تازہ ترین

گلگت بلتستان کیلئےنو مور آرڈر۔۔

دھرتی ماں گلگت بلتستان کی شناخت کے حوالے سے حالیہ کچھ مہینے بڑی اہمیت کے حامل تھے اور گلگت بلتستان کے وفاق پرستوں اور قوم پرستوں کے درمیان سوشل میڈیا میں شدید کشمکش رہی، اختلاف رائے کسی بھی معشرے کی خوبصورتی ہوتی ہے اور اس سے ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے اور برداشت کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی دوران پاکستان کی سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کا معاملہ اور تاریخ پر دھرتی ماں کے باسیوں کے اندر تجسس پیدا کر رہی تھی. عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی گلگت بلتستان کو صوبے بنانے کا عندیہ دیتے ہی پورے گلگت بلتستان کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو مسلہ کشمیر کا پتا نہیں تھا. پھر بات آئینی صوبے سے گلگت بلتستان ریفارمز کی جانب بڑی جس کو گورنر گلگت بلتستان نے قبول کرنے سے معزرت کر لی اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی پیشکش کر دی جسکو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اور کمیٹی بنا ڈالی اور وہ بھی عبوری صوبہ بنانے سے پیچھے ہٹ گئ۔ سو خدا خدا کر کے عبوری صوبے کی قسط بھی اپنے اختتام کو پہنچی، خدا کرے اس قسط کی ناکامی کے بعد گلگت بلتستان کے لوگ ہوش میں شائد کہیں آجاینگے، کیونکہ ستر سالوں سے ہمیں کبھی کسی آرڈر پہ اور کبھی کسی پکیج کے زریعے سے ٹرخایا گیا, وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کے ناتجربہ کار اور تاریخ سے خائف سیاست دان بھی اپنی پوری کوششیں کرنے لگے لیکن معاملہ ایک بار پھر کشمیر ایشو کی نظر ہو گیا اور گلگت بلتستان والوں کو ایک بار پھر “گزارہ” کرنے کو کہا گیا ہے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔بنیادی حقوق سے محروم یہ خطہ بہتر سالوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑتا آرہا ہے اور ہر آنا والا اسکو لوٹنا چاہتا ہے لیکن کوئی بھی اسے اپنانا نہیں چاہتا ہے، 1948 کے قراردادوں کے مطابق 6 ہفتے کے اندر اندر لوکل اتھارٹی قائم کرنے کا کہا گیا تھا لیکن آج ستر سال گزرنے کے بعد بھی نہ لوکل اتھارٹی کا قیام ہوا نہ اس خطے کو وہ حقوق حاصل ہیں جو ملک کے کسی دوسرے صوبوں کو ہیں.یہاں پر حقوق کے ساتھ ساتھ معاملہ شناخت کا ہے، میرے پاس شناختی کارڈ تو موجود ہے لیکن میں اس ملک کا باشندہ نہیں، میں اس ملک کے جان دے سکتا ہوں جوش و جزبے کے ساتھ لیکن جب میں مرجاوں تو میں ایک غیر آئینی، جب فاٹا، وزیرستان اور افریقہ کے جنگلی وحشیوں سے خطرہ ہو تو مجھے بنایا جاتا ہے زبردستی پاکستانی اور جب بات حقوق اور شناخت کی آتی ہے تو میں غیر آئینی ۔ اگر سمینہ, حسن سدپارہ اور صابر دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں پاکستان کا جھنڈا گارڈ دیتے ہیں تو وہ پاکستانی بن جاتے ہیں لیکن جب بات شناخت کی آتی ہے تو وہ غیر آئینی بن جاتے ہیں۔چیف جسٹس صاحب جب گلگت بلتستان آئے اور واپسی پر گلگت بلتستان کے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے اندر پائی جانے والی محرومیاں اور محکومیوں کا ازالہ کرینگے۔ لیکن جب بات یو ٹرن تک پنچی تو مجھے ایسا لگ رہا ہے چیف صاحب نے کبھی گلگت بلتستان کے حوالے سے نہیں پڑا ایک قانون دان اور اسکو مسلہ کشمیر کا پتا نہیں سمجھ سے بالاتر ۔شائد چیف صاحب نے پہلی بار دیکھا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں اور پھتروں پر پاکستان کا نام کیونکہ اسطرح کی محبت انکے اپنے آئینی صوبوں کے لوگ نہیں کرتے۔ اور میڈیا پر بیانات دے کر گلگت بلتستان کے لوگوں کے دل جیت لیے_ لیکن اب جب چیف صاحب جب اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں تو انہوں نے گلگت بلتستان والوں کو آرڈر پہ گزارہ کرنے کا کہہ رہے ہین اور جو بھی فیصلہ آئیگا اس سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو خوش ہونا چائیے. چِیف صاحب یہاں پر بتاتا چلوں ہم بھیک نہیں مانگتے ہیں جو ہم شکر کریں اور خوش ہو جائیے آپ لوگوں نے بہت بیوقوف بنایا گلگت بلتستان والوں کو اب ذرا برابری کی بات کریں۔ ستر سالوں سے آپ لوگوں نے اس خطے میں اپنی من مانیا چلائی اور اس خطے کے لوگوں کو آپس میں لڑوا کر آپ لوگوں نے گلگت بلتستان میں حکومت کی۔ اب وہاں کے لوگ سمجھ چکے ہیںمنافقت کی بھی حد ہوتی ہے ایک ہی مسلے کے دو فریق کو دو الگ طریقوں سے ٹریٹ کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر دونوں ایک ہی مسلہ کے دو فریق اور رقبے کے لحاظ سے گلگت بلتستان کشمیر سے سات گنا زیادہ ہے لیکن کشمیر والوں کا اپنا سیٹ اپ اور گلگت بلتستان والوں کو آرڈر اور پکیجز کے زریعے سے چلایا گیا ہے. اگر کشمیر کو الگ سیٹ اپ مل سکتا ہے تو گلگت بلتستان والوں کو کیوں نہیں مل سکتا ہے ۔۔۔؟؟؟؟اب حکومت وقت اور ریاست پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمیں مزید آرڈر اور پیکجز کے نام پر مت ٹرخائیں اب معاملہ اور لوگوں کی سوچ یکسر بدل چکی ہے اور اس وقت گلگت بلتستان کے لوگ مزید آرڈر اور پیکجیزز قبول کرنے کی حق میں نہیں ہے۔ کیونکہ یہ لولی پاپ مختلف حکومتوں نے اپنے دور میں صرف ذائقہ تبدیل کرتے ہوئے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایا۔ اب بھی وقت ہے گلگت بلتستان کے شہریوں کو مسلہ کشمیر کے حل تک کشمیر جیسا سیٹ اپ دے دیں جس میں دفاع، کرنسی اور فارن پالیسی کے علاوہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کو دے دیے جائیں تاکہ ستر سال سے مسلسل ہونے والی محرومیوں اور محکمیوں کا ازالہ ہو سکے۔
دل ہی جلنے دو شب غم جو نہیں کوئی چراغ کچھ اجالا تو رہے گھر میں سحر ہونے تک

تحریر :شرافت حسین استوری

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*