تازہ ترین

گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں ترمیم کرکے خطے کو مزید بااختیار بنائیں۔سپریم کورٹ کا فیصلہ۔

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے فیصلہ سُناتے ہوئے لاجر بنچ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں ترمیم کرکے گلگت بلتستان کو مزید بااختیار بنانے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نےگلگت بلتستان آرڈر 2018 میں ترمیم کے لیے وفاق مجوزہ ترمیمی ڈرافٹ بنا کر سپریم کورٹ میں 7 دسمبر تک جمع کرانے کا حکم دیا۔
جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہگلگت بلتستان کا اسیٹس تبدیل نہیں ہو گی نہ ہی قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی ملے گی۔ گلگت بلتستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی طرف سے بین الا اقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق پر موقوف پیش کرنے پرجسٹس عظمت سعید نے سر زنش کی آج جسٹس صاحبان کے تیورر بدلے ہوئے اور انتہائی جارحانہ تھا۔گلگت بلتستان کے سنئیر وکیل محمدعلی یار ایڈوکیٹ نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے تفصیلات بتایا کہ گلگت بلتستان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ دوسرے درجے کی شہریت جیسا سلوک روا رکھا ہواہے اور پچھلے اکہتر سالوں یہ خطہ بنیادی سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ اُنہوںے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو قانون سازی میں حق ملنا چاہئے، آرڈر 2009 اور 2018 کو قانون سازی میں رسائی نہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نشستیں ملیں، یہ حق آئینی ترمیم کے بغیر کیسے مل سکتا ہے، کیا ہم مقننہ کو قانون سازی کا کہہ سکتے ہیں، حکومت تو قانون سازی کرنے کیلئے تیار ہے ۔
سلمان اکرام راجہ کے بیان پر چیف جسٹس ثاقب نثار اور بلخصوص جسٹس عظمت سعید صاحب بہت زیادہ طیش میں آگئے اور کہا کہ آپ ریاست کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوے دلائل دیں اور اپنے الفاظ واپس لیں۔ اس موقع پر اُنہوں نے کہا کہ میںگلگت بلتستان کا وکیل ہوں الفاظ کا چناو واپس لونگا کورٹ سے معافی بھی مانگونگا لیکن اپنے موقوف پر قائم ہوں کہ گلگت بلتستان والوں کے ساتھ 2nd citizen جیسا رویہ رکھا ہوا ہے۔ جس پرجسٹس صاحبان انتہائی غصہ میں آگئے اور گلگت بلتستان کے وکیل کو پریشر میں رکھا اور اعتزاز احسن سے رائے مانگتا رہا اور کورٹ کے معاون خصوصی اعتزاز احسن دلائل دیتے رہے۔
جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ گلگت بلستان کی حیثیت کی تبدیلی کا عدالت سے نہ کہا جائے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعین عدالت نے نہیں کرنا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدارتی آڈر کے برعکس حکومت کی مجوزہ قانون سازی پر اعتراض کیا ہے ۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں آئینی ترمیم اور قانون سازی کے بغیر مختص نہیں ہو سکتیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی ترمیم کے بغیر نشستیں مختص نہیں ہو سکتی، یہ یقینی بنایا جائے گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ میسر ہو، عدالت کا فوکس بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ کی فراہمی پر ہے ۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گلگت بلتستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا چاہئے، گلگت بلتستان پاکستان میں بجلی کی کمی پوری کر سکتا ہے، پاکستان میں پانی گلگت بلتستان سے آتا ہے، حکومت گلگت بلتستان کے فنڈز بحال کرنا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیس میں غیر ذمہ دارانہ دلائل یا بات سے ریاست کے مفاد کو نقصان ہوگا، کیا حکومت دو دنوں میں تیار کیا گیا ڈرافٹ پیش کر سکتی ہے؟ اس موقع پراٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی تو ڈرافٹ میں بہت سی تبدیلیاں ہوں گی، عدالت ایک ہفتے کی مہلت دے تو ڈرافٹ پیش کرنے پر اعتراض نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی مشترکہ ڈرافٹ بن کر آ جائے تو اس کو عدالتی حکم نامے کا حصہ بنا دیں گے ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جمعہ کو ڈرافٹ لے آئیں، اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو بعد میں بھی کر سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ہم ہدایات نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ کو صرف زیر غور لانے کا کہہ سکتے ہیں، انشااللہ گلگت کے لوگوں کو یہ حق ضرور ملے گا ۔
عدالت سے باہر جب گلگت بلتستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے جب گلگت بلتستان کے وکلاء سے سوال کیا کہ آپ نے آئین میں ترمیم کیلئے سفارش کیوں نہیں کی تو اُنکا کہنا تھا کہ ایسے کیسے ممکن ہے کہ ایک مقدمہ جس میں اقوام متحدہ اور انڈیا پاکستان دونوں فریق ہے اور اس مسلے نے UNCIP کے تحت حل ہونا ہے اور میں ایک فریق کے طور پر آئین پاکستان میں ترمیم کی سفارش کرکے قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا۔
یاد رہے گلگت بلتستان کے عوام کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بڑی توقعات تھی اور عوامی اس اُمید سے تھے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیاں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا لیکن ایک غیرمنتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے تیار کردہ آرڈر میں ترمیم کا حکم دے گلگت بلتستان کے عوام کو مایوس کردیا۔

  •  
  • 132
  •  
  •  
  •  
  •  
    132
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*