تازہ ترین

تیسرامنظر۔۔۔۔

آپ پہلامنظرنامہ ملاحظہ فرمائیں،یہ سولہ دسمبر1971کادن ہے،صبح کے وقت سورج کی ترچھی کرنیں ڈھاکہ ائیرپورٹ پرپڑھ رہی ہے،ہوائی اڈے پرتباہی کاعالم ہے،رن وے پرچندفوجی کھڑے ہیں،آسمان پرایک ہلکانقطہ نمایاں ہوتاہے،جوکہ قریب آتے آتے ہیلی کاپٹرکی شکل اختیارکرلیتاہے،ہیلی کاپٹررن وے پراُترآتاہے،دووازہ کھلتاہے،بھارتی وری میں ملبوس جرنیل باہرنکلتاہے،رن وے پرکھڑاپاکستانی جرنیل ان کااستقبال کرتاہے،وہ ان سے ہاتھ ملاتے ہیں ان کے ہمراہ انکے سٹاف بھی موجودہے،چاروں طرف تباہی کے آثاربکھرے پڑے ہوئے ہیں،ہوائی اڈہ قبرستان کامنظرپیش کررہاہے،جنرل ارڈواکی چہرے کی طرح اس کی وردی تروتازہ ہے،اس کے سینے پرمختلف تمغوں کے تین قطاریں سجی ہوئی ہے،جنرل نیازی اپنی سٹک پرقدرے جھکے ہوئے ہیں،دونوں کے رینک ایک جیسے ہیں لیکن راستے جداجدا،
اب دن کے ایک بج کردس منٹ ہوچکے ہیں،بھارتی کمانڈرکی جانب سے ہتھیارڈالنے کاجوالٹی میٹم دیاگیاتھااس کوختم ہونے میں صرف دس منٹ باقی ہے،بھارت اورپاکستان کے مقامی کمانڈروں کوایک معاہدے پردستخط کرناہیں،میدان میں ہزاروں کی تعدادمیں بنگالی جمع ہے،جوہتھیارڈالنے کی تقریب کابے صبری سے انتظارکررہاہے،میدان کے عین وسط میں لکڑی کی ایک ٹیبل رکھی ہوئی ہے،جس کے اطراف میں بھارتی فوجی الرٹ کھڑے ہیں،جنرل راوڈاکے برابرمیں جنرل نیازی بیٹھے ہوئے ہیں،وہ قدرے خاموش اورافسردہ ہے،ٹیلی ویژن کے کیمرے حرکت میں آتے ہیں،یہ سلسلہ پانچ سے دس منٹ تک جاری رہتاہے،جنرل نیازی اپنی زندگی کی اہم ترین موڑپرکھڑاہے،وہ جذبات سے آخری جنگ لڑنے میں مصروف ہے،ان کی زندگی کاسب سے ذلت آمیزمسودہ میزپرکھاہواہے،جنرل نیازی کاہاتھ آگے بڑھتاہے،اوران کاقلم مسودے پراپنے دستخط کردیتاہے۔
ہائے یہ رسوائی ،یہ بے بسی اوریہ بے چارگی ،یہ ذلت ہماری تاریخ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی،یہ زخم ایسالگاجسے وقت بھی نہیں مٹاسکے گا،یہ چوٹ ہی ایسی ہے کہ رگ جہاں کے اندراُترگئی ہو،کوئی سانحہ ساسانحہ ہے کہ اپنا سب کچھ لٹ گیا،اوروجودزیست بھی بکھرکے رہ گیا۔سقوط ڈھاکہ کے تصورات کے ساتھ خون تیزی سے رگوں میں دوڑنے لگتاہے،ذہین میں شعلے لپگنے لگتے ہیں،اوریوں لگتاہے کہ وجودزیست جل کرراکھ ہوگیاہو،ہندوستان نے ہمیں پارہ پارہ کرنے کی جوسازش 1947میں تیارکی تھی وہ ہمارے عدم تدبرکی وجہ سے دسمبر1971میں کامیاب ہوگئی،10اگست 1974کوجنرل نیازی کوبھارت کی قیدسے رہائی ملتی ہے،پاکستان پہنچتے ہی وہ چیف ست شکوہ کرتے ہیں میری گاڑی پرپاکستانی جھنڈاکیوں نہیں ہے،9اگست 1980کویحییٰ خان کاجنازہ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کرباہرنکلتاہے،تابوت کوسلامی دی جاتی ہے،اور دفن کردیاجاتاہے۔
اب آپ دوسرامنظرنامہ ملاحظہ فرمائیں،یہ سولہ دسمبر2014کادن ہے صبح صادق کے ساتھ ہی ننھے معصوم بچے اپنے اپنے اسکول کی تیاری میں مگن ہے،صبح کے آٹھ بج چکے ہیں،آرمی پبلک سکول پشاورکے طلبہ اسمبلی سے فارغ ہوکرکلاس روم میں پڑھائی میں مشغول ہوگئے ہیں،اب صبح کے دس بج چکے ہیں،سکول کے باہرایک سوزوکی بولان 41کوآگ لگادی جاتی ہے،سات مسلح افرادفرنٹیرکورکی وردی میں سکول سے ملحقہ قبرستانوں کیساتھ سکول کی دیوارپھلانک کر اندرگھس جاتے ہیں،دہشتگردہتھیاروں سے لیس لیس ہے،سیدھاسکول کے مرکزی ہال میں داخل ہوتے ہیں،ہال میںاستاد نویں اوردسویں کلاس کے طلبہ کوابتدائی طبی امدادکی تربیت دی جارہی ہے،داخل ہوتے ہی اپنی اپنی بندوق سے سیدھافائرکھول دیتاہے،ساتھ ہی دھماکے کی آوازبھی سنائی دیتاہے،دیکھتے ہی دیکھتے پوراسکول کھنڈربن جاتی ہے،نواساتذہ اورتین فوجی جوانوں کوملاکر144افراداس خودکش حملے میں جاں بحق ہوجاتے ہیں،جب کہ بہت سارے طلبہ اوراساتذہ زخمی ہوتا ہے،واقعے کی خبرجنگل میں آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جاتاہے،پورا ملک سوگ میں مبتلاہوتاہے،واقعے کی ذمہ داری پاکستان تحریک طالبان قبول کرتاہے،تنظیم کے مرکزی ترجمان محمدعمرخراسانی بی بی سے گفتگوکرتے ہوئے کہتاہے ہمارے چھے افراداسکول میںداخل ہوئے ،طالبان اس کاروائی کوشمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اورخیبرایجنسی میں آپریشن کے درعمل قراردیتاہے۔
اب آپ تیسرامنظربھی ملاحظہ فرمائیں،میں اسکول میں ایک استادکے طورپرکلاس لے رہاہوں،تاریخ پاکستان کامطالعہ کرتے کرتے پاکستان کے دائیں بازوکوجداکرنے کے بارے میںکہنے ہی والاہے،میرازبان رُک جاتاہے،پاکستان اوربنگلہ دیش کی نقشے پرنظرگماتے ہوئے طالبعلم اُٹھ کرسوال کرتاہے،سربنگلہ دیش پہلے پاکستان کاحصہ تھاب کیوں نہیں ہے،میں اسکے سوال کاجواب دینے سے قاصرہے، لیکن میں کوشش کرکے بتاتاہے بیٹااس وقت یہ ملک چندایسے افرادکے ہاتھوں میں تھاجن کواس نعمت کی قدرنہیں تھی،وہ فوراپوچھتاہے،انہیں کوئی سزانہیں دی گئی؟،میںاپنے آپ کوسنبھال کرکہتاہے،نہیں بیٹاوسیع ترمفادات نے ہمارے ہاتھ روک لیے تھے،میں جلدی سے کلاس ختم کرکے نکلنے کی کوشش کرتاہے، اسکول کی گھنٹی بج جاتی ہے اورمیں باہرنکل آتاہے،یہ سوال عرصے تک میرے ذہین میں گردش کرتارہتاہے،لیکن ہم کب تک ان سے حقیقت چھپاکے رکھیں گے،ایک نہ ایک دن وہ اس حقیقت کوجان جائیں گے،اویہ چھپی رازفاش ہوجائیں گے،اس سے پہلے تاریخ کے اوراق جل کرراکھ ہوجاتے توکیاہی اچھاہوتا،اب آتے ہیں سولہ دسمبر2014کی جانب،عمران خان اوراس کے ساتھی تقریباچارمہینوں سے حکومت کے خلاف اسلام آبادڈی چوک پردھرنہ دیے بیٹھاہے،پشاورمیں دہشتگردی کی خبرکانوں کی پردوں سے ٹکراتے ہی وہ دھرنہ ختم کرنے کااعلان کرتاہے،ساتھ ہی وزیراعظم نوازشریف کی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کردہشتگری کیخلاف ان کے ساتھ دینے کااعلان کرتاہے،پشاورآرمی سکول سانحہ تمام سیاسی لیڈروں کوایک ہی پلیٹ فارم پرجمع کرتاہے،اوردہشتگردی کے خلاف کھڑاکرتاہے۔
ہماراالمیہ ہے ہم ملک کی خاطرجان قربان کرنے والوں کی بجائے ملک کوضررپہنچانے والوں کوعزت دیتے ہیں،نہیںمعلوم ہمارایہ روش کب بدلے گا،بس میں صرف یہی کہناچاہتاہوں کہ جس دن ہم ملکی مفادات کیلئے جان دینے والوں کی قدرکرناسیکھ جائیں گے،اس دن ہم دنیاکی عظیم قوم بن جائیں گے،ہمارے سیاستدانوں کوبھی ملکی مفادات کی خاطرایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کے بجائے مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ یہ ملک حقیقی معنوں کی قائدکاپاکستان بن سکے اورعلامہ محمداقبال کے خوابوں کی تعبیرہوسکے۔
تحریر: ممتازعباس شگری

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*