تازہ ترین

گلگت بلتستان میں بیروزگاری کا جن بے قابو،سرکاری نوکریاں غریب عوام کی پہنچ سے دور۔

سکردو(ٹی این این)گلگت بلتستان میں سرکاری نوکریوں میں عوامی حق تلفی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خوب چرچا رہتا ہے۔ لیکن اب تو حکومتی وزراء بھی سرکاری نوکریوں میں من مانی کے حوالے سے پریشان نظر آتا ہے۔گزشتہ روز دیامر سے وزیر ایکسائز گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی حیدر خان نے محکمہ صحت دیامر میں آسامیوں کی بھرتیوں کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر دیامر نے محکمہ صحت دیامر کے حالیہ گریڈ ون بھرتیوں میں مبینہ طور پہ لاکھوں روپے رشوت وصول کئے۔ جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے محکمہ صحت کو 26 افراد کی فہرست دی تھی جس میں 13 افراد بھرتی ہوئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر دیامر کے پاس حید ر خان کے آفیشل لیٹر پیڈ سے لکھےخط ثبوت کے طور پر موجود ہے جو کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔
اس سے پہلے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر جعفر اللہ خان نےسی ٹی ایس پی کے ادارے کوفراڈ قرار دیکر میرٹ کے نام پر میرٹ کا بھی جنازہ نکالنے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے موبائل واٹس ایپ کے زریعے پیپر حل کراکے اپنے من پسند افراد بھرتی کرنے کا انکشاف کیا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما مسلسل کہتے رہے ہیں کہ گلگت بلتستان میں سرکاری ملازمت کے لیے میرٹ وزیر اعلی حفیظ الرحمن کی پرچی رکھی گئی ہے اور حفیظ الرحمن نے نوکریوں کی بندر بانٹ کیلئے اپنے ٹھیکدار بھائی کی نگرانی میں کشروٹ کی ایک ٹیم رکھی ہوئی ہے جو نوکریوں کی تقسیم کے حوالے سے فیصلے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے ٹھکیدار بھائی کو بغیر کسی سرکاری عہدے کے کابینہ کے مٹینگ میں بھی کئ بار دیکھا گیا ہے اور خدشہ کیا جارہا ہے کہ سرکاری ٹھیکے بھی اُن کی مرضی سے تقسیم ہوتے ہیں۔
مجلس وحد ت السلمین نے بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کرچُکے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کسی طور پر بھی سابقہ حکومت سے پیچھے نہیں۔کرپشن اور اقربا پروری اپنے عروج پر ہے جبکہ حکومت زبانی طور پر میرٹ کی رٹ لگائے ہوئے ہے اور عملی طور پر اندرون خانہ ملازمتوں کی بندربانٹ جاری ہے۔ای پی آئی اور سولڈ ویسٹ منیجمنٹ میں ملازمتوں کی بندربانٹ کی گئی ہے اور تقرریوں کیلئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے باقاعدہ لسٹیں مہیا کی گئیں۔پیپلزپارٹی چونکہ اپنے دور حکومت میں نوکریوں کی بندبانٹ کرتے رہے ہیں لیکن آج امجد ایڈوکیٹ بھی سرکاری نوکریوں میں من مانی اور غریب کی حقوق تلفی کے حوالے سے پریشان نظر آتا ہے۔
اس حوالے سے گلگت بلتستان کے معروف واٹس ایپ گروپ گلگت بلتستان تھنکرز فورم ، جہاں گلگت بلتستان کے تمام سیاسی اور سماجی رہنما خطے کے مسائل کی نشاندہی اور حل کے حوالے سے مکالمہ کرتے ہیں، میں گلگت بلتستان میں سرکاری نوکریوں کی بندربانٹ اور قومی احتساب بیور و کی مکمل لاعلمی کے حوالے ایک ہفتے کیلئے ایک گرینڈ ڈیٹ کا اہتمام کیا۔اس مکالمے کیلئےاسپیکرکے خدمات ممتاز سیاسی سماجی اور کاروباری شخصیت جناب حاجی زرمست خان صاحب نے جبکہ ڈپٹی اسپیکر کیلئے ممتاز سیاسی سماجی اور کاروباری شخصیت حاجی ریشم خان صاحب نے فرائض انجام دیئے۔
اس گرینڈ ڈبیٹ میں گلگت بلتستا ن کے اہم شخصیات نے شرکت کی اور انکشاف کیا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں نوکریوں کو فروخت کی جاتی تھی لیکن مسلم لیگ کی حکومت میں بڑے ٹیکنکل طریقے سے نوکریوں کی بندربانٹ کی ہے نوکریوں کیلئے باقاعدہ اخبارات میں اشتہارات بھی دی جاتی ہے باقاعدہ ٹیسٹ انٹریوو بھی لیتے ہیں لیکن بھرتیاں سفارشات کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔یوں غریب خطے کے غریب عوام اخباری اشتہارات دیکھ کر دور دراز علاقوں سے ٹیسٹ انٹریوو دینے آجاتے ہیں جہاں رہن سہن کھانے پینے اور کرائے بھی ادا کرنے ہوتے ہیں لیکن نوکریاں سیاست دانوں اور مقامی بیوورکریٹس کے سفارشات کی نذر ہوجاتی ہے۔ مکالمے میں شریک افراد نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اخبارات میں اشتہارات بھی ایک طرح سے سرکاری خزانے پر بوجھ افسران کیلئے کمیشن کا حصول اور غریب عوام کے ساتھ کھلا فراڈ ہے۔مکالمے میں شریک افراد نے انکشاف کیا کہ اکثر اوقات ٹیسٹ انٹرویو کے بعد اُمیدوار کے نام پر افراد کو بھرتی کئے جاتے ہیں ۔
فورم میں گلگت بلتستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے 250 افراد موجود ہیں اور اکثریتی طور پر قراداد پیش کیا کہ گلگت بلتستان میں سرکاری نوکریوں کے حصول کو غریب عوام کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں اور اس حوالے سے اشتہارات دیکر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے اور کئی ادارے ٹیسٹ انٹریوو گلگت میں رکھتے ہیں اور عوام کئی سو کلومیٹر دور سے خرچہ کرکے اس اُمید سے آتے ہیں کہ شائد اُنہیں بیرزگاری سے چھوٹ ملے لیکن ہوتا وہی ہے تو پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں ۔فورم کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان سے اس ٹیکنکل کرپشن کے حوالے سے نوٹس لینے اورعوام کو نوکری کے نام پر دھوکہ دینے کےحوالے سے محکمہ نیب کو تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے ۔

  •  
  • 40
  •  
  •  
  •  
  •  
    40
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*