تازہ ترین

گلگت بلتستان کی اکہترسالہ محرومیاں اور سپریم کورٹ سے توقعات۔

پاکستان کے زیر انتظام مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب بڑی اور وسیع اکائی سرزمین گلگت بلتستان کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا چُکا ہے۔ آج ہمارا بحث یہ نہیں ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں کئی ریاستوں پر مشمل ایک عظم ملک ہوا کرتے تھے۔ہم اس بحث میں بھی نہیں جائیں گے کہ تقسیم برصغیر اور ریاست جموں کشمیر اور تبتہا کا شیرازہ بکھیر کر ریزہ ریزہ ہونے سے پہلے گلگت اور لداخ (موجودہ بلتستان اور بھارت زیر قابض کرگل)دو قانونی اور آئینی صوبے تھے۔ہمارا بحث یہ بھی نہیں ہوگا کہ گریٹ علی شیرخان انچن کے دور سلطنت میں لداخ سے لیکر کوہستان تک ایک ریاست کے طور پر وجود رکھتے تھے۔ آج ماتم اُس وقت سے شروع کروں گا جب یکم نومبر 1947 کو عظیم دھرتی کے دلیر سپوتوں نے گلگت سے تعلق رکھنے والے گریٹ کرنل مرزا حسن خان کی قیادت میں قدرتی ،معدنی اور آبی ذخائر کو مالا مال خطے کو بھارت کی جولی میں جانے سے بچایا اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی لیکر کھیچ کر جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی اور اس نومولود مملکت کو صرف 16 دنوں میں برطانوی سامراجی ایجنٹوں کی سازشوں ،اپنوں کی سادگی اور لاشعوری کے ساتھ مذہبی منافرت اور منافقت کے ساتھ گلگت بلتستان کے میروں اور راجاوں کی غداری کا بھینٹ چڑھ گیا ۔یوں 16 نومبر1947 کو ایک غیر مقامی پختون تحصلیدار رابطہ افسر نے اس خطے کا پہلا پولٹیکل ایجنٹ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال کر سرحدی قانونFCR نافذ کرکے ایک کالونی کی بنیاد رکھی جو مختلف ادوار میں پیکج اور آرڈر کے زیر سایہ سفر کرتے کرتے مسلم لیگ ن کی حکومت نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 نامی ایک حکم نامہ نیا کالونیکل نظام نافذ کرکے اس خطے کو اکیسویں صدی میں مزید قیدی بنا دیا۔
گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت اور اس خطے کی محرومیوں کی طویل داستان ہے اور یہ داستان بڑا کرب اور تکلیف دہ بھی ہے ۔کیونکہ اس خطے کی اکہتر سالہ محرومیوں کی ایک وجہ جہاں مملکت پاکستان کے حکمران اور مسلہ کشمیر ہے وہیں مقامی سطح پرعوام سے ووٹ لیکر کر حکومت کرنے والوں کا من حیث الاقوم ایک نظرئے پر اتفاق کرتے ہوئے خطے کی سیاسی سماجی اور معاشی محرومیوں کو ختم کرنے کی کوشش میں ناکامی ہے۔ستم یہ ہوا کہ یہاں اسلام آباد سے جو بھی نظریہ امپورٹ کیا گیا اُس نظرئے کو کبھی قومیت کے نام پر ،کبھی علاقایت اور مسلک کی بنیاد پر عوام میں پرچار کرتے رہے اور سادہ لوح عوام چونکہ سیاسی طور پر لاشعور تھے اور ہیں ،یہی سمجھتے رہے کہ یہی بہروپ لوگ اور نظریہ ہی دراصل اس خطے کی اصل ضرورت اور مسائل کا حل ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے عوام کو ان اکہتر سالوں میں اصل مسلے کی طرف توجہ ہونے ہی نہیں دیا اور جب جب یہاں کے عوام نے اُن سازشوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے کی کوشش کی یہاں پر قیامت برپا کرتے رہے اور عوام اُنہی اُلجھنوں میں اُلجھ کر آج اکیسوں صدی میں بھی عجیب اور غریب قسم کے غیرعقلی ،غیرمنطقی اور قانون سے ہٹ کر دلیل پیش کرکے اپنی لاعلمی کو محبت کا نام دیکر خوش ہوتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
گلگت بلتستا ن میں سیاسی اصلاحات کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی مرضی کے بغیر 28 اپریل 1949 کو اُس وقت کے کشمیر ی قیادت کے زیر دستخطی گلگت بلتستان کومسلہ کشمیر کی حل کیلئے رائے شمار ی تک وفاق پاکستان کے سپرد کرنے تک کے بعد پہلی بار1961میں سیاسی نظام کی بنیاد رکھ کر پہلی مرتبہ انتخابات کروائے گئے۔ اسی طرح1979میں پہلی مرتبہ شمالی علاقہ جات ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات لاتے ہوئے گلگت بلتستان کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیا اور ایف سی آر اور ایجنسی نظام ختم کر کے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا۔1972اور1974کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا خود دورہ کیا اور بھرپور عوامی مطالبات پر ضلع دیا مر، ضلع غذر اور ضلع گانچھے کا قیام عمل میں لایا اور گلگت بلتستان کے قومی جماعتوں کو ختم کرکے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔1977میں جب پاکستان میں مارشل لاء لگایا گیا تو متنازعہ گلگت بلتستان کو کشمیر سے ہٹ کر مارشل لاء کا پانچواں زون قرار دے کر یہاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ 1979میں گلگت بلتستان میں ناردرن ایریاز لوکل گورنمنٹ آرڈر نافذ کیا گیا۔ اسی طرح1984میں گلگت بلتستان سے تین افراد کو پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ میں مبصر نامزد کیے۔1991میں پہلی بار ناردرن ایریاز کونسل میں خواتین کے لیے دو نشستیں مختص کیے جانے کے باعث ارکان کی تعداد سولہ سے بڑھ کراٹھارہ ہوگئی۔1994میں شہید بے نظیر بھٹو نے ایک پیکج دیا جس کے تحت پہلی مرتبہ ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے اور ارکان کونسل کی تعداد کو سولہ سے بڑھا کر 26کر دیا گیا جس کے تحت غذر اور گانچھے کے اضلاع کو تین تین جب کہ دیگر تین اضلاع سکردو، گلگت، دیامر، کو چھے چھے سیٹیں دی گئیں۔ گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر کو چیف ایگزیکٹو بنایا گیا اور ناردرن ایریاز کونسل سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور پانچ مشیر منتخب کیے گئے۔ عدالتی اصلاحات میں ایک چیف کورٹ کا اضافہ کیا گیا جو ایک چیئرمین اور دو ممبران پر مشتمل تھی۔ اسی طرح ایک اور پیکج معرکہ کارگل کے دوران28مئی1999کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں دیا گیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ شمالی علاقہ جات کے عوام کو بنیادی حقوق فوراً فراہم کرے اور حکومت کا اختیار وہاں کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے آزاد عدلیہ قائم کی جائے۔
وفاقی حکومت نے اکتوبر1999کو سیاسی، عدالتی اصلاحاتی پیکج کا اعلان کیا لیکن وہ تمام حقوق نہیں مل سکے جسکا سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا(آج بھی وہ کیس زیر سماعت ہے)۔ جس کے مطابق ناردرن ایریاز کونسل کو قانون ساز کونسل کا درجہ دے دیا گیا۔ کونسل کو49شعبوں میں قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ایک اپیلٹ کورٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جب کہ کونسل میں خواتین نشستوں کو2سے بڑھا کر5 کر دیا گیا۔ تیسرا پیکج صدر مشرف کے دور میں مرحلہ وار آیا۔ جس میں پہلے پانچ سال کے دوران1999سے2004تک ترقیاتی فنڈ کو86کروڑ سے بڑھا کر ساڑھے چار ارب کردیا گیا۔ جب کہ اکتوبر2003میں کونسل کے لیے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ دیا گیا۔2004میں لیگ فریم ورک آرڈر میں ترمیم کے ذریعے قانون ساز کونسل میں سے6خواتین اور پہلی مرتبہ6ٹیکنوکریٹ کی نشستیں دی گئیں جس سے ارکان کونسل کی تعداد26سے بڑھ کر36ہوگئی اور ضلع دیامر کے سب ڈویژن استور کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی جعرافیائی اہمیت کے پیش نظر2007میں32 سال بعد کونسل کو ورک آرڈر ختم کرکے ناردرن ایریاز گورننس آرڈر نافذ کیا گیا۔ جس کے تحت قانون ساز کونسل کو اسمبلی کا درجہ دیا گیا۔ سپریم اپیلٹ کورٹ قائم کیا گیا اور وفاقی وزیر کو چیئر مین اور ڈپٹی چیف کو چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دیا گیا۔
چوتھی بار ستمبر2009میں گلگت بلتستان (ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈرجاری کیا جس کے تحت گلگت بلتستان کو چار صوبوں والے ملک کا پانچواں بے اختیار وزیر اعلیٰ اور گورنر نصیب ہونے کے ساتھ ساتھ شمالی علاقہ جات کا نام پہلی بار تبدیل کرکے گلگت بلتستان کے نام سے اس خطے کو شناخت ملی جو کہ اس خطے کی عوام کا دیرنیہ مطالبہ تھا۔ اسی طرح اس پیکج میں سیاسی خودمختاری کا نعرہ لگایا لیکن عملی طور پر آج بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے اہم فیصلے ایک غیر منتخب غیر مقامی وزیر اور غیرمقامی بیوروکریٹس کرتے ہیں۔اُس پیکج میں گلگت بلتستان کیلئے گورنر اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوئے اور وزیر اعلیٰ کی معاونت وزیر اعلیٰ کو دو مشیر اور پارلیمانی سیکریٹری مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا۔ گورنر کا تقرر وزیر اعظم پاکستان کی مشاورت سے صدر پاکستان کرتے ہیں جبکہ منتخب اسمبلی کو وزیر اعلی منتخب کرنے کا اختیار دیا ۔قانون ساز اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد38ہوگی۔ جس میں سے24براہ راست منتخب ہوں گے جب کہ سات سات نشستیں، خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی ہوں گی جس میں ہر ضلع کی نمائندگی شرط ہے اور جن امور پر قانون ساز اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے۔ ان کی تعداد49سے بڑھا کر61کر دی ہے۔کشمیر کونسل کی طرز پر گلگت بلتستان کونسل قائم کیا گیا جس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان گورنر اُس کے وائس چیرمین وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو بھی اس کے ممبر ہونے کا اختیار دیا۔ اسکے علاوہ اور بھی کئی اہم شقیں موجود ہیں مگر اس پیکج سے بھی گلگت بلتستان کے عام عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی معاشرتی ترقی اور تعمیر کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی بلکہ یہاں کرپشن اقرباء پروری کی ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی تعلیم نظام کا بیڑا غرق ہوگیا نوکریوں کی بولی لگ گئی ۔ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت پھر بھی برقرار ہے مگر دیگر تین تین ریجن کی طرح متنازعہ حیثیت پرحقوق ملنے سے ناکام رہے جس کے سبب اس خطے میں انوسٹمنٹ اور صنعتوں کا قیام آج بھی ناممکن ہے۔
وفاق میں پیپلزپارٹی کا سورج غروب ہوتے ہی گلگت بلتستان میں ایک مرتبہ پھر حقوق دلانے کے نعروں میں تیزی آگئی اور مسلم لیگ ن کو پہلی بار گلگت بلتستان میں حکومت کرنے کا موقع ملا اور یہ موقع کیا ملنا تھا کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمنٰ نے ماضی کے وہ تمام انتقام سیاسی طاقت کا استعمال کرکے لینا شروع کردیا ، متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق مانگنا ایک طرح سے جرم ،بلکہ ملک سے غداری ثابت کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ شائد دنیا کی تاریخ میں پہلی بار بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقدمے درج ہوئے، فورتھ شیڈول کو سیاسی انتقام کے طور پرآج بھی خوب استعمال کیا جارہا ہے ، گلگت بلتستان کے کئی نامور غیرسیاسی اور سماجی خدمتگار علمائے کرام کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے دہشتگرد بنا کر فورتھ شیڈول میں ڈال دیا۔یوں حفیظ الرحمن کی حکومت گلگت بلتستان کیلئے ایک طرح سے آمریت ثابت ہوئی اور لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ جو کچھ ضیاالحق کے دور میں پاکستان میں ہوتا تھا وہی کچھ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان میں سی پیک بچانے کے نام پر کیا جارہا ہے لیکن وہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو حقوق نہیں دلاسکے۔ البتہ اُس آڑ میں گلگت بلتستان میں بنیادی حقوق کی مطالبے کیلئے کرنے والے سیاسی جلسوں اور عوامی احتجاج کو بھی بھارت نوازی سے جوڑا گیا،جنہوں نے اس خطے کو بھارت کی جولی میں جانے سے روکا تھا اُن کے اولاد تک کو غدار ثابت کرنے کی ناداں کوشش کی گئی۔یوں اکہتر سالہ تاریخ میں جہاں گلگت بلتستان سیاسی حقوق اور معاشی مسائل سے دوچار ہیں وہیں 2013 میں مسلم لیگ ن کی حکومت آنے اور حفیظ الرحمن وزیر اعلیٰ بننے سے اس خطے کالونی بنانے کے راہ کو مزید ہموارہو گیا ۔
گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا دعویٰ چونکہ مسلم لیگ ن نے بھی کی تھی۔ لہذا نواز شریف کا کئی بار گلگت چکر لگانے کے بعد گلگت بلتستان کی سیاسی محرومیاں ختم کرنے کیلئے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دی گئی جو سرتاج عزیز کمیٹی کے نام سے جانے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے اُس کمیٹی میں گلگت بلتستان کے کسی عوامی نمائندے کونمائندگی یا یہاں کے اسمبلی رائے تک لینے کی زحمت نہیں کی گئی۔ یوں اُس کمیٹیکی سفارشات پر گلگت بلتستان سیلف ایمپاورمنٹ آرڈر 2009 کو کعلدم قرار دیکر 27 مئی کو وزیر عظم شاہد خاقان عباسی نے گلگت آکر گلگت بلتستان آرڈر 2018 مسلط کردیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جب یہ حکم نامہ نافذ کرنے گلگت آئے تو عوام نے شدید احتجاج کیا یہاں تک کہ اُن کے ہیلی کاپٹر تک پر جوتے پھنکے گئے ،عوامی ایکشن کمیٹی نے سڑکوں پر جبکہ متحدہ اپوزیشن نے قانون ساز اسمبلی کے اندر خوب ہنگامہ آرائی کی لیکن اُنہوں نے نہ عوامی احتجاج کا پراہ کیا اور نہ ہی متحدہ اپوزیشن کی کوئی بات سُنی بلکہ یہاں تک کہاکہ اتنا اچھا پیکج بنایا ہے جو عوام اور اسمبلی میں بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے یوں اُس آرڈر گلگت بلتستان کے عوام ایک طرح سے 2018 کا ایف سی آر سمجھتے ہیں کیونکہ اُس آرڈر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اورایک غیرمنتخب وزیر اعظم کو گلگت بلتستان کے بادشاہ کے طور پر اختیارات دی گئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولا با سلطان رئیس کو اسی غصے کی پاداش میں گزشتہ روز دوبارہ گررفتار کیا گیا ہے اُنکا جرم یہ نہیں کہ اُنہوں نے تحریک لبیک والے مولویوں کی طرح آرمی چیف اور چیف جسٹس کے خلاف فتوی جاری کیا ہوا یا این ایل آئی کے جوانوں کو بغاوت پر اُکسایا ہوکسی قسم کے دہشتگردی میں ملوث ہو۔بلکہ اُنکا جرم نئی نسل کو شعور اور اگاہی دینا اور گلگت بلتستان سے مسلکی سیاست کو ختم کرکے بین المسالک ہم آہنگی کیلئے ایک فضاء قائم کرتے ہوئے اکہتر سالوں سے منتشر عوام کو قومی ایجنڈے پر اکھٹا کرنا ہوسکتا ہے۔
اب چونکہ گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کا مقدمہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے اور اس حوالے سے دو سماعتیں باقاعدہ طور پر ہوچُکی ہے اس دوران بھی وفاق نے سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کے حوالے سے معاملے کو ٹالنے کی مسلسل کوششیں کی گئی ہے لیکن گلگت بلتستان کے عوام کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ کے لارجر بنچ اور چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کی طرف ہے کیونکہ اُنہوں نے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کا وعدہ کیا ہے اور وفاقی حکومت کو بھی 3 دسمبر تک مکمل رپورٹ پیش کرنے میں ناکامی کی صورت میں فیصلہ سُنانے کی دھمکی بھی دی ہے جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ایک اُمید کی کرن سے کم نہیں ۔
گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں؟،مختصر جائزہ لیں تو ،جیسے خود چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام لاہوریوں سے ذیادہ پاکستان سے پیار کرتے ہیں یہ ایک حقیقت ہے لیکن وفاقی حکمرانوں نے اس پیار کو آج تک جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔یہاں کے عوام پانچواں آئینی صوبے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب چونکہ عوام کو معلوم ہو گیا ہے مسلہ کشمیر پر مملکت پاکستان کی پالیسی اور بین الاقوامی قوانین کے ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں لہذا مسلہ کشمیر کو خراب کئے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کو قومی شناخت دینا خاص طور پر معاشی بدحالی کے شکار اس خطے میں معاشی انقلاب لانے کیلئے جامع منصوبہ بندی وقت کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میںسیاسی او ر مذہبی مراعات یافتہ طبقے کے علاوہ اب ہر شخص یہ کو معلوم ہے کہ نعرہ لگانا آسان ہے لیکن اُس نعرے کی بنیاد پر حقوق کا حصول ایک مشکل عمل ہے کیونکہ مسلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اثاث ہے اور کشمیریوں کی قربانیوں کے حوالے سے مملکت پاکستان کا موقف بھی دنیا کے سامنے واضح ہے۔ ایسے گلگت بلتستان جو کہ ریاست جموں کشمیر کا 65 فیصد رقبہ ہے،کو کاٹ کر بغیر کسی اقوام متحدہ کی موجودگی اور رائے شماری کے پاکستان میں شامل کرنا عالمی سطح پر مملکت پاکستان کیلئے بہت ذیادہ مسائل پیدا رکرسکتا ہے۔ اور اس حوالے سے دفتر خارجہ کئی بار اعلان بھی کرچُکے ہیں،دفتر خارجہ یہاں تک کہہ چُکے ہیں کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس خطے کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قوانین کے مطابق ہی ہوگا۔
اس حوالے سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کئی بار گلگت اور اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرکےگلگت بلتستان آرڈر 2018 کو غلامی کا طوق قرار دیکر آئینی صوبہ ناممکن ہونے کی صورت میں کشمیر طرز کے سیٹ کا مطالبہ چُکے ہیں جس سے مسلہ کشمیر پر کوئی آنچ نہیں آئے گا۔متحدہ اپوزیشن کئی بار کہہ چُکے ہیں کہ اصلاحاتی آڈر2018 کے تحت تمام تر اختیارات اور تمام انتظامی اور آئین سازی کے اختیارات وزیر اعظم کے ہاتھوں میں دیکر تمام آئینی اور قانونی تقاضوں کو پامال کرکے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کیہے۔ اسی طرح عوامی ایکشن کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو آرڈرز ،پیکیجز، اور گرانٹس پر چلانے کی کوشش کرنے کے بجائے کوئی بھی سیٹ اپ صرف ایکٹ آف پارلیمنٹ، آئین پاکستان میں ترمیم کےذریعے دیں یا دفاع کرنسی اور خارجہ پالیسی وفاق کے پاس رکھ کر مسلہ کشمیر کی حل
تک کیلئے وفاق سے تمام اختیارات گلگت بلتستان منتقل کریں۔ گلگت بلتستان میں سیٹ سبجیکٹ قانو ن کی خلاف ورزیوں کو روکیں،یہی مطالبہ پاکستان پیپلزپارٹی کا بھی ہے،گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر امجد حسین ایڈوکیٹ بھی مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے سیٹ سبجیکٹ رول کے ساتھ کشمیر کے طرز پر عبوری بااختیار نظام کا مطالبہ کرچُکے ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے تمام طلبہ تنظیموں یوتھ اور دیگر سیاجی سماجی رہنماوں اور سرکاری نوالہ نہ کھانے والے اہل قلم اور دانشوروں کابھی یہی مطالبہ ہے۔اب اس وقت گیم سپریم کورٹ کے ہاتھ میں ہے اور اُمید یہی ہے کہ فیصلہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفتر خارجہ کے بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے UNCIP کے ریزولیشن کے تحت گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کو ختم کرنے اور اس خطے کو قومی شناخت دلانے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

تحریر : شیرعلی انجم

  •  
  • 39
  •  
  •  
  •  
  •  
    39
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*