تازہ ترین

تحریک انصاف اور بار کونسل والے سپریم کورٹ میں نمازیں بخشوانے گئے تھے روزے گلے پڑ گئے۔

اسلام آباد (پ،ر)سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک انصاف اور بار کونسل والے نمازیں بخشوانے گئے تھے روزے گلے پڑ گئے۔سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر عمل در آمدکروانے کے بلند بانگ دعوے پی ٹی آئی کی جانب سے کئے گئے تھے لیکن پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت کے اٹارنی جنرل کی جانب سے آرڑر 2018میں چند ترامیم کی سفارشات سپریم کورٹ میں پیش کی گئیں۔اور جو اختیارات مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت نے گلگت بلتستان کوفراہم کر دیئے تھے وہ کونسل مافیا نے وفاق کی مدد سے واپس لانے۔کے لئے تیاری مکمل کر لی ہے اور اس جرم میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی و بار کونسل برابر کے شریک ہیں ۔گلگت بلتستان سے تمام پارلیمانی اور مالی اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے ۔جمہ کے روز تک وفاق کی طرف سے اپنی مرضی کی سفارشات پیش کر دی جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ اور مشیر اطلاعات شمس میر نے مشترکہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن۔نے گلگت بلتستان کو تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام تر سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان کو آٹھارویں ترمیم کے تحت با اختیار بنایا تھا وہ ااختیارت کونسل مافیا کی مدد سے وفاق واپس لینا چاہتا ہے۔ہمیں اس بات پر انتہائی دکھ ہوا ہے کہ گلگت بلتستان کو مزید اختیارات اور آآئنی تحفظ دینے کے بجائے گلگت بلتستان سے تمام پارلیمانی اور مالی اختیارات وفاق کو منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے اس منصوبے میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی ایک پیج پر کھڑے ہیں جس کی واضح مثال اٹارنی جنرل کی گلگت بلتستان کو کسی بھی طرح کاآئنی تحفظ فراہم کرنے کی سہولت سے معذرت کرنے اور پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کی گلگت بلتستان کے آئنی کیس میں مخالفت ہے۔۔تحریک انصاف والوں کے بلند و بانگ دعوے کہ گلگت بلتستان کو کھبی آئنی صوبہ تو کھبی عبوری آئنی صوبہ بنانے جو قوالی کی جا رہی تھی اس کی قلعی کھل گئی تحریک انصاف کی مرکزی حکومت گلگت بلتستان کو جو آختیارات مسلم لیگ ن نے فراہم کر دیئے ہیں اسے بھی چھننے کی کوشش میں ہے۔صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے حقوق کا بھر پور دفاع کرے اور سپریم کورٹ میں فریق بننے کی درخواست دائر کر دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اب عوام ان لوگوں پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں تحریک انصاف والے صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں تھے لیکن وہ بھی نہ مل سکا الٹا ان کے حصے میں رسوائی ایسے آرہی ہے کہ جو اختیارات مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت نے دئے تھے وہ واپس کر کے گلگت بلتستان کو ستر کی دھائی میں واپس لے کر جانے کا کریڈٹ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے حصے میں آنے کے واضح اشارے ہیں اگر گلگت بلتستان کو مزید با اختیار کرنے کے لئے آئینی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے جو اختیارات آرڈر 2018میں ملے ہیں انہیں واپس کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام گلگت بلتستان اور صوبائی حکومت عوامی حقوق کے تحفظ کے لئے بھر پور طریقے سے سامنے آئے گی ،اس لئے ہم کہنا چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو مزید با اختیار بنا کت آئنی تحفظ دینے کی بجائے اختیارات واپس لا کر وفاق کو دینے کی کوشش ہر گز نہ کی جائے۔

  •  
  • 38
  •  
  •  
  •  
  •  
    38
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*