تازہ ترین

گلگت بلتستان میں بجلی کے لوڈشیڈینگ کی اصل وجہ کیا ہے؟، اہم انکشافات منظر عام۔

سکردو(ٹی این این) گزشتہ ہفتے حکومت نے سکردو میں لوڈشیڈنگ کے جن پر قابو پانے کیلئے فرنس آئل سے چلنے والا ایک جنرٹیر سکردو پہنچا گیا اور ایک راستے میں حادثے کا شکار ہوگیا، جس کی قیمت عوامی فنڈز سے ادا کرنا ہے۔ اسی طرح سکردو پہنچ گئے جنرٹیر سے تقریبا 1 میگاواٹ بجلی پیدا کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق جنرٹیر کے پیدا کردہ بجلی فی یونٹ 24 روپے کے لگ بھگ قیمت ہوگی اور بجلی پیدا کرنے کیلئے جو آئل استعمال ہوگا اُس کی قیمت کی ادائیگی بھی عوام فنڈز سے کٹوتی کرکے ہوگی۔ جبکہ دوسری طرف اگر حکومت ہائیڈور بجلی گھر کی طرف توجہ دیتے ہیں تو ایک طرف لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے اور ہائیڈرو بجلی گھر سے حکومت اگر 2 روپیہ فی یونٹ بھی عوام کو دیتے ہیں تو حکومت کو تمام اخراجات نکال پر ایک روپیہ فی یونٹ بچ سکتا ہے۔ دوسری طرف اس وقت بلتستان میں کئی بجلی تیار ہونے کے باوجود مقامی سطح پر تجربہ کار انجئنیر نہ ہونے کی وجہ سے نان فنکشنل ہے۔یہی وجہ ہے صرف سکردو نہیں بلکہ پورے بلتستان اس وقت مسلسل شدید لوڈشیڈنگ معمول بن گئی ہے۔ اس وقت ضلع کھرمنگ مہدی آباد، شمائل،منٹھوکھا فیز ون،طولتی فیز ٹو،ہرغوسل،شریٹنگ، گنوخ اور کندرک ہائیڈوربجلی گھروں سے صرف 4 میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کی جارہی ہے وہ بھی محکمہ برقیات کی بدانتظامی کے سبب بدحالی کے شکار ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ ان بجلی گھروں کو طریقے سے چلایا تو کم سے کم آٹھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن المیہ ہے کہ اس وقت ضلع کھرمنگ میں انہی بجلی کے عقب میں واقع علاقے بھی شدید لوڈشیڈنگ کی ذد میں ہے۔اسی طرح منٹھوکھا فیز ٹو سے 1.5 میگاواٹ اور طولتی 1.5 گنجی روندو 2 میگاواٹ جبکہ سکردو فیز 1تھری.5 میں تیار ہے لیکن ان بجلی گھروں کو ابھی تک محکمہ برقیات کے ادارے میں تجربہ کار انجنئیر نہ ہونے کی وجہ سے بجلی گھر تیار ہونے کے باوجود عوام کو بجلی دینے سے قاصر ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان بجلی گھروں کو اسٹارٹ کرنے کیلئے چائنز انجنئیرز نے آنا ہے اور وہ اس حوالے سے کئی قسم کے مسائل ہیں جبکہ محکمہ برقیات گلگت بلتستان میں آج بھی نئے بجلی گھر کو چلانے کیلئے تجربہ کار انجنئیرز کا شدید فقدان ہے کیونکہ برقیات میں اس وقت 36 پروموٹڈ انجئنیرز ہیں جبکہ ادارے نے آج تک ایک بھی کوالفائڈ بھرتی نہیں کیایہی وجہ ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں پروموٹی انجینئرز کو اہمیت دی جاتی ہے جو کامکے حوالے سے زیرو بلکہ مراعات کی وصولی میں خزانے پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اس وقت سکردو میں تقریبا 5 میگاواٹ بجلی شارٹ فال ہیں لیکن اس طرف توجہ دینے کے بجائے تیل کرپشن کیلئے جنرٹیر پر ذیادہ توجہ دیا جارہا ہے۔ پورے گلگت بلتستان میں بجلی پیدا کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے ندی نالوں میں بجلی گھر بنائے جاتے ہیں اور ان بجلی گھروں کے واٹر چینل گرمیوں کے موسم میں ذیادہ پانی آنے وجہ سے بہہ جاتے ہیں جبکہ سردیوں کے موسم میں غیرمعیار ی تعمیر کی وجہ سے برف جم جانے کی وجہ سے ٹو ٹ پھوٹ جاتی ہے۔ یوں اس وقت گلگت بلتستان میں تمام چھوٹے بجلی گھر برقیات کے افسران اور اُن کے منظور نظر ٹھیکہ داروں کیلئے ایک طرح سے فکس ڈپازٹ ہے اور ہرسال ہر موسم میں ان بجلی گھروں کے واٹر چینلز کی مرمت کا کام جاری رہتا ہے۔ یوں گلگت بلتستان میں بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے جامع پالیسی اور تجربہ کار افسر نہ ہونے کی وجہ سے کثیر مواقع ہونے کے باوجود شدید بدحالی کے شکار ہیں۔عوامی حلقوں کہ حکومت نے اس اہم مسلے کی طرف توجہ نہ دیکر دنیا سب سے سستا بجلی پیدا کرنے کی وسیع مواقع کے حامل گلگت بلتستان ہر موسم میں لوڈشیڈنگ سے دوچار رہتے ہیں جبکہ سرکاری افسران اور سیاست دان اسپیشل لائنوں کے ذریعے بجلی استعمال کرتے ہیں، عوام کامطالبہ ہے کہ قومی احتساب بیورو گلگت بلتستان میں خودساختہ بجلی کے لوڈشیڈینگ پر نوٹس لیں اور بجلی گھروں کی اب گریڈ کے نام پر کرپشن کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات کرائیں ۔

  •  
  • 21
  •  
  •  
  •  
  •  
    21
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*