تازہ ترین

گلگت بلتستان کے سیاسی مداری۔۔

دھرتی ماں گلگت بلتستان جس کی قسمت کا فیصلہ 1947 میں کیا گیا تھا اور ایک آزاد ریاست کے طور پر معرض وجود میں آئی تھی لیکن شائد قسمت کو یہ منظور نہ تھا سولہ دنوں کے اندر اندر آزادی ایک بار پھر غلامی کی نیند سونے لگی. دھرتی ماں گلگت بلتستان ستر سالوں سے بغیر کسی شناخت کے اس دنیا میں قائم و دائم ہے.ستر سال گزرنے کے بعد بھی گلگت بلتستان کے لوگ محرومی اور مایوسی کا شکار ہیں. اس محرومی اور اس مایوسی میں کوئی اور شریک نہیں ہے اسی دھرتی کے وطن فروش ہی ہیں، جنہوں نے وفاق میں آنے والی ہر سیاسی پارٹیوں کی خوشامدی کرتے ہوئے اس حساس علاقے کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا، ہمیں کسی اور کو برا بھلا کہنے سے پہلے اپنی گریبانوں میں جھانکنا ہوگا جن کو ہم جتوا کر ہماری نمائندگی کے لیے اسمبلی بیجتے ہیں کیا وہ اسکے اہل ہیں، کبھی ہم نے ان سے پوچھا نہیں تو پھر کسی اور شریک جرم ٹھہرانے سے پہلے ان سیاسی نہ چلنے والے کارتوسوں کو دیوار سے لگانا ہوگا.ایک بار پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ جس میں گلگت بلتستان کو صوبےبنانے کے بجائے جی بی آرڈر 2018 میں کچھ ترامیم کرکے پیش کرنے کا حکم دینے کے بعد گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہل چل سی شروع ہوئی ہے، خاص کر اس بار گلگت بلتستان کے وزرا جن کا تعلق مسلم لیگ سے اس بار کافی ایکٹو نظر آرہے ہیں. اور انکے بیانات پرنٹ میڈیا کے زینت بھی بنے جس میں وہ 15 ممبران کی حمایت کی تصدیق کر چکے ہیں. مسلم لیگ ن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ وفاق میں اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے اب وہی پالسیز مسلم لیگ کے نمائندے گلگت میں کر رہے ہیں. مزے کی بات یہاں پر یہ ہے بندہ جب اقتدار کے نشے میں ہو تو اسکو پتا ہی چلتا کہ انکے ساتھ کیا ہو رہا ہے، نہ انکو اپنے حقوق کا پتا چلتا ہے نہ عام آدمی کے حقوق کے، یہ اتنے بڑے سیاسی مداری ہیں جب انکی اپنی گورنمنٹ اسلام آباد میں اقتدار میں تھی تو کچھ بولنا تو کیا سب انکو ٹھیک نظر آرہا، نہ ان لوگوں نے کبھی کوئی احتجاج کیا نہ کچھ اور…!یاد ہوگا آپ کو جب متحدہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں تاریخی دھرنے دیے تو اسی اسمبلی میں بھیٹے ہوئے یہی ممبران جو آج تحریک چلانے کی بات کر رہے ہیں انہی بندوں نے انکو غدار اور ایجنٹ القابات سے پکارا،اس وقت یہ لوگ نواز شریف کی محبت میں اتنے آگے جا چکے تھے کہ انکو کچھ نظر نہیں آرہا تھا کاش انکو اس وقت سمجھ آتی اور سب مل کر نمائندگی کرتے تو شائد آج یہ دن نہ دیکھنے پڑھ جاتے. یہ اقتدار کے نشے میں اتنے کھوئے ہوئے تھے کہ اس وقت انکو نہ گلگت بلتستان یاد آیا نہ گلگت بلتستان کے لوگ، خیر جتنے بھی سیاسی مداری ہیں انکو غریب لوگوں کی یاد صرف اور صرف الیکشن کے دنوں میں آتی ہے اور جن کا خون چوس کر پانچ سال تک اقتدار کے مزے کرتے رہتے ہیں انہی لوگوں کے سامنے غریب اور مسکین کی شکل بنا کر جاتے ہیں.یہاں پر یہ بات قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن پاکستان کے ساتھ نہیں ہونے کی وجہ سے سیاسی لوٹے بہت جلد اپنی پارٹیاں بدل لیتے ہیں، اور مزے کی بات جب انکی پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے تو انکی تمام پالیسز ٹھیک اور اچھی لگتی ہیں اور جب انکی پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی اقتدار پر آجاتی ہے تو وہ کوئی اچھا کام بھی کرے تب بھی انکو برا لگتا ہے.اس وقت ن کی حکومت کے وقت گلگت بلتستان کو سب معمولات ٹھیک لگ رہے تھے اور اب جب تحریک انصاف کوئی سیٹ اپ دینے کی کوشش کر رہی ہے تو انکو وہ سیٹ اپ پسند نہیں. اس وقت تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب جی بی آرڈر کے خلاف اتنے پرجوش تھے کہ اسمبلی میں ایک ممبر کو اپنی چھڑی سے دھلائی کر دیا تھا اور آج جب انکی گورنمنٹ وہی آرڈر لے کر آرہی ہے تو مینڈک کیطرح غائب ہو چکے ہیںیہی سیاسی منافقین جو آج گلگت بلتستان کے عوام کو سڑکوں پر لانے اور لانگ مارچ کرنے کی بات کرنے والوں نے ہمیشہ گلگت بلتستان کو اندھیرے میں رکھا، یہ وہی لوگ ہیں جو بغض عمران کی وجہ سے گلگت بلتستان میں میں افراتفری اور بد امنی پھیلانے چاہتے ہیں، ان عقل کے اندھوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک کی سپریم کورٹ نے بھی صوبہ بنانے سے معذرت کرلی ہے تو تمھارے دھرنے سے کیا ہوگا، اگر اتنی فکر تھی تو جب عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ٹیکس اور آرڈر کے خلاف لوگ سڑکوں پر تھے اس وقت مستعفی ہو کر شامل ہو جاتے تو آج گلگت بلتستان کے ہیرو ہوتے لیکن تم لوگوں نے اس وقت انکو غدار اور ایجنٹ کہہ کر اور کالے قوانین کے زریعے انکو خاموش کرانے کی ناکام کوشش کی. تمھارا مقصد بغض عمران اور اپنی سیٹ بچانے کے لیے ہے اور مختلف حربے کر کے عوام کو بیوقوف بنانا چاہتے جس کو انشااللہ گلگت بلتستان کی عوام مسترد کرے گیپاکستان سے الحاق کرنے کی ناکام کوشش ستر سالوں سے جاری رہنے کے بعد اس ملک نےخود ہمیں کہہ دیا کہ تم پاکستانی نہیں اور مسلہ کشمیر کا حصہ ہو اور مسلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کی شناخت کا فیصلہ نہیں کر سکتے جو کہ ایک حقیقت پر مبنی ہے، گلگت بلتستان کے سیاسی منافیقین اس بات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور زبردستی پاکستانی بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں. اگر یہ علاقے کا اتنا درد رکھتے ہیں تو اسملبی سے مستعفی ہو کر عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں نہیں تو یہ عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہیں کریں اب گلگت بلستان کا ہر شہری سمجھتا ہے اور جان چکا ہے کہ مسلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہونا تو ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر جیسے سیٹ اپ کے لیے کوشش کریں جو کہ ہمارا حق ہے مسلہ کشمیر کے حل تک.گلگت بلتستان کے تمام حق پرست آپکے ساتھ ہونگے اور یہی واحد راستہ ہے جس میں ہمیں اپنے فیصلے کرنے کا حق مل سکتا ہے نہیں تو پھر ہمیں کسی پنجابی کشمیری کے فیصلے پر گزارہ کرنا ہوگا، کشمیر جیسا سیٹ اپ جس میں تمام اختیارات سوائے فارن پالیسی، دفاع اور کرنسی کے علاوہ گلگت بلتستان کو دے دیا جائے تاکہ ستر سال کی محرومیوں اور محکمیوں کا ازالہ ہو سکے.وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئےگلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم میں آکر گلگت بلتستان میں کشمیر جیسے سیٹ اپ کا دو ٹوک مطالبہ کریں. جس میں سب سے پہلے عوامی ایکشن کیمٹی کو اعتماد مِیں لینا ہوگا کیونکہ یہ ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جس پر لوگ بھروسہ کرتے ہیں اور ماضی میں عوامی ایکشن کمیٹی نے جو مطالبہ کیا ہے اسکو عوامی طاقت کے زریعے سے منوایا بھی ہے اورعوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی عوام کی ترجمانی کرتی آئی ہے اس لیے اسکو اعتماد میں لے کر ٹولوں میں بٹ کر دھرنے اور لانگ مارچ کرنے کے بجائے ایک قوم بن کر اپنے حق کے لیے لڑنا ہوگا ۔۔!

تحریر: شرافت حسین استوری

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*