تازہ ترین

نئی بوتل میں پُرانی شراب۔۔

سکردو میں اسلامی تحریک کایوم الحاق جلسہ اور گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو کی آمد پر بھرپور استقبال کا منظر، دل بہت بیقرار تھا اس بے چینی کی عالم میں باہر گلی میں کئی دفعہ چکر لگایا اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی مجھے ان دونوں جلسوں کی کوئی خبر دے لیکن کہیں دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا آخر ناامید ہوکر واپس گھر کی طرف رخ کیا تھا کہ اچانک ایک آواز کانوں سے ٹکرائی جس میں کوئی چلاّ چلاّ کر کہہ رہا تھا چلو چلو گلگت چلو میں ایک لمحے کے لیے قدم روک کر واپس روڈ پہ نکلا تو دور سے ایک قافلہ آتے دیکھا سب کی زبان پر جئے بھٹو جئے بینظرا کی صدائیں بلند تھی قریب پہنچ کر کسی نے کہا شاہ جی چلو گلگت چلتے ہیں بلاول سے ملاقات بھی ہوگی، میں نے کہا،یار!ویسے جانا تو ہے لیکن پہلا میں ذرا سکردو جلسے کا منظر بھی دیکھوں بعد میں گلگت جاؤں گا۔قافلہ نکل گیا اورمیں وہیں کھڑا رہا۔ اب جو دیکھا تو میرے ایک دوست آیا کہا شاجی سکردو جلسے میں چلنا ہے تو میرے ساتھ چلو میں وہاں کے ذمہ داروں سے بات کر کے آیا ہوں آپ کو پہلی صف میں جگہ مل جائیگی اور ممکن ہے تقریر کا موقع بھی مل جائے لیکن خیال رکھنا تقریر کے دوران کہیں اپنی طرف سے کوئی بات نہ کرنا، بلکہ آپ کو ہدایت ملے گی اسی کے مطابق بات کرنی ہوگی۔ دل میں خیال آیا چلو یار تقریر نہ سہی پہلی صف میں تو جگہ مل رہی ہے اس سے اچھا اور موقع نہیں ملے گا میں دوست کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا دوست مجھے سیدھا یادگار شھداء پر لے گیا، جب وہاں پہنچا تو میرے کچھ جاننے والے احباب مجھ سے پہلے ہی وہاں موجود تھے دل کو سکون مل گیا۔خیر مقررین زور شور سے تقریروں میں مصروف تھے اتنے میں کسی نے کہا ہم صوبہ چھین کے لیں گے، کوئی کہہ رہا تھا کچا صوبہ نامنظور، ہمیں اپنے مکمل حقوق چاہیے، آئندہ پکیج سے کام نہیں چلے گا، لالی پاپ کا دور ختم ہوگیا، اسی طرح کے مختلف جملے سن کر میں ایک گہری سوچ میں چلا گیا اگر آج تک ہمیں حقوق نہیں دیا تو غلطی کس کی ہے؟ صوبہ نہیں بنایا تو ستر سالوں سے یہ جذباتی لوگ کہاں تھے اور کیوں خاموش تھے اتنے عرصے سے کچے صوبے پر خوش کیوں تھے اور آج اچانک ان کو ان سب باتوں کا خیال کیسے آیا؟ اس سے پہلے کبھی یوم الحاق کیوں نہیں منائی؟ دماغ میں اس قسم کے مختلف سوالات جنم لئے تو میری پریشانی بڑھ گئی سوچا اب یہاں سے نکل جانا چاہیے دوست سے کہا اب مجھے گلگت جلسے میں بھی جانا ہے اجازت دیجئے دوست حیرانی کے عالم میں پوچھا اب تم کیسے جاؤگے گلگت کا قافلہ کب کا روانہ ہوچکا، لیکن میں نے کسی طرح وہاں سے نکلنا تھا آخر کامیاب ہوگیا میں یادگار سے گمبہ کی طرف چل رہا تھا کہ ایک گاڑی قریب آکر رکی دیکھا تو پیپلز پارٹی بلتستان کی اعلیٰ قیادت بلاول کی تقریر سننے جارہے تھے میں نے منت سماجت کی آخر گاڑی میں جگہ مل گئی، گلگت پہنچتے ہی جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوا لوگوں کا جم غفیر تھا جئے بھٹو کی بلند بالا صدائیں گونج رہی تھی، لوگ بلاول کو بوسہ دینے کیلیے ایک دوسرے پر سبقت لے رہے تھے، میں نے بھی چاہا کہ اس قافلے میں شامل ہوجاؤں لیکن اتنے بھیڑ میں مجھ جیسوں کو کہاں موقع مل سکتا تھا سرتوڑ کوشش کے باؤجود بھی کسی طرح بلاول کے پاس نہیں پہنچ سکا اور میں یہ اعزاز حاصل کرنے سے محروم رہا، خیر بہت دور سے بلاول کی تقریر سن رہاتھا اتنے میں بلاول نے ذوالفقار بھٹو سے لیکر بینظیر، زرداری اور اپنے دور تک کے تمام وعدے نبھانے کا عہد کیا، ساتھ ہی گلگت بلتستان کو آئینی طور پر خود مختار صوبہ بنانے کا اعلان بھی کیا اور یہاں کی زمینوں پر حکومتی قبضہ بھی چھڑالی، غریبوں میں روٹی کپڑا اور مکان بھی تقسیم کیئے اور اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پیپلز پارٹی جھوٹے وعدوں پر یقین نہیں رکھتی جنہوں نے تبدیلی کا نعرہ لگاکر ملک کو برباد کیا ہے ان سے بدلا لونگا۔ مجھے انتہائی خوشی ہوئی ایک دفعہ جوش جذبے سے اٹھ کر جئے بلاول کا نعرہ لگایا لوگوں نے میرے نعرے کا جواب اس قدر شدتِ آواز کے ساتھ دی کہ اسی آواز سے میری آنکھیں کھل گئی، اور اپنے آپ کو بستر پر دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا، وہ بھی کراچی میں اگر اس وقت سکردو میں ہوتا تو کم از کم الحاقی جلسے میں شرکت کرکے قلبی سکون پاسکتا تھا لیکن اب تو اب یہ بھی ممکن نہ تھا۔ آخر غم بھلانے کی غرض سے ٹی وی آن کیا تو دیکھا سکردو میں اسلامی تحریک والے بزور بازو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے بعد کچا صوبے کو مسترد کرکے پکا صوبہ بنارہے رہے تھے? گلگت میں بلاول صاحب جی بی والوں کو آئینی حقوق دینے میں مصروف تھے، مگر عین اسی وقت مجھے وہ لمحے بھی یاد آنے لگے جب پنجاب بھر میں ایک مسلک کے لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا جارہا تھا جس پر اسلامی تحریک خاموش رہے، گندم سبسڈی کے خاتمے پر خون جمانے دینے والی سردی میں بلتستان کے عوام نے چودہ روز تک یادگار شھداء پہ دھرنے دئے اس وقت یہی حقوق کے علمبردار گرم کمبل اوڑھ کر استراحت فرمارہے تھے، ٹیکس کے خلاف سکردو سے گلگت لانگ مارچ کا مرحلہ آیا لیکن حسب روایت منظر سے غائب رہے، دوسری جانب سندھ بھر میں غریب عوام ایک نوالے کیلے ترس رہے تھے بلاول یہاں نظر چراتے رہے، تھرپارکر میں غریبوں کے بچے بھوک سے مرتے رہے، ایک ایک بوند پانی کو ترستے رہے ان کے پاس جسم ڈھاپنے کیلیے دو فٹ کپڑا بھی نہیں تھا، اور سر چھپانے کے لیے کہیں دور تک سائیہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔بس پھر یہ تمام حالات اور مناظر دیکھ کر میرے دل میں بلاول بھٹو اور اسلامی تحریک کے راہنماوں کی محبت شدت سے بڑھ گئی کہ انہوں نے اپنے گرد اتنے مسائل ہونے کے باؤجود بھی ہمیں فراموش نہیں کیا بلکہ ان کو اپنے علاقوں سے زیادہ ہمارا خیال آیا، جس کی بنا پر اپنے لوگوں کو اسی حالات میں رکھ کر اتنے دور ہمیں حقوق دلانے کیلیے پہنچ گئے جوکہ یقیناً ان کے دلوں میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ محبت ہونے دلیل ہے، اور ہم بھی بڑے مہمان نواز ہیں ہر آئے مہمان کو بلا تفریق خوش آمد کرتے ہیں چاہے وہ ہمیں حقوق دیں یا پھر حقوق سے محروم رکھنے کے لئے مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے چلا جائے? بس ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ مہمانوں کی خاطر خواہ مہمان نوازی کرنی ہے۔اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست کے شہنشاہ جناب آصف زرداری صاحب نے ایک مرتبہ پھر جی بی عوام کو نئی بوتل میں پُرانی شراب پیش کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہے۔

تحریر: سید مرتضی موسوی

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*