تازہ ترین

چیف جسٹس نے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک /ٹی این این)سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثا قب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اورجسٹس اعجازالاحسن پر مشتعمل بینچ نے کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ بلاول بھٹوزرداری کوجےآئی ٹی نےکیوں ملوث کیا،بلاول بھٹوزرداری معصوم ہےاس نےکیاکیاہے؟
چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ بلاول پاکستان آکراپنی ماں کی وراثت کوآگےبڑھارہاہے،جےآئی ٹی نےبلاول اوروزیراعلیٰ سندھ کانام کیوں ای سی ایل میں ڈالا؟ جس پر وکیل جےآئی ٹی نے معزز عدالت کو بتایا کہ عدالت کواس پرمطمئن کروں گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نےبلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کوجعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں کلین چٹ دیتے ہوئے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کا معاملہ تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیج دیا۔جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کیابلاول کااپنا کوئی کردارہے؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو کاکوئی کردارنہیں ہے، کیاجے آئی ٹی نےبدنام کرنےیاکسی کےحکم پربلاول کانام ڈالا؟حقائق کاجائزہ لینےکیلئےتحقیقات کرائی ہیں۔
وکیل نے مزید بتایا کہ اومنی گروپ نےٹریکٹرزسبسڈی اسکیم میں کوئی خربردنہیں کی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریماکس دیے کہ ٹریکٹرزکی خریدوفروخت صرف کاغذوں کی حدتک ہے،صرف کاغذوں سےایک ارب روپےکی سبسڈی لی گئی۔جسٹس فیصل عرب نے وکیل سےمکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ایسےکیوں سوچ رہےہیں کہ ہم ٹرائل چلارہےہیں؟ چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں،ہم نےجعلی بینک اکاؤنٹس کی کھوج لگانےکیلئےجےآئی ٹی تشکیل دی،بظاہرچندسیاستدانوں،بحریہ ٹاؤن،اومنی گروپ کاجعلی اکاؤنٹس سےتعلق ہے،ہم صرف یہ دیکھ رہےہیں کہ کیاایساموادہےجس پرنیب تحقیقات کرے؟نیب سےکہتے ہیں وہ دیکھے،تحقیقات سےدودھ کادودھ،پانی کاپانی ہوجائےگا،آپ کوجرح سمیت مکمل دفاع کاموقع ملےگا۔
چیف جسٹس نے اومنی گروپ کےوکیل سےمکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ ثابت کریں آپ صاف وسچےلوگ ہیں؟تحقیقات میں ثابت کریں ایک دم اتنابڑامنافع کیسےکمالیا،کیامن وسلویٰ اترتارہا،آپ کوثابت کرناپڑےگااتنےتھوڑےوقت میں رئیس دررئیس کیسےبن گئے؟آپ کوثابت کرناپڑےگاپیسےلانچوں کےذریعےنہیں بھجوائےگئے،ہمیں تسلی کرنےدیں جس پر اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ شوگرسبسڈی پورے ملک میں دی گئی ہے۔چیف جسٹس نے ریماکس دیےکہ پورےملک میں شوگرپرسبسڈی کانرخ مساوی ہوناچاہیےتھا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سندھ حکومت نے2روپےاضافی سبسڈی کیوں دی؟اومنی گروپ کو2روپےاضافی سبسڈی ملتی رہی۔جسٹس فیصل عرب نے اپنے ریماکس میں کہاکہ پنجاب میں سبسڈی کانرخ180لیکن سندھ کا182 ہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نےمؤقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے2روپےاضافی سبسڈی نہیں دی۔

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*