تازہ ترین

گلگت بلتستان کی تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب دنیا کے کسی بھی خطے کی تہذیب و ثقافت سے کم نہیں۔ وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی کا خصوصی انٹرویو۔

سکردو(ٹی این این اوپن فورم) بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد نعیم خان نے تحریر نیوز نیٹ ورک کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت  بلتستان یونیورسٹی میں بلتی تہذیب ثقافت اور زبان کی ترویج کے حوالے سے اُٹھائے جانے والے مثبت اقدام پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مکمل انٹرویو
تحریر نیوزنیٹ ورک :
سر ! آپ کو بلتستان کی پہلی جامعہ کے پہلے وائس چانسلر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، یقیناً یہ اعزاز اس خطے سے آپ کی دلچسپی اور وابستگی کا مظہر ہے۔ امید ہے کہ بلتستان یونیورسٹی یہاں کی تہذیب و ثقافت اور زبان کی ترویج کے لیے مناسب اقدامات کر رہے ہوں گے۔ ہم چاہیں گے کہ اس ضمن میں آپ اپنی بصیرت اور منصوبوں سے متعلق کچھ تفصیلات پر روشنی ڈالیں۔
وائس چانسلر:
بہت شکریہ ، واقعی یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ اس نوخیز جامعہ کے پہلے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا۔
مجھے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ بلتستان کی تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب دنیا کے کسی بھی خطے کی تہذیب و ثقافت سے کم نہیں۔ یہاں کی تہذیبی اور ثقافتی تاریخ کی بنیادیں بدھ مت کی عروج اور بدھ مت سے بھی قبل موجودقدیم بون مذہب یو ’’بون چھوس‘‘ سے جا ملتی ہیں اور بلتستان میں جا بجا ان تہذیبوں کے آثار اور نوادرات موجود اور محفوظ ہیں۔ یہاں کی چٹانوں پر کندہ نقوش ان تہذیبوں اور روایات کی یاد دلاتی ہیں۔
بدھ مت کے بعدصوفی بزرگان دین کی وساطت سے اشاعت اسلام اور پھر اسلامی تہذیب و ثقافت کی آثار یہاں کی قدیم خانقاہوں اور محلات کی طرز تعمیر اور لکڑی پر کشیدہ کاری کے نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس خطے کی اعلیٰ تعلیمی ادارے کی کی حیثیت سے ہمیں ان تمام تاریخی اور تہذیبی آثار کی نہ صرف حفاظت کرنی ہے بلکہ ان کی ترویج اور تعلیم کے لیے بھی اقدامات کرنی ہے۔ بلتستان یونیورسٹی ان زمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور انشاء اللہ جامع منصوبے کے تحت مناسب اقدامات کریں گے۔
اس ضمن میں حالہ ہی میں یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل اور سنڈیکیٹ نے ’’گلگت بلتستان سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ ‘‘ کے قیام کی منظوری دی ہے۔ یہ ڈیپارٹمنٹ گلگت اور بلتستان دونوں کی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی، لسانی ، ادبی اور انسانی وسائل کے ساتھ یہاں کی قدرتی وسائل پر تحقیقات کے ذریعے ان علمی اثاثوں کو محفوظ بنائے گی اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرے گی جس سے دنیا کو نہ صرف یہاں کی تہذیبی آثار سے شناسائی ممکن ہوگی بلکہ گلگت بلتستان اور پاکستا ن کی سوفٹ امیج بھی دنیا کو جائے گی ۔ ساتھ نوجوان نسل اپنے تہذیبی ورثے سے بیزاری کی بجائے اپنی جڑوں سے جُر کر ہیں گے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا جو ان کو با وقار زندگی گزارنے میں مدد دے گی۔
بلتستان کی آثار قدیمہ، تاریخی نوادرات اور ثقافتی ورثے کی تحفظ کے لیے بلتستان یونیورسٹی میں آثار قدیمہ اور ثقافتی مطالعہ کا ادارہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں اس ضمن میں یونیورسٹی نے ابھی تک کچھ اہم ترین اقدامات بھی اٹھائے ہیں ۔ بلتستان میں آثار قدیمہ اور نوادرات کی سب سے بڑے کولیکشن جناب یوسف حسین آبادی صاحب نے خالصتاً اپنی ذاتی کاوشوں سے جمع کیاہے ۔ ان کی بلتستان میوزیم کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہاں کے لوگ کس قدر اپنے ثقافتی ورثے کو بچانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ان کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنے کر کے لیے بلتستان یونیورسٹی نے جناب یوسف حسین آبادی کو آنریر ی پروفیسر ایمریٹس تقرر کیا ہے اور اب اس شعبے میں ہمیں ان کی سر پرستی حاصل ہے۔ پروفیسر حسین آبادی ؔنے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ جب بلتستان یونیورسٹی کے میوزیم کی عمارت مکمل ہوگی ، جو کہ پی سی ون میں منظور ہے، تو ان کا موجودہ موزیم وہاں منتقل ہوگااور اس میں ایک حصہ’’ حسین آبادی بلتی میوزیم‘‘ کے نام سے موسوم ہوگا۔ یہاں پر طلبہ اور محققین سائنسی بنیادوں پر ان نوادرات کا مطالعہ کر سکیں گے۔
اس طرح بلتستان میں جہاں کہیں بھی اس طرح کے نوادرات اور ثقافتی ورثے کے اشیاء موجود ہیں ، میں ان تمام افراد سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ انہیں محفوظ رکھیں اور بلتستان یونیورسٹی جو کہ آپ کا اپنا قومی ادارہ ہے ، اس میں اپنے ناموں سے محفوظ بنانے کے لیے تعاون کریں۔ ان نوادرات کی کاپی رائٹس سے متعلق یونیورسٹی ثقافت دوست قابل عمل پالیسی پر عمل کرے گی۔
اس ضمن میں دوسری اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بلتستان کے طول عرض میں قدیم قلمی نسخوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہیں ۔ ان قدیم نسخوں کی سب سے بڑی کولیکشن برات لائبریر ی خپلو میں موجود ہے اوراس لائبریر کو محقق ، مترجم اور استاد جناب غلام حسن حسنوؔ نے جمع کیا ہے ۔ حسنوؔ صاحب سے ملاقات اور یونیورسٹی کی مجوزہ منصوبوں پر گفتگو کے بعد انہوں نے کمال فیاضی سے اپنے پاس موجود قلمی نسخوں کی سافٹ کاپیاں بنوا کر تقریباً بیس گیگا بائٹ پر مشتمل عملی ذخیرہ یونیورسٹی کی ڈجیٹل آرکائیوز کے لیے عطا کیا ہے جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ ان سافٹ کاپیز کی ہارڈ پرنٹ بنائے جائیں گے اور طلبہ و محققین کے لیے دستیاب ہوں گے۔ یونیورسٹی میوزیم عمارت کی تعمیر اور حفاظتی اقدامات مکمل ہونے پر ان نسخوں کو بھی وہاں محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
تیسری اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ حال ہیں میں قراقرم یونیورسٹی میں منعقدہ’’ گلگت بلتستان ثقافتی کانفرنس‘‘ میں بلتستان یونیورسٹی نے بی سی ڈی ایف (بلتستان کلچر اینڈ ڈولپمنٹ فاؤنڈیشن ) کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیا ہے ۔ اس مفاہمتی یاد داشت کی روشنی میں یونیورسٹی بی سی ڈی ایف کے تحت ابھی تک ہونے والی تحقیقی منصوبوں کے رپورٹس کی روشنی میں علمی سرمایوں کی اشاعت اور ترویج کے لیے اقدامات کرے گی اور ان سے مل کر نئے منصوبوں پر عمل کرے گی۔ ان منصوبوں میں چٹانوں پر موجودہ کندہ آثار پر جاری تحقیق نہایت اہم ہے۔
تحریرنیوز نیٹ ورک:
چونکہ ثقافت اور ادبی ورثے کا اہم ترین حصہ کسی بھی خطے میں زبان میں محفوظ ہوتا ہے، بلتستان یونیورسٹی بلتی زبان و ادب کے بارے میں بارے میں کیا کر ہی ہے اور کیا کچھ کرنے کی منصوبے ہیں؟
وائس چانسلر :
پاکستان میں موجود تمام زبانوں میں بلتی زبان انتہائی منفرد ہے جس کا اپنا منفرد حروف تہجی اور طرز تحریر ہے۔پچھلے ماہ نومبرمیں قراقرم یونیورسٹی میں منعقدہ’’ گلگت بلتستان ثقافتی کانفرنس‘‘ میں ہم نے بھر پور شرکت کی میں نے خطاب بھی کیا اورایک نشست کی صدارت بھی کی۔ اس کانفرنس میں ہمارے یونیورسٹی کے ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر ؔنے قدیم بلتی طرز ِ تحریر ایگے پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا اور ان کا مرتب کردہ بلتی ایگے قاعدہ جسے بی سی ڈی ایف نے شائع کیا ہے، اس قاعدے کی رونمائی بھی ہوئی۔ یہ بات میرے نہایت دلچسپی کا باعث ہے کہ بلتی رسم الخط عربی، فارسی اور انگریزی سے بالکل مختلف ہے ۔ اسی بائیں سے دائیں اور اوپر سے نیچے لکھا جاتا ہے ۔ یہ طرزتحریرتبت، بھوٹان اور دیگر خطوں میں رائج بھی ہے اور بلتستان میں بھی اس کا احیا ہو رہا ہے۔ ہمارے یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات میں اس پر کئی طالب علم مقالے بھی لکھ چکے ہیں ۔ بلتی زبان کو اس کی اصل حروف تہجی اور طرز تحریر کے ساتھ رائج کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے اور یونیورسٹی اس ضمن میں بھی مناسب اقدامات کرے گی۔
بلتستان کی ادب خطے میں نہایت ہی معروف ہے اوراسی مناسبت سے یونیورسٹی میں ’’آدابِ بلتستان لٹریری فورم‘‘ کے نام سے ایک ادبی تنظیم بھی تشکیل دی ہے۔ حال ہی میں اس ادبی فورم کے تحت کل گلگت بلتستان مشاعرہ بھی ہوا ہے جس میں گلگت بلتستان کے نامور شعرا ء نے اردو اور بلتی دونوں میں کلام پیش کیے۔گلگت بلتستان مقامی زبانوں کے حوالے سے بہت تنوع رکھتی ہے اور بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اٹھائیس زبانیں جو اس وقت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں ، آٹھ زبانیں گلگت بلتستان کی ہیں۔
یہ بات قارئین کے لیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ ضلع غذر اشکومن وای کے ایک گاؤں اِمت میں نو زبانیں بولی جاتی ہیں دنیا میں شاید اس جیسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ عالمی ادارہ یونِسکو کے لیے یہ ایک بہترین لیبارٹری بن سکتی ہے۔ اسی طرح ضلع چلاس کے وادی داریل میں بدھ مت کے درسگاہ( یونیورسٹی ) کے آثار موجود ہیں اورگلگت بلتستان کے طول و عرض خصوصاً چلاس ، گلگت دنیور پل کے قریب یونیورسٹی بورڈ آفس کے آس پاس اوربلتستان کی مختلف مقامات سمیت کل تین ہزار مقامات پر پتھروں پر کندہ قدیم تہذیبوں کے آثار نقش و نگار کی صورت میں موجود ہیں۔ گلگت گارگاہ نالہ میں موجود پہاڑ میں کھدا ہوا بدھا کا مجسمہ عجائبات سے کم نہیں اسی طرح سکردو منٹھل میں موجود بدھا یا تونپا راک (Buddha or Tonpa Rock) قدیم تاریخ اور تہذیبوں کی عروج کا پتہ دیتی ہیں۔
اس طرح گلگت بلتستان کی ہر وادی میں ایسی روایات، آثار اور وسائل موجود ہیں جن پر منظم تحقیق اور مطالعہ نہ صرف اس خطے کے لیے بلکہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کے ضمن میں قدیم خانقاہوں، اور مساجد کی طرزِ تعمیر، صدیوں پرانے دستیاب قلمی نسخے جن میں علوم کے خزانے محفوظ ہیں۔ یہ تمام حقائق اعلیٰ تعلیمی اداروں سے خصوصی توجہ ، تدریس و مطالعہ اور تحقیق کے ساتھ ترقی کے روشن امکانات کی طرف دعوت دے رہی ہیں۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم کس حد تک ان مواقع کو پہچانتے ، جانتے اور ان سے استفادہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں یا اپنے آ پ کو قابل بناتے ہیں۔
امید ہے کہ ’’گلگت بلتستان سٹڈیز ‘‘ کا شعبہ بلتستان یونیورسٹی کااہم شناخت بن جائے گا۔اگرچہ بے پناہ مواقع کی وجہ سے اس کے ذیلی شعبے کافی ہوں گے تاہم علمی اور نصابی اعتبار سے اس شعبے کی حدود کا تعین کرنا بھی ضروری ہوگا۔مذکورہ شعبوں میںنئے علوم کی تخلیق کے ساتھ یہ شعبہ دنیا کے مختلف تعلیمی و تحقیقی اداروں سے گلگت بلتستان کے متعلق تمام تحقیقی اشاعتوں، مقالوں اور رپورٹس کو جمع کرے گا اور مقامی شواہد کے ساتھ موازنہ کرکے درست معلومات کی نشاندہی بھی کرے گاجو مستقبل کے محققین اور پالیسی سازوں کے کام آ سکے۔ یوں یہ ڈیپارٹمنٹ اولین منابع سے تخلیقِ علم کا ایک بہترین فورم ہوگا۔ یہ ڈیپارٹمنٹ نہ صرف ایک تدریسی و تحقیقی شعبہ ہوگا بلکہ گلگت بلتستان سے متعلق ایک پالیسی ساز ادارہ بھی ہوگا۔
بلتستان یونیورسٹی اس ضمن میں گلگت بلتستان کے اہل علم و دانش، حکومتی اداروں، پاک فوج ، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مفید مشوروں، علمی، اخلاقی اور مادی وسائل کی ضمن میں تعاون کا طلبگار ہوگا۔ اہل علم و قلم سے گزارش ہے کہ اس ضمن میں اپنی تصنیفات، تخلیقات، نظریات، شائع شدہ علمی مواد کی کم از کم ایک کاپی بلتستان یونیورسٹی کو بھیج کر تخلیق و تنظیم ِ علم میں اپنا حصہ ڈالیں۔ یا د رہیں آپ کے مقالے، تصنیفات اور علمی مواد اس نوخیز یونیورسٹی کے نو زائدہ ڈیپارٹمنٹ کے اولین اثاثو ں میں شمار ہوں گے۔ جن کی روشنی میں آنے والی نسلیں تحقیق کریں گے۔ گلگت بلتستان سے متعلق کسی بھی قسم کی نادرعلمی مواد (آڈیو، ویڈیو، تحریر، نقشہ، تصویر، شائع شدہ اور غیرہ شائع شدہ مواد) اگر آپ کے پاس موجود ہے تو اس کو امانت سمجھ کر یونیورسٹی تک پہنچائیں۔
ترتیب پیش کش : تحریر نیوز نیٹ ورک سکردو بیورو
خصوصی تعاون بلتستان یونیورسٹی ایڈمن بلاک ٹیم۔

  •  
  • 299
  •  
  •  
  •  
  •  
    299
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*