تازہ ترین

کرتار پور راہداری سے مسئلہ کشمیرنظر انداز ہوگا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری آئندہ سال نومبر میں مکمل ہوجائے گی لیکن یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ کرتارپو ر کی وجہ سے جموں کشمیر کا معاملہ پیچھے چلا جائے گا۔ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی سرکاری ٹی وی پر مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی خبریں غلط ہیں۔
اُنکا کہنا تھا کہ چین نے اس معاملے پر پاکستان کو تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، چین نے نقشے میں کشمیر کو سفید رنگ میں ظاہر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے، بھارت کی جانب سے سیکڑوں نہتے کشمیری پیلٹ گنز کے استعمال سے زخمی کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام توجہ طلب معاملات پر بھارت سے مذاکرات چاہتا ہے، ہمیں بھارت سے اس معاملے میں مثبت رد عمل کی امید ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان وفد کی پاکستان آمد کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مفاہمتی عمل آگے بڑھانے پر یقین رکھتا ہے، افغانستان مسئلے کا حل سیاسی ہے فوجی نہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں، جن میں افغانستان میں مفاہمتی عمل ہر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کے حوالے سےمقامی سطح پر کہا جارہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسلے کو پس پشت ڈال کر گلگت بلتستان کو آئینی طور پر پاکستان میں شامل کرنے کیلئے پُرعزم ہے جبکہ دفتر خارجہ اس سے پہلے بھی کئی بار واضح کرچُکے ہیں کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس خطے کو مکمل طور پر پاکستان میں شامل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی رائے شماری ہونا باقی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام آج اپنی آزادی کے اکہتر سال بعد بھی بنیادی سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم ہیں اور نہ ہی اس خطے کو متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق میسر ہیں

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*