تازہ ترین

سیاسی کارکنان کا اصل سرمایہ۔۔انکا وقار

سیاست معاشرے میں ابلاغ کا ایک بڑا عمل ہے۔ یہ افراد اور معاشرے کی پیچیدگیوں کو سمجھ کر درمیانی راستہ نکالنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ یہی ہنر کسی ادارے نصاب میں نہیں سکھایا جاسکتا ہے۔ اسی عمل کو سیکھنے کے لئے سیاسی جماعتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مثبت سیاسی عمل کے ذریعے ہی سیاسی کارکنان سیاست سیکھ سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں سیاسی کارکنان کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ متحرک سیاسی کارکنان کیوجہ سے ہی سیاسی میدانوں میں جماعتیں آپنی منزل تک پہنچ سکتی ہیں۔ سیاسی کارکنان کسی بھی جماعت کے لئے بہت بڑا آثاثہ ہوتے ہیں ۔ جماعتوں کی فتح و شکست کا اندازہ انہی کارکنان کے خلوص اور جذبات سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ سیاسی کارکنان کا آپنا ایک وقار اور تشخص ہوتا ہے۔ آگر سیاسی جماعتوں کے اندر کام کرنے والے سیاسی کارکنان باوقار انداز میں سیاست کو پروان چڑھائیں تو اسی عمل سے انکی بہترین سیاسی نشونما ہوسکتی ہے۔ آگر سیاسی کارکنان صرف آپنی جماعتوں کو اقتدار دلانے اور اقتدار ملنے کے بعد صرف آپنے ذاتی مفادات کو ہی مدنظر رکھیں گے تو پھر اس کارکن خود کو بند گلی میں مقید کرلیتا ہے۔ اور اسکی سیاسی پرورش بہتر انداز میں ہرگز نہیں ہوسکتی ہے۔ سیاسی کارکنان کو قومی و علاقائی ایشوز پر واضح موقف آپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس گلگت بلتستان میں کارکنان کی اکثریت قومی ایشوز پر آپنا موقف رکھنے اور اس موقف کو عوام الناس تک یا ارباب اختیار کے سامنے بیان کرنے کو شجر ممنوعہ تصور کرتی ہیں۔ اکثر تربیت یافتہ کارکنان بھی علاقائی ایشوز پر گفتگو کرنے کے بجائے پارٹی کے اندرونی معاملات۔ حکومت سازی۔ مراعات و دیگر مفادات کے حصول کو ہی آپنی سیاست کا محور بنا کر رکھتے ہیں۔ یہ ایک فطرت بھی ہے کہ کسی جماعت کا کارکن آپنی جماعت کی مظبوطی کے لئے سرگرداں رہتا ہے اور انہی کی جماعت برسر اقتدار آئے تو وہ آپنی جماعت سے توقعات وابستہ کرتا ہے۔ اور جماعت کے قائدین کو آپنے متحرک کارکنان کی وفاداریوں کو نظر انداز بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔اسکے علاوہ بھی سیاسی کارکنان کو آپنے قومی ایشوز اور تشخص کی جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر افسوس اکثریت کارکنان اس معاملے میں انتہائی لاپرواہی اور غفلت کا شکار رہتے ہیں۔ کارکنان کو بلخصوص آپنی جماعت اور بلعموم دیگر جماعتوں کے کارکنان و رہنماؤں کے درمیان ایک باوقار مقام بنانے کی جدوجہد ہردم کرتی رہنی چاہیے۔ اکثر سیاسی جماعتوں میں چاپلوسی اور خوشامدی سیاست کو پروان چڑھانے والے کارکنان کی کثیر تعداد ہوتی ہے۔ جن سے عموما قائدین آپنی تعریفوں اور جی حضوری کا ہی کام لیا کرتے ہیں۔ اور یہی کارکنان خوشامد کا سہارا لے کر ہی مثبت سیاست کو پروان چڑھنے دینے میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ جب بھی کارکنان کو خوشامد۔ چاپلوسی اور جی حضوری کی لت لگ جاتی ہے تو وہ کارکن عموما آپنا موقف دبنگ انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لئے کھو دیتا ہے۔ اور دو ٹوک بعد کرنے کا جرثومہ ان کارکنان کے اندر پرورش ہی نہیں پاسکتا ہے۔آگر کوئی سیاسی کارکن سیاست میں آپنے قائدین سے اختلاف رائے ہی نہیں رکھتا ہے۔ اور آگر اختلاف رائے رکھنے کے باوجود اسکا اظہار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ہے تو وہ کارکن خوشامد جی حضوری چاپلوسی ودیگر منفی اوصاف کو آپنا کر آپنی سیاسی صلاحیتوں کے اوصاف پر زنگ لگا کر صرف شخصیات کا پیروکار بن کر رہ جاتا ہے۔ اکثر سیاسی قائدین بھی خوشامد کے بڑے دلدادہ ہوتے ہیں۔اور وہ خوشامد کرنے والے کارکنان کے جھرمٹوں میں رہ کر آپنی تعریفیں سننے کے عادی بن جاتے ہیں اور اس سے انکے دل کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔قدرت اللہ شہاب نے خوشامد کو عقل و فہم کاٹنے کی قینچی قرار دیا ہے۔ خوشامد کیوجہ سے ہی انسان پرواز کی آزادی سے محروم ہوجاتا ہے۔عموما سیاسی قائدین سرمایہ دار و بڑی گاڑیوں کیساتھ نموادر ہونے والے کارکنان کی عزت آفزائی کرتے ہیں۔ جبکہ متحرک و وفادار متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکنان کو انکا جائز مقام کسی بھی سیاسی جماعت میں حاصل نہیں ہوتا۔ سیاسی کارکنان کی اکثریت آپنا مقام و وقار کی جنگ لڑنے سے نابلد ہوتے ہیں۔ اور وہ عموما آپنی چاپلوسانہ حرکات کیوجہ سے ہی سیاسی جماعتوں میں آپنا حقیقی مقام کھو دیتا ہے۔ اور آپنی سیاسی تربیت کو خوشامد کی دیمک لگا بیٹھتا ہے۔کارکنان کی اکثریت نظریات ویژن یعنی بصیرت کو سپورٹ کرنے کے بجائے شخصیات کو سپورٹ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اور برملا شخصیات کے دفاع میں آسمان زمین کے قلابے ملاتے ہیں۔حالانکہ وہ شخصیات اس تعریف کے قابل ہی نہیں ہوتے۔ ان کارکنان کی تعریفوں سے کارکنان کی نہ صرف سیاسی صلاحیتوں کو دیمک لگتا بلکہ ان قائدین کے رائے بھی ناقص ہوتی ہے اور انکے فیصلے بھی دوسروں کے قبضے میں چلے جاتے ہیں۔لہذا کارکنان کو چاہیے کہ وہ آپنے حقیقی وقار اور تشخص کی جنگ سیاسی جماعتوں میں لڑنے کیساتھ ساتھ آپنے علاقے کے تشخص اور قومی بقاء کے لئے ہر فورم پر جنگ لڑتا رہے۔ اور انہی کارکنان کے موثر و مظبوط موقفوں کیوجہ سے ہی جماعتوں کو قومی مفاد میں پالیسیاں واضع کرنے کے لئے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اکثر کارکنان سیاسی قائدین کی کہی ہوئی باتوں کو جو بلکل ناقابل عمل ہی کیوں نہ ہوں اسکا بھرپور دفاع کرکے قائدین سے داد وصول کرکے خوشی محسوس کرتا ہے۔سیاسی کارکن کا اصل سرمایہ اور وقار اسکا باوقار تشخص ہوتا ہے۔ اسکا دبنگ موقف ہوتا ہے۔ حقیقی کارکن ضمیر کا سودا خوشامد کے عوض کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتا ہے۔ حقیقی کارکنان آپنے قومی تشخص پر کسی طور سمجھوتہ نہیں کرتا ہے۔ وہ کسی صورت شخصیت پرستی کو آپنا نصب العین نہیں بناتا۔ بلکہ حقیقی کارکن کا اصل نصب العین ویژن یا بصیرت ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنان آپنی سیاسی نشوونما کے لئے آپنے وقار و تشخص کے لئے ضرور جنگ لڑیں۔ اسمیں آپکی عزت ہے۔ اور یہی باوقار سیاست ہے.معلوم نہیں، ہے یہ خوشامد کہ حقیقت کہہ دے کوئی اُلّو کو اگر رات کا شہباز‘!

تحریر۔ وزیر نعما ن علی

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*