تازہ ترین

وزیر تعمیرات گلگت بلتستان ڈاکٹر اقبال نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس پر سنگین الزام لگا دیا۔

گلگت(مہتاب الرحمن) صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کشمیری لابی کے دباو پر موقف تبدیل کردیا جس سے گلگت بلتستان کے عوام بہت مایوس ہوگئے ہیں اذان سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو غیر ملکی دورے کے موقع پرکشمیری لابی نے گلگت بلتستان کے حوالے سے موقف تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ہے،گلگت بلتستان کے عوام نہ پیکچ قبول کریں گے اور نہ ہی کوئی آرڈر قبول کریں گے،گلگت بلتستان اسمبلی کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے بنیادی اور آئینی حقوق کے لئے فیصلہ کن جدوجہد شروع کریں گے اپوزیشن رکن اسمبلی جاوید حسین کو مشترکہ احتجاجی پروگرام کا کواڈینیٹر مقرر کردیا ہے اور آئندہ کا لاحہ عمل سپریم کورٹ کے طرف سے فیصلے کے بعد شروع کریں گے،صوبائی وزیرتعمیرات نے کہا کہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے میں بھی کشمیری لابی رکاوٹ ہے جنہوں نے وفاقی کابینہ سے موقف تبدیل کرانے کے بعد سپریم کورٹ کا موقف بھی تبدیل کرادیا ہے چیف جسٹس میں اگراتنی ہمت نہیں تھی تو دورے گلگت بلتستان کے موقع پر آئینی حقوق دینے کے لئے اتنا بڑا ہمدرد بننے کی ضرورت کیا تھی؟صوبائی وزیرنے کہا کہ کل عدالت میں چیف جسٹس کے ریمارکس سے بخوبی اندازہ ہوا کہ 1199کا جوفیصلہ آیا تھا ایساہی ایک فیصلہ دیاجانا ہے جس کا گلگت بلتستان کے عوام کوکوئی فائدہ نہیں ہے گلگت بلتستان کے عوام صوبہ کا توقع رکھتے تھے مگر سپریم کورٹ نے عبوی صوبہ کا دروزاہ بھی بند کرکے عوام کے زخمیوں پر نمک پاشی کردی ہے جو کہ گلگت بلتستان کے عوام سے سنیگن ظلم ہے،صوبائی وزیرنے کہا کہ تمام بنیادی حقوق قومی اسمبلی میں نمائندگی دئے بغیر کیسے حاصل ہوسکتے ہیں جب قومی اسمبلی میں نمائندگی نہیں ملتی ہے تو تمام حقوق کیسے مل سکتے ہیں سپریم کورٹ عوام کا وقت ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ یہ کیس ہی نہیں سنتا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستا ن کے حقوق کے لئے 2019فیصلہ کن سال ہوگا جس میں گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران احتجاجی تحریک شروع کریں گے اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیاگیا ہے اب سپریم کورٹ سے فیصلہ کے بعد احتجاجی تحریک شروع ہوگی انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ رکھ کر پاکستانی حکمرانوں نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارا ہے وقت آنے پر اپنی غلطی کا حکمرانوں کو احساس ہوگا۔صوبائی وزیرنے کہا کہ کشمیر آذاد ہواتو بھی پاکستان کا حصہ ہونا ناممکن ہے کیونکہ بیرون ملک مقیم کشمیری کشمیر کو خودمختار سٹیٹ بنانے کے لئے کام کرتے ہیں اور گلگت بلتستان پر ان کی نظرے ہیں گلگت بلتستان کے عوام پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں جس کے لئے حکمرانوں کو سنجیدگی کے ساتھ اس علاقے کے بارے سوچنا ہوگا۔

  •  
  • 51
  •  
  •  
  •  
  •  
    51
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*