تازہ ترین

معذرت علی امین گنڈا پور صاحب ۔۔۔!

معذرت کے ساتھ امین علی گنڈا پور صاحب گلگت بلتستان کے پہاڈ، دریا اور میدان ستر سالوں سے پاکستاں کا حصہ تو نہیں ہیں البتہ جہاں پر اپنا مفاد نظر آتا ہے وہاں پر اپنا لیتے ہیں اور وفاقی پارٹیوں کا یہ موقف آج تک سمجھ نہیں سکے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا جغرافیائی حصہ ہے لیکن آئینی حصہ نہیں، امین صاحب یا تو پاکستان بیوقوف ہے یا گلگت بلتستان والے۔ یہاں پر مسلہ میدانوں، پہاڑوں اور دریاوں کا نہیں مسلہ یہاں پر گلگت بلتستان کے غریب عوام کا ہے جو ستر سالوں سے اپنی شناخت سے محروم ہیں تو کیا 2019 کا نیا سال گلگت بلتستان کے باسیوں کے لیے کوئی نئ خوشخبری لے کر آئے گا ؟؟؟؟گلگت بلتستان کے لوگ اب تنگ آچکے ہیں وفاق کے کھوکھلے نعروں سے کیونکہ یہ نعرے بہت پہلے سے لگتے رہیں ہیں اور لگتے رہینگے ۔
لیکن گلگت بلتستان کو کوئی بھی وفاقی پارٹی اپنے آیئن میں شامل نہیں کر سکی اس کی وجہ بھی سب کو معلوم اور اسی طرح کھوکھلے نعرے لگا کر گلگت بلتستان کے سادہ لوہ عوام کو ایک لمبے عرصے تک بیوقوف بنانے میں کامیاب رہے۔ اب آپکو بتاتا چلوں کہ گلگت بلتستان کے حالات یکسر بدل چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ انکا مسلہ کس وجہ سے لٹکا ہوا ہے اور ستر سالوں سے ہمیں کبھی کمیٹی تو کبھی کچھ اور پہ ٹرخایا گیا اب یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ اور اپنے حقوق اور اپنی شناخت کے حوالے سے جان چکے تو اب یہ جو ستر سالوں سے جو نعرے لگا کر ہمیں بیوقوف بنایا زرا اس سوچ سے باہر نکل کر گلگت بلتستان کے مسلے اور شناخت کے معاملے پر فیصلے کریں۔کیونکہ پہچان کسی بھی ملک اور قوم کے لیے بہت اہم ہے اور دھرتی ماں گلگت بلتستان کے باسی ایک آزاد قوم کی حثییت سے وجود آنے کے بعد خود کو غلامی کے حوالے کر دیا اور آج شدید identity crises کا شکار ہے شائد پوری دنیا میں گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں پر آزادی کے بجائے الحاق کی تحریکیں چلتیں ہیں۔
گلگت بلتستان کے پہاڈ،میدان اور دریا کے علاوہ اس بار آپ لوگوں کو گلگت بلتستان کے لوگ بھی یاد آئے لیکن، لیکن 2018 میں جب آپ کی پارٹی نے وفاق میں حکومت سنبھال لیا تو تب بھی کھوکھلے نعرے لگائے گئے تھے اور بات سپریم کورٹ تک جا پہنچی لیکن ملک کی سب سے بڑی اور معتبر عدالت بھی گلگت بلتستان کی ستر سالوں کی وفاداری اور محبت کا فیصلہ نہ کر سکی اور ایک بار پھر آرڈر پر ہی گزارہ کرنے کا حکم دے دیا گیا. خیر گلگت بلتستان کے لوگوں نے ستر سالوں سے اس ملک کے لیے بے دریغ جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور بہت سارے دھرتی ماں کے بیٹے بھی شہید ہوئے یہاں تک کہ اپنی زبان کٹوائی اور پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا اور اسکے علاوہ بھی اگر کسی کو شک ہے ہماری وفاداری پر تو وہ گلگت بلتستان آئیے اور شہیدوں کے قبروں پر اپنا سبز حلالی پرچم دیکھ لیں۔
اس وقت بھی گلگت بلتستان کے بہت سارے نوجوان سرحدوں میں کھڑے ہیں۔ آپ گلگت بلتستان کے پہاڈوں دریاوں اور میدانوں کی بات کرتے ہو اس قوم نے آپ سے کبھی پوچھا کہ آپ لوگوں نے دیامر ڈیم کیوں بنایا تو سی پیک کیوں بنایا تو چائینہ آپکا ہمسایہ کیسے ہوا اس سے بڑھ کر ہماری محبت کیا ہوسکتی ہے. بڑے بڑے محلوں میں رہنے والو کبھی جاکر دیکھو وہاں کے لوگوں کو آپ نے کن کن سہولیات سے نوازا ہے، آئینی حقوق دینے کے لیے تو مسلہ کشمیر تھا تو وہاں پر یونیورسٹیز، انجنیرنگ , میڈیکل اور انڈسٹریز لگانے میں وہ کونسی رکاوٹیں تھی جو تم لوگوں نے یہاں کے باشندوں کو ہر سہولیات سے دور رکھا. دنیا چاند تو چھوڈ کر مریخ تک پہنچ چکی ہے مگر گلگت بلتستان کے لوگوں کے پاس 3G اور 4G نہیں، کن کن محرومیوں کا زکر کریں امیں علی گنڈا پور صاحب ….یقین کریں امین گنڈا پور صاحب یہاں کی عوام نے پاکستان سے کچھ نہیں مانگا ،قسم سے اس قوم کی قسمت پر رونا آتا ہے جو قوم ستر سالوں سے اس ملک کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتے رہے اور پاکستانی کہنے پر فخر محسوس کرتے تھے وہی پر اسلام آباد کے محلوں میں بیٹھنے والا ایک بندہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو دلاسہ دے رہا ہے کہ گلگت بلتستان والے پاکستانی ہیں، اس قوم کی قسمت پر رونا آتا ہے جنکو ستر سالوں سے مختلف پارٹیوں نے آرڈر اور پیکجز کے زریعے چلاتے رہے کیا گلگت بلتستان کی اوقات اتنی ہی ہے یا ہم لوگوں نے خود اپنی قیمت کم کر دی ۔۔۔؟؟کآش ڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے آزادی حاصل کرنے والے گندم کی بوری سے باہر نکل کر سوچتے تو شائد آج یہ تزبزب اور مایوسی کا شکار نہیں ہوتے.خیر یہ وقت کا تقاضا تھا یا ہماری بے بسی جس کی وجہ سے یہ حالات دیکھنے کو پڑے. لِیکن اب وقت یکسر بدل چکا ہے اور مزید آرڈر اور پیکجز شائد کوہستان سے آگے نہیں آئینگےجس کی زندہ جاگتی ہو مثال 2018 کا آرڈر جس طرح عوامی جہدوجہد سے واپس اسلام آباد بیجھا تھا اب ایک بار پھر اسی ولولے اور جنوں کی ضرورت ہے۔
علی امین گنڈا پور صاحب سے آخر میں گزارش کرتے ہیں کہ اگر پاکستان گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا سکتا تو کب کا بنا ہو چکا ہوتا ان حالات اور مناظر کو سامنے رکھ کر بیانات دے دیا کریں، جب ملک کی معتبر اور سب سے بڑی عدالت کچھ نہیں کر سکی ہے تو آپکی وزارت کیا خاک گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ کرے گی، گلگت بلتستان کے اوپر ریاست پاکستان کا جو موقوف ہے اسکو مدنظر رکھ کر گلگت بلتستان کے حقوق اور شناخت کی بات کریں نہ کی ہوائی فائرنگ، کیونکہ اسکا فیصلہ عالمی عدالت میں اور مسلئہ کشمیر کے حل تک آپ جتنی بھی کوشش کر لیں آپ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں بنا سکتےہیں. توپھر ان عالمی ایشو کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو UNCIP کی قراردادوں کے مطابق مسلہ کشمیر کے حل تک کشمیر جیسا سیٹ دے دیں کیونکہ صوبہ صوبہ کا کھیل بہت عرصہ چلا اور اسکی مختلف قسطیں بھی چلی جن کا زکر میں نے پچھلے کالم میں قارئین کی نظر کیا تھا.اور آخر میں ایک جون سرکار کا شعر قارئین اور امین علی گنڈا پور کے نام کرنا چاہتا ہوں شہر کوچوں میں کرو حشر بپا آج کہ ہم اسکے وعدوں کو بھلانے کے لیے نکلے ہیں۔

تحریر: شرافت حسین استوری

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*