی ہے ـ ذیادہ تعداد فقط ٹائم پاس کرنے کی غرض سے اس پر فعال رہتی ہے ـ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فیس بک پر بہت ساروں کا محبوب مشغلہ اپنی تصویریں اپلوڈ کرکے دوسروں کے کمنٹس کا انتظار کرنا ہوتا ہے جو ایک لغو کام ہے ـ اسی طرح ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو صبح وشام فیس بک پر سیاسی بے ہودہ بحثوں میں وقت برباد کرتی دکھائی دیتی ہے جو بحث کے دوران نہ اخلاقی حدود کا پاس رکھتی ہے اور نہ ہی بحث کے شعوری اور منطقی پہلووں کو خاطر میں رکھتی ہے ، بس ان کا ہدف اپنے سیاسی فریق کو زیر کرکے اسے نیچا دکھانا ہوتا ہے ولو بلغ مابلغ ـ ایسے افراد کو بیدار ہوکر جان لینا چاہئے کہ عمر زندگی وقت اور جوانی ایک ایسا عظیم سرمایہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ـ زندگی اور جوانی جیسی بڑی نعمتوں کو بیہودہ چیزوں میں صرف کرنے کا خسارہ ناقابل جبران ہے ـ توجہ رہے ہادیانِ دین نے متعدد مقامات پر جوانی کی نعمت سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی شدت سے تاکید کی ہے بطور نمونہ نہج البلاغہ مکتوب ۳۱ میں مولای متقیان حضرت علی( ع) کا یہ ارشاد گرامی ہے 🙁 فرصت سے فائدہ اٹھاؤ قبل اسکے کہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے پر رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے۔آپ ہی نے آیۂ شریفہ :لاَتَنَسَ نَصِیبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (دنیا میں اپنے حصے کو فراموش نہ کرو۔سورۂ قصص٢٨۔آیت٧٧)کی تفسیر میں فرمایا : لاَ تَنسَ صِحتَّکَ وَ قُوَّتک وَفَراغکَ و شَبابَک وَ نَشاطَکَ اَن تَطلُبَ بِھا الاخرََ (اپنی صحت، طاقت، فراغت ‘ جوانی اور نشاط و بشاشت کے دنوں میں غفلت نہ برتو(بلکہ)ان ایام سے آخرت کیلئے فائدہ اٹھاؤ۔ بحار الانوار۔ج٦٨۔ص١٧٧)
وہ لوگ جو جوانی کی نعمت سے صحیح اورکافی استفادہ نہیں کرتے، ان کے بارے میں امام فرماتے ہیں : ان لوگوں نے جسمانی سلامتی کے دنوں میں کوئی سرمایہ فراہم نہیں کیا اور زندگی کے ابتدائی زمانے میں کوئی عبرت حاصل نہ کی ۔کیا جوانی کی تروتازہ عمریں رکھنے والے بڑھاپے میں کمر جھک جانے کا انتظار کر رہے ہیں؟۔(نہج البلاغہ ـخطبہ ٨١)
جوانی وہ عظیم نعمت ہے جس کے بارے میں روزِ قیامت سوال کیا جائے گا۔ ایک روایت میں رسول گرامی ۖ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن بندگانِ خدا میں سے کوئی بھی اس وقت تک ایک بھی قدم آگے نہ بڑھا سکے گا جب تک اس سے ان چار چیزوں کے بارے میںباز پرس نہ کر لی جائے (١)عمر کے بارے میں’ کہ اسے کس راہ میں بسر کیا ‘(٢)جوانی کے بارے میں’ کہ اسے کیسے گزارا’ (٣)مال کے بارے میں’ کہ اسے کیسے کمایا اور کہاں خرچ کیا ‘اور (٤)میرے اہل بیت سے محبت اور دوستی کے بارے میں۔ (بحارالانوار ـ ج٧٤ ـ ص ١ ۔
امام علی فرماتے ہیں : شَیْئان لا یُعرَفُ فَضلُھُما اِلاّ مَن فَقَدَ ھُما : الشبابَ والعافیةَ(دو چیزیںایسی ہیں جن کی قدر صرف اسی وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ ہاتھ سے نکل جاتی ہیں’ ایک جوانی اور دوسرے تندرستی ۔غرر الحکم و درر الکلم ـ ج ٤ـ ص ١٨٣)
۔ امام علی اپنے فرزند حسن مجتبیٰ سے یوں فرماتے ہیں : اِنَّما قَلبُ الحَدَث کالأ رض الخالیة ما اُلقیَ فیھا مِن شَی ئٍ قَبِلَتُہ فَبا دَرتُکَ بِالأدب قَبلَ اَنْ یَقسُوا قَلبک و یَشَتَغِلَ لُبُّکَ ( بے شک نوجوان کا دل خالی زمین کی مانند ہوتا ہے۔ جو چیز اس میں ڈالی جائے اسے قبول کر لیتا ہے۔ لہٰذااس سے قبل کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں مشغول ہوجائے ‘میں نے تمہاری تعلیم و تربیت کیلئے قدم اٹھایا ہے۔ امام علی فرماتے ہیں :
”غالِبِ الشَھوةَ قبلَ قُوةِّ ضَرا وَتِھا فَِ نَّھا اِن قَویَت مَلکَتکَ ولَم تَقدِر علی مُقاوَمَتَھا ”
” نفسانی خواہشات کے خودسر اور شدیدہونے سے پہلے ان سے مقابلہ کرو’ کیونکہ اگر نفسانی خواہشات خودسراورقوی ہو جائیں تو تم پر حکمراں بن جائیں گی اور جہاں چاہیں گی تمہیں دھکیل کر لے جائیں گی اور تم میںان سے مقابلے کی طاقت و قوت نہ رہے گی۔”( تعلیم و تربیت در اسلام ـ ص ٧٩)

مفتی شفیع اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں:
پنج و ہفتاد آمد از عمر عزیز
بے عمل بے علم بے رشد و تمیز
وائے بر من فرصت عمر دراز
دادہ ام در غفلت و در حرص و آز
’’عمر عزیز کے ۷۵ سال ہوگئے لیکن اب تک بے عمل بے علم اور رشد و تمیز سے تہی دامن رہا، مجھ پر افسوس ہے کہ میں نے لمبی عمر غفلت اور حرص و طمع میں گذار دی‘‘۔
شیخ سعدیؒ نے بھی اپنی عمر کے ضائع ہونے پر نفس کو ملامت کی ہے، فرماتے ہیں:
چہل سال عمر عزیزت گذشت
مزاج تو از حال طفلی نہ گشت
ہمہ با ہواؤ ہوس ساختی
دمے با مصالح نہ پرداختی
مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار
مباش ایمن از بازیٔ روزگار
’’تیری زندگی کے چالیس سال گذر چکے لیکن تیرے مزاج میں لڑکپن ہی رہا، ساری عمر خواہشات کی بھینٹ چڑھادی ایک دم بھی مفید کاموں میں نہیں لگا، تو ختم ہونے والی عمر پر بھروسہ مت کرنا اور گردش زمانہ سے مطمئن نہ ہونا‘‘۔

تحریر: محمد حسن جمالی

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*