تازہ ترین

سال 2018 اور گلگت بلتستان۔۔

سال دو ہزار اٹھارہ کا یہ بدقسمت سال اپنے اختتام ہوگیا، یہ سال بھی ہمیشہ کیطرح دھرتی ماں گلگت بلتستان کے کچھ خاص ثابت نہیں ہو سکا. یہ سال بھی ہمیشہ کیطرح تزبزب اور مایوسی سے بھر پور رہا. دھرتی ماں گلگت بلتستان کے بعض حق پرستوں کی زبان کو بھی تالے لگانے کی بھر پور کوشش کی گئ۔ریاست کا گلگت بلتستان کے اوپر جو موقف ہے اور جس طرح سے حکومت کر رہے ہیں اسکو دیکھ کے گلگت بلتستان کے باشعور لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، محرومیوں اور محکمیوں پر آواز اٹھانے پر مجبور ہو گئے جس کی وجہ سے بہت سارے ایکٹویسٹ کو شیڈول فور اور اےٹی اے کے زریعے قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔ 2018 میں پاکستان میں ہونے والی الیکشن میں پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی گلگت بلتستان میں بھی امید کی ایک کرن جاگ اٹھی اور بہت سارے وفاقی پارٹیوں کے ٹکڑوں میں پلنے والے سیاستدانوں نے پارٹی وفاداریوں کو بدلنے میں کوئی تاخیر نہیں کی اور اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور امید ٹھان لی کی کپتان کے کھلاڑی بن کر گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ کرینگے. اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو قومی دائرے میں لانے کا عندیہ دے دیا تو گلگت بلتستان کی عوام خوشی سے جھوم اٹھی. 2018 میں بھی گلگت بلتستان کی قسمت کے فیصلے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹ کھٹایا گیا جب چیف جسٹس میاں ثاقف نثار نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو گلگت بلتستان کے پھتروں اور پہاڑوں میں پاکستان کا نام دیکھ کر گلگت بلتستان کے باسیوں کی محبت کی مثالیں دیتے رہے اور ملک کے میڈیا چنیلز اس کا زینت بنے جب بات سپریم کورٹ تک پنہچ گئی تو ملک کی سپریم کورٹ بھی گلگت بلتستان کے امیدوں پر پانی پھیر گئی اور گلگت بلتستان کو ہمیشہ کیطرح اس بار بھی آرڈر اور پیکجیزز میں چلانے کا جو سلسلہ چلا تھا وہ آگے بھی چلانے پر اتفاق ہوا. خیر گلگت بلتستان کا شناخت کا جو مسلہ ہے وہ پاکستان کے دائرہ اختیار میں نہیں کیونکہ یہ ایک عالمی ایشو ہے اور اسکا فیصلہ عالمی عدالت نے کرنا ہے نہ کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے. شائد پاکستان کے پالیسی میکرز کو پتا نہیں ہوگا کہ یہ قوم اب آرڈرز اور پکیجزز میں چلنے والی نہیں. جب بھی بات آتی ہے گلگت بلتستان کی شناخت کا تو یہ خطہ متنازعہ بن جاتا ہے اور جب بات یہاں کے وسائل کو لوٹنے کی آتی ہے تو یہ خطہ پاکستان کی شہ رگ بن جاتی ہے. سِی پیک اور دیامر بھاشا ڈیم بناتے وقت یہ آئینی بن جاتا ہے. 2018 سال پچھلے سالوں کی نسبت کچھ اس طرح سے کامیاب رہا کہ ٹیکس کے خلاف جو مومنٹ چلی تھی وہ کامیاب ہوئی اس تحریک سے گلگت بلتستان کے عوام میں ایسا شعور ملا جو شائد وہ شعور دینے میں مزید کئی سال لگ سکتے تھے اس تحریک کا کریڈیٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کو جاتا ہے کو جاتا ہے. اس کے ساتھ ساتھ جب پاکستان مسلم لیگ نے جو 2018 کا آرڈر نافذ کرنے کی کوشش کی اس وقت بھی عوامی ایکشن کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر اس کی بھر پور مخالفت کی اور اس وقت کے وزیراعظم خاقان عباسی کو اس پیغام کے ساتھ واپس بیجھا کہ یہ قوم مزید کوئی آرڈر برداشت نہیں کرے گی جو وہاں کی عوام کے ساتھ پچھلے ستر سالوں سے ہوتا آرہا ہے. اور اپوزیشن نے بھی اسمبلی میں جی بی آرڈر 2018 کو وزیراعظم کے سامنے پھاڑ کر واک آوٹ کر کے عوام کی بھر پور نمائندگی کی. گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے دن گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی جھنڈا لہرایا گیا جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں لہرایا گیا تھایہاں قابل زکر بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں جو وفاقی جماعیتیں ہیں وہ اپنی پارٹیوں کی حکومت کے وقت بلکل خاموش رہتے ہیں اور جب کوئی اور حکومت آجاتی ہے تو وہ اسکے پالیسز کے خلاف ہو جاتی ہے جسکی وجہ سے گلگت بلتستان اب بھی آرڈر اور پیکیجزز کے زریعے چلایا جاتا ہے. جب مسلم لیگ ن کی حکومت 2018 آرڈر نافز کرنے جا رہی تھی اس وقت پی ٹی آئی اور پی پی پی نے بھر پور مخالفت کی ن لیگ گلگت بلتستان نے اس کی حمایت کی، اب جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی اور وہی آرڈر نافذ کرنے کی کوشش کی تو مسلم لیگ نون نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور وہی پی ٹی آئی جو اس وقت مخالفت کر رہی تھی آج اسی آرڈر کی حمایت کر رہی ہے. گلگت بلتستان کی عوام کو چائیے اور وقت کے ان ظالموں کو اگلی الیکشن میں ووٹ نہیں دیں.جب انکو اپنی مفاد نظر آتی وہ غریب عوام کو بھول جاتے ہیںسال 2018 کے ان بدلتے ہوئےحالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں بھی وہاں کے باسی اب کشمیر جیسا سیٹ اپ کے لیے آنے والے دنوں میں اپنی جہدوجہد کرینگے. اس وقت گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی ہی واحد پلیٹفارم ہے جہاں سے عام عوام اور غریب طبقے کے حق میں بات کی جاسکتی ہے باقی وفاقی پارٹیوں کے لیے نرم گوشہ رکھنا اپنے پاوں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے. آخر میں ریاست پاکستان سے سے مطالبہ اور گزارش کرتےہیں کہ وہ گلگت بلتستان کو UNCIP کے قرارداوں کے مطابق گلگت بلتستان کے باسیوں کو انکا حق دیا جائے کیونکہ وہاں کے باسیوں کے ساتھ ستر سالوں سے چلنے والا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ کبھی عبوری صوبہ کبھی اسپیشل صوبہ کبھی زبردستی صوبہ کبھی الحاقی صوبہ اور کبھی تو آرڈر تو ان حالات اور ان وعدوں سے وہاں کے باسی تنگ آچکے ہیں اور وہاں کے باسی ستر سالوں سے شناخت سے محروم ہیںدکھ بھری داستان کچھ زیادہ ہی لمبی ہے اگر لکھتے جائیں تو شائد یہ داستان ختم نہیں ہوگی بس فیض کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

تحریر شرافت حسین استوری

  •  
  • 27
  •  
  •  
  •  
  •  
    27
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*