تازہ ترین

ہادی اعظمﷺ کی سیرت کو اپنانا شرط ہے۔۔!!

غرض و غایت:
چونکہ یہ ربیعُ الاول کا مہینہ ہے اور ”ہفتہ وحدت“ کے عملی مظاہرہ کےلئے مسلمانانِ جہاں 12 ربیعُ الاول سے لے کر 17 ربیعُ الاول تک جشنِ میلادُالنبیﷺ مناتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے درمیان اُخوت کا خوبصورت مظاہرہ ہو۔
تلخیص:
ہادی اعظمﷺ کی زندگی کا کون سا ایسا پہلو ہے جو انسانیت کےلئے مشعلِ راہ نہ ہو۔ آپﷺ نے نو عمری میں ہی یتیمی کے داغ سہے۔ سخت ترین جدوجہد آپﷺ کی سیرت کا محاصل ہے، قریش کی اذیت ناک روش نے اگرچہ آپﷺ کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا تھا جہاں یا تو صبر ہی صبر پر عمل کرنا تھا یا بدعا کے ذریعے اُن کے قدم اُکھاڑنے تھے۔ لیکن ہادی اعظمﷺ نے صبر کو ہی دُرست اِنتخاب جانا۔ باوجود کہ اذیتیں جاری تھیں لیکن آپﷺ کے قدمِ مبارک کو ذرا سی بھی لغزش نہ ہوئی۔ مسلسل جدوجہد کا ایسا سیلاب اُمڈ آیا کہ آج تک تاریخِ عالم میں اُس کی مثال ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ آپﷺ کی سیرت کا ہر پہلو سبق آموز ہے، مثالِ ابدی ہے، تعمیر و تعبیر کی تمام تر گہرائیاں آپﷺ ہی کی ذاتِ مبارکہ سے مترشح ہوتی ہیں۔ لہٰذا آج کی دُنیا میں ہادی اعظمﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا شرط ہے اس لحاظ سے کہ ہم زندگی کے کسی بھی شعبے میں آپﷺ کی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کریں۔ زبان اور عمل میں تفاوت ہو تو سیرتِ ہادی اعظمﷺ کی باریک بینی ہماری عقلوں سے کوسوں دور ہوجائے گی اور ہم عقل و منطق سے بہت پیچھے چلے جائیں گے کہ ایک معمولی سی قوم بھی ہم پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھے گی یا عملاً ایسا ہوتا ہوا نظر آئے گا۔
مرکزی مُدعا:
قریب آج سے چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ میں قبیلہ قریش کے خاندان”بنوہاشم“کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام”محمدؐ“ رکھا گیا۔ بزرگوں نے اس نیت سے”محمدؐ“ رکھا تاکہ اُس کی بہت زیادہ تعریف ہو۔ جیسا کہ ”محمدؐ“ کا لفظی معنی بھی ”بہت زیادہ تعریف کیا گیا شخص“ ہے۔ اُن کی نیت کے پسِ پردہ جو بھی مقصد ہو لیکن ہمیں واضح نظر آرہا ہے کہ وہ یتیمِ عبداللہ آج کائنات کے سب سے زیادہ تعریف کے لائق انسان ہیں۔ کروڑہا لوگوں کی زبان پر روزانہ اُن کےلئے دُرود و سلام ہے۔ رحمتیں، برکتیں اور فضلیتیں اُن کےلئے مانگی جاتی ہیں۔ شایدحضرت عبدالمُطلب کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ بات ضرور موجود ہوگی کہ یہ بچہ جس کا نام میں”محمدؐ“ رکھ رہا ہوں، آئندہ دُنیا کےلئے رحمت بنے گا، لیڈر بنے گا، مولا بنے گا اور آقا جیسے القابات بھی تفویض کئے جائیں گے۔ وہ نہ تو دشمن سے مرغوب ہوں گے اور نہ ہی دوستوں کی خامیوں پر رونا دھونا جاری رکھیں گے۔ اپنی پوری جدوجہد میں سختیوں کا مقابلہ اس شان سے کریں گے کہ آخر دشمن کی سانسیں پھول جائیں گی اور وہ خود ہی عرض گزار ہوگا کہ آئیں جنگ کی بجائے بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔(صُلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے) پھر جب مخالفین کی تمام تر سازشیں ناکام ہوں گی اور مسلمانوں کا غلبہ تمام تر طاقت کے ساتھ ظاہر ہوگا تو وہ دشمن یاس و حسرت کے ساتھ سرِ تسلیم خم کرے گا اور اُس کے پاس بالآخر اسلام کے دامنِ گنجائش میں پناہ لینے کے سوا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ (فتحِ مکہ کی طرف اشارہ ہے) اور ایسا ہوا بھی۔ ہر وہ شخص جس نے آغاز میں ہادی اعظمﷺ کی مخالفت کی، تبلیغِ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنا، آج پیغمبراکرمﷺ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہے۔ اللہﷻ کی قسم! میرے نبی کی شان دیکھیں جن لوگوں نے آپﷺ کے ساتھ دو بدو لڑائی کی، آپﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ کو شہید کیا، انتہاء یہ کہ شہید کے کلیجے کو چبانے کی رسم رکھی، وہ آج دستِ نگر ہیں۔ بجائے اس کے کہ پیغمبراکرمﷺ اُن سے کوئی انتقام لیتے، ”انتم طلقاء ، تم آج آزاد ہو“ کی سندِ ابدی سے اُن کی آزادی پر نشان ثبت کردیا۔ یہ ہادی اعظمﷺ کی سیرت کا وہ عظیم پہلو ہے کہ شاید ہم میں سے ہر شخص وہ سبق بُلا بیٹھا ہے۔ ہم اپنے دشمن کو کیا معاف کریں گے، اپنے مخالفین(سیاسی، علمی، معاشی وغیرہ) کو بخشنے کےلئے تیار نہیں۔ حالانکہ ہادی اعظمﷺ کی سیرت کا مندرجہ بالا پہلو ہمیں دعوتِ عام دے رہا ہے کہ ہم بھی اُس جیسی سیرت نہ سہی لیکن کم سے کم عمل پیرا ہونے کی کوشش تو کرسکتے ہیں۔ بس شرط ہے کہ ہم ہادی اعظمﷺ کی سیرت کو آزمائیں اور پہچانیں کہ جب خطرناک ترین دشمن کو معاف کیا جاسکتا ہے تو پھر ناراض رشتہ داروں، عزیز و اَقارب اور اپنے مسلمان بھائی کو کیوں معاف نہیں کیا جاسکتا؟؟
سیرت کے مکّی گوشے:
یہاں سیرت ہادی اعظمﷺ کے دو حصے ہیں: اول اعلانِ رسالت سے قبل کا زمانہ اور دوسرا بعداز اعلانِ رسالت۔ پہلے حصے میں آپﷺ کی خاموش زندگی ہمیں نظر آتی ہے۔ بہت ہی پُرسکون زندگی جس میں کسی سے کوئی تنازعہ نہیں، کسی محفل کا حصہ نہیں۔ نشاط و سُرور کی زندگی سے کوسوں دور، غور و فکر پر مبنی زندگی میں سبق ہی سبق نظر آتا ہے۔ کم عمری میں ہی اپنے حُسنِ اخلاق سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنانا اس زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ قریش کے بڑے بڑے اور بزرگ ترین افراد کی موجودگی بھی آپﷺ کی اہمیت کو کم نہ کرسکی۔ حیثیت و مقام کا اِس قدر بلند معیار تھا کہ آپﷺ “صادق” بھی ہوگئے اور امین” کا لقب بھی تفویض ہوا۔ ایک ایسا شخص کہ جس کی خاصیت ہی یہی تھی کہ وہ “اُمی”(کسی دُنیاوی شخص سے پڑھا ہوا نہ ہو) تھا، اور وہ اپنے اخلاق سے لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ کیا کسی اور شخص میں ان خصلتوں کا موجود ہونا ممکن تھا؟ اگر ہاں تو پھر آپﷺ جیسا کوئی دعویدار کیوں نہ ہوا۔ اگر نہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ یتیمِ عبداللہ میں کوئی تو ایسی بات تھی کہ جس نے آپﷺ کو دیگر لوگوں سے ممتاز کیا تھا۔ میں تو کہوں گا(تاریخی شواہد سے مُستعار لیتے ہوئے) کہ قبل ازیں بھی آپﷺ میں نبوت کے آثار نمایاں تھے۔ یہ بات الگ ہے کہ پہلے کردار سازی کی گئی۔ لوگوں سے اقرار کروایا گیا کہ آپﷺ امین بھی ہیں اور صادق بھی ہیں۔ جب یہ مرحلہ طے ہوا تو پھر”اقرأ” کی صدا سے باقاعدہ اسلام کا افتتاح ہوا۔ وہ جو محنت اعلانِ رسالت سے قبل کی گئی تھی اب اعلان کے بعد وہ محنت مزید سخت اور مخالفتوں، رنجشوں اور رکاوٹوں سے مزین ہوگئی۔ یہاں تک کہ مکہ ہادی اعظمﷺ کےلئے تنگ ہوگیا اور مجبوراً ہجرت۔

تحریر:ڈاکٹر محمد ریاض

  •  
  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
    39
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*