تازہ ترین

بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کا میڈیا کو بریفنگ۔

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوجی افسرکا احتساب جوان سے زیادہ سخت کیاجاتاہے،سروس سے برطرفی اور جیل کی حد تک بھی پاک افواج میں سزا ہوتی ہے،2 سالوں میں پاک فوج کے 400افسروں کو سزا دی گئی ہے،سزا پانےوالوں میں ہر رینک کا افسر شامل ہے ،انہیں جیل بھی بھیجا گیا،کرپشن ہو یاچھٹی لیے بغیر جانے پر بھی سزا ہوتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے،کنٹرول لائن پرسیزفائرکی خلاف ورزی،2018 میں 55 شہری شہید،300 زخمی ہوئے،آئیے مل کر اپنا اپنا کردار اداکریں ،عوام کو آگاہی دیں پاکستان میں کیا بہترہوگیا ہے ،ملک کی اتنی اچھی چیزیں ہیں انہیں دکھائیں ،ہر سطح پر میڈیا مالکان سے بھی انگیج کیا ہے ،میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے،ترقی بھی ہورہی ہے تو ہم اس کو واپس کیوں لے جانا چاہتے ہیں ،آج کی افواج پاکستان کل والی فوج نہیں ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ گلی ،شہر میں پاک فوج شہریوں کی حفاظت کیلیے بیٹھی ہے ،دشمنوں نے اس صورتحال کا بہت استحصال کیا ،مشرقی سرحد پر مستقل خطرہ ہے ،روایتی اور غیر روایتی جنگ بھی ہوئی ،نازک دور کا ذمےدارکون ہے ،ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہتے ہیں ،ستر سال ہوگئے ہم یہی بتاتے رہے کہ ملک نازک دور پر ہے ،جنگی لڑ لیں آدھاملک گنوا دیا،ایٹمی قوت بھی بن گئے ،ہماری پہلی خواہش ہوتی ہے غلطی نہ ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آرکا مزید کہنا تھا کہ یہاں چین آف کمانڈ اور ڈسپلن ہے ،پاک افواج کی برانچ کو تھری اسٹار ہیڈ کرتاہے ،پاکستان کی افواج منظم فورس ہے ،ریاست ماں ہوتی ہے، اس لیے پی ٹی ایم سے نرم رویہ اختیار کیا،پی ٹی ایم نے تین مطالبات کیے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک سے 32ہزار غیر قانونی ہتھیار ریکور کیے گئے ہیں ،32 ہزار کےقریب غیرقانی ہتھیار برآمد ہواہے، لاپتا 7ہزار افراد کے کیسز میں سے 4ہزار کا معاملہ حل ہوچکاہے،لاپتا افراد سے متعلق کمیشن 2011 میں بنایا گیا تھا ،سپریم کورٹ لاپتا افراد کے بارے میں کمیشن کے تحت کارروائی کرے،افغانستان حکومت کا سرحدوں پر پورا کنٹرول نہیں ہے،سرحد پارخطرات ختم ہوجائیں تو اپنی افواج واپس بلالیں ،افواج پاکستان نے صورتحال میں بہتری پر چیک پوسٹوں میں کمی کی ہے،کوئی بھی سیکیورٹی ادارہ جس دن جاتاہے تعیناتی ویسے نہیں رہتی ہے۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پورے ملک سے 32ہزار ہتھیار ریکور کیے گئے ہیں ،پہلے پولیو کیسز 144 تھے ،آپریشن رد الفساد؛ پورے ملک سے 32ہزار ہتھیار ریکور کیے گئے ہیں ،پورے ملک میں رد الفساد کے تحت 44بڑے آپریشن کیے گئے ہیں ،آپریشن رد الفساد کو دو سال ہونےوالے ہیں ،کراچی میں بھتا خوری کے واقعات میں 96 فیصد کمی آئی ہے،افواج پاکستان کا فوکس بلوچستان پر ہے تاکہ وہاں بھی حالات بہتر ہوں ،پچھلے 3سال میں 2400فراری قومی دھارے میں شامل ہوئے، سندھ رینجرز نے قربانیاں دے کر کراچی کی روشنیاں لوٹائی ہیں ،2017 میں کراچی میں دہشتگردی کا کائی واقعہ نہیں ہوا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2018 میں کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے ،بھارتی فورسز جان بوجھ کرعام آبادی کو نشانہ بناتی ہیں،بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کیلیے حکمت عملی تبدیل کی ہے ، بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ،کراچی میں 99 فیصد دہشتگردی میں کمی آئی ہے، بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال ماضی سے بہتر ہے، دو لاکھ سے زائد سیکیورٹی فورسز فاٹا میں تعینات ہیں، بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کیلیے حکمت عملی تبدیل کی ہے ،کرتارپور راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی، بھارت سے سکھ یاتری آئیں گے اور واپس چلے جائیں گے،کرتارپور راہداری صرف ون وے ہوگی، دہشتگردی کے خلاف زیادہ تر جنگ خیبر پختونخوا میں لڑی گئی جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 4ہزار سکھ یاتری آسکیں گے ۔

  •  
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*