تازہ ترین

گلگت بلتستان میں ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل سنوارنےوالے این جی او کا مستقبل خطرے میں۔

سکردو(ٹی این این خصوصی رپورٹ) سینٹرل ایشیا ایجوکیشنل ٹرسٹ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو 1991 سےگلگت بلتستان میں تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات اُٹھایا جارہا ہے اور بلتستان کے دیہی علاقوں میں 28 سکولوں میں 5380 طلبہ و طالبات کو مفت تعلیم کے ساتھ کتابیں سٹیشنری اور یونیفارم بھی بالکل مفت دیکر کوالٹی ایجوکیشن دیں جا رہے تھے سینٹرل ایشیا ایجوکیشنل ٹرسٹ سکردو کے شہر کے اندر غریب بچیوں کو مفت بیوٹی پارلر ووکیشنل ٹریننگ اور کمپیوٹر کورس بھی کیا جا رہے تھے گلگت بلتستان کے غریب بچیوں کو سکالرشپ کے مد میں فی سمسٹر کے فیس کے علاوہ ہاسٹل کا اخرجات بھی برداشت کیا جا رہے تھے اور کئی دیہی علاقوں کے سکولوں کو اپ گریڈیشن پرائمری سکولوں کو مڈل سکول اور مڈل سکولوں کو ہائی سکولوں کا درجہ اور سکول کے بلڈنگ کو بھی توسیع کرکے واش روم اور اضافی کمرے بھی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے تھے اور ایک کروڑ روپے کا خطیر رقم خرچ کیا جارہا تھا اپ سارا کام بھی روک گیا ہے اب سرکار کی طرف سے اس غیر سرکاری ادارے کو این او سی مزید جاری نہیں کیا جارہا ہے جس کے باعث 130 کے قریب سٹاف بے روزگار ہونے کے ساتھ 5380 طلبہ و طالبات کے مسقبل کو سرکار نے خطرے کی گھنٹی بجانے کی تیاری کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کے اچھے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے وہ 68 یتیم طالبات کی مسقبل بھی تباہ ہونے کا خطرہ ہوا ہے جو سینٹرل ایشیا ایجوکیشنل ٹرسٹ نے سکالرشپ پر ماسٹرز ڈگری حاصل کررہے تھے اور بلتستان سے سات یتیم لڑکیاں ملک کے اچھے اچھے میڈیکل کالجوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان یتیم بچیوں کا بھی ڈاکٹر بنے کا خواب بھی پورا ہوتے نظر اہا رہے ہیں اور سینٹرل ایجوکیشنل ٹرسٹ کو فنڈنگ بھی %60 کے قریب پاکستانی اور مسلمان کمپنیوں کے مالکان نے کیا جارہا ہے اس کے باوجود اس غیرسرکاری ادارے کو سرکار نے بلتستان میں کام کرنے سے روکنا اور پابندی عائد کرنا زیادتی ہے اور تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور سینٹرل ایشیا ایجوکیشنل ٹرسٹ نے دنیا کے پسماندہ ترین چھ سات ملکوں میں تعلیم کے شعبے میں اقدامات اُٹھاتے ہوئے علم کی روشنی پھیلا رہا ہیں

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*