تازہ ترین

گلگت بلتستان کا سیاسی مستقبل عبوری یا مستقل صوبہ؟

 گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کافیصلہ اہم موڑ میں داخل ہوچکاہے اور امکان ہے کہ رواں ماہ کے آخریا دسمبر تک کے میں اہم پیش رفت ہوگی۔گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع ہے ، یہ خطہ انتظامی طورپریکم نومبر1947تک قائم ریاست جموں وکشمیر کا رہا۔ گلگت بلتستاں 28ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے اور یہ غالباً دنیا کا واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں برائے راست چار ایٹمی قوتوں پاکستان، بھارت ،چین،سابقہ سویت یونین (تاجکستان ) سے ملتی ہیں اور افغانستان میں امریکی اثررسوخ کو مد نظر رکھاجائے توعالمی سپر پاور بھی عملاً پڑوسی ہے۔

گلگت بلتستان یکم نومبر 1947ء سے قبل گلگت بلتستان 16مارچ1846ء کو معاہدہ امرتسرہوا،جس کے تحت انگریزحکومت نے 75لاکھ نانک شاہی میں کشمیراور اس سے ملحلقہ علاقے جموں کے راجہ مہاراجہ گلاب سنگھ کوفروخت کئے۔ بعد ازاں مہاراجہ کی فوج نے گلگت بلتستان کے باقی علاقوں پر بھی انگریز فوج کی مدد سے قبضہ کیا اوریوں 1848ء تک اس خطے پر مہارجہ کشمیر کا مکمل قبضہ ہوا اور 16مارچ 1935ء تک مہاراجہ ان علاقوں پر بلاشرکت غیر حاکم رہا۔ جب خطے میں سویت یونین کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہوا تو انگریز سرکار نے سویت یونین کی مداخلت کے خوف سے ایک مرتبہ پھر 16مارچ 1935کو مہاراجہ جموں وکشمیر کے ساتھ معاہدہ کیا جس کی روسے دریاسندھ اس پار گلگت کا 1480مربع میل علاقے کا سول اور فوجی انتظام 60سال کیلئے برائے راست برطانوی حکومت ہند کو لیز پر دیاگیا،تاہم شرائط میں علاقے کو ریاست جموں وکشمیر کا حصہ اور اس کا اقتداراعلیٰ مہاراجہ کا تسلیم کیاگیا۔ معاہدے کے بعد انگریزنے گلگت ایجنسی قائم کی۔3جون 1947ء کو انگریز کی جانب سے برصغیر چھوڑنے کے فیصلے کے بعد اس معاہدہ کوبھی منسوخ کردیا گیا اور یکم اگست 1947ء کو برطانوی پولیٹکل ایجنٹ نے گلگت ایجنسی کا چارج ریاست جموں وکشمیر کی حکومت کے سپرد کردیااور مہارجہ کشمیر نے اس خطے کو ریاست کا تیسرا صوبہ قرار دیکر برگیڈیئرگھنسارا سنگھ کوگورنر بناکر بھیجا جو یکم نومبر 1947ء تک اس عہدے پر قائم رہے۔

جمہوریہ گلگت کا قیام اور پاکستان سے تعلق
یکم نومبر1947ء کو گلگت کے عوام نے گلگت اسکاؤٹس کے تعاون سے ڈوگرہ راج ختم کرکے خطے میں ’’ اسلامی جمہوریہ گلگت ‘‘ قائم کی اورالحاق کے لئے پاکستان کو خط لکھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خط کی بنیاد پر الحاق کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے، تاہم 16نومبر 1947ء کوحکومت پاکستان کا نمائندہ سردار عالم گلگت پہنچا اورانتظام سنبھالا اور جمہوریہ گلگت خاتمہ ہوا،جبکہ آزادی کی جنگ گلگت بلتستان کے باقی علاقوں میں اگست1948ء تک جاری رہی۔ یکم نومبر1947ء سے خطہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔پاکستان نے روز اول سے عملا اس خطے کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہی قرار دیا ہے،جس کا واضح ثبوت 1948ء اور 1949ء میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے سامنے متنازع ریاست جموں وکشمیر کے حوالے سے موقف ہے۔ 1948ء اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا پاکستان (یواین سی آئی پی)نے جنگی بندی معاہدہ کرایا اور 5جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے پاکستان اور بھارت کے مابین سمجھوتے کیلئے منظور کی گئی قرار داد میں بھی گلگت بلتستان کو ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تسلیم کیاگیا۔ حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر میں قائم ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت کے مابین 28اپریل 1949ء کوہونے والے معاہدہ کراچی کی شق نمبر ایک کی ذیلی شق7کے تحت پاکستا ن اس خطے کو ریاست کا حصہ قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان کا انتظام عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لیا۔ 2مارچ 1963ء کو پاکستان اور چین کے مابین ہونے والے سرحدی معاہدے میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیاہے ۔

گلگت بلتستان کی عوام کی بے چینی اور عدالت عظمیٰ
اگرچہ سیاسی مستقبل کے حوالے سے عوامی بے چینی پہلے دن سے تھی،مگر شدت نہیں تھی،تاہم اب صورتحال کافی سنجیدہ ہوگئی ہے بالخصوص ’’سی پیک‘‘ اور ’’دیامربھاشا ڈیم‘‘ کے بعد حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اسی حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان بار کونسل نے آئینی پٹیشن نمبر 55/2018دائر کی جس پرعدالت عظمیٰ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت ابتدائی چند سماعتیں کرچکی ہے اور وفاق سے موقف طلب کیا ہے اور اب 30دسمبر 2018ء کوبھی اہم سماعت ہے، امکان ہے کہ اس سماعت میں نہ صرف وفاق اپنا موقف پیش کرے گا بلکہ ممکن حل کے خدو خال بھی عدالت میں پیش کرے گا۔ سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کا معاملہ دوسری بار زیر بحث آیاہے۔ 1999ء میں حبیب وہاب الخیر ی کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت پاکستان ہدایت کی تھی کہ گلگت بلتستان کے عوام کو جمہوری حقوق دئے جائیں۔اس کے بعد وفاق پاکستان نے مختلف اقدام کئے ۔گلگت بلتستان عملی صوبہ ہے مگرقانونی نہیں اسی بنیاد پرپیپلز پارٹی کی حکومت نے7ستمبر2009ء کو گلگت بلتستان سلف گورننس آڈر2009 جاری کیا اور آئینی تحفظ کے بغیرانتظامی طور پرگلگت بلتستان کو صوبے کا نام دیا ۔گلگت بلتستان اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ اور وزیراعظم کی سربراہی میں 15رکنی گلگت بلتستان قانون ساز کونسل بھی قائم کی جس کے 6ارکان کا انتخاب گلگت بلتستان اسمبلی نے کرنا ہوتا ہے۔ جون 2015ء میں گلگت بلتستان اسمبلی کی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ(ن) کے قائد اور اس وقت وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے عوام سے وعدہ کیا کہ گلگت بلتستان کو آئینی حق دیا جائیگا،جس کے لئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی کمیٹی قائم کی جس میں راجہ ظفر الحق، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور دیگر قومی مقتدر اداروں کے نمائندے بھی شامل تھے۔ کمیٹی نے تقریبا 3سال تک کام کیااور عام انتخابات 2018سے قبل 2009ء کے حکم نامے کو منسوخ کرکے گلگت بلتستان آڈر 2018ء جاری گیا۔ اس وقت گلگت بلتستان عملاً صوبہ ہے مگر قانونی طورپردیگرصوبوں کی طرح آئینی صوبہ نہیں ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا موقف
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے اس پر(ہم سے)گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ صورتحال میں آڈر 2018ء زیادہ فائدہ مند ہے اورصوبے میں اس وقت یہ آرڈر نافذ العمل ہے تاہم موجودہ وفاقی حکومت نے اپنے حصے کا کام نہیں کیاہے۔حافظ حفیظ الرحمن کے مطابق 2009کے آرڈر میں گلگت بلتستان کونسل کے پاس کئی امور پر قانون سازی کا اختیار تھا،جس سے مسائل پیدا ہورہے تھے مگر 2018ء کے آڈرمیں کونسل کے پاس صرف مشاورتی اختیار رہ گیاہے اورگلگت بلتستان کی اسمبلی کو بھی دیگر صوبوں کی طرح تمام امور میں قانون سازی کا اختیار ہے حاصل ہے۔ 2018ء کے آرڈرمیں گلگت بلتستان کو 5سال کے لئے ٹیکس فری زون قرار دیاہے اور وفاق سے رواں مالی سال کے لئے ترقیات کی مد 25ارب روپے اور غیر ترقیاتی 35ارب روپے کا بجٹ منظور کراگیا ۔ہم 2018ء کے آرڈر میں قومی اسمبلی اورسینیٹ آف پاکستان میں نمائندگی کے بجائے مقامی عوام کو انتظامی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے پرترجیح دی۔ اس وقت وفاق کی جانب سے پنجاب میں فی کس سالانہ 36ہزار روپے ، سندھ میں 40اور بلوچستان میں 42ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں یہ رقم فی کس سالانہ 62ہزار روپے ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کے دورمیں گلگت بلتستان کو معاشی اور انتظامی طور پر مستحکم کیاگیا۔ حافظ حفیظ الرحمن کا کہناہے کہ سرتاج عزیز رپورٹ کی تجاویز میں آئین کے آرٹیکل ون میں ترمیم کئے بغیر گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی کی تجویزدی گئی ہے، یہ آئین کے آرٹیکل 257اور258میں مشروط ترامیم (تنازع کشمیر کے حل تک )کے ذریعے قومی اسمبلی میں 3اور سینیٹ میں 3نشستیں دینے کی تجویز ہے۔ بطور وزیر اعلیٰ میں نے اس کی مخالفت کی اس کی بنیادی وجہ پاکستان کے کشمیرمؤقف، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوٹھیس پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس عمل سے چند نمائندے اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے مگر ٹیکس کی چھوٹ ، گندم پر سبسڈی ، نان کسٹم پیڈ (این سی پی )گاڑیوں اور دیگر سہولیات کا خاتمہ ہوگا،جبکہ بجٹ بھی دیگر صوبوں کی طرح آبادی کی بنیاد پر ملے گا،جو موجودہ پوزیشن کے مقابلے میں بہت کم ہوگا۔ اسی لئے میں عبوری سیٹ اپ کے بجائے آرڈر 2018ء کا حامی ہوں اور اسی کا دفاع کرتاہوں۔

قائد حزب اختلاف کا موقف
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کیپٹن (ر)شفیع کا کہناہے کہ میں جس جماعت (اسلامی تحریک پاکستان)سے منتخب ہوا ہوں اس جماعت کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے مگرپاکستان کے کشمیر مؤقف، اقوام متحدہ کی قرادادوں، کشمیریوں کے جدوجہد آزادی، تاریخی حقائق اور پاکستان کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ گلگت بلتستان پانچواں صوبہ کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ بطور قائد حزب اختلاف میں نے اس کا اظہار بھی کیاہے اور حال ہی میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے ہونے والی ایک ملاقات میں بھی اس پربات ہوئی، ہمیں یہ محسوس ہوتاہے کہ مستقل آئینی صوبہ بنانے سے پاکستان کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا اورکشمیریوں کی جدجہد آزادی بھی متاثر ہوسکتی ہے ،جبکہ بھارت اس کا ناجائز فائدہ بھی اٹھا سکتاہے، اس لیے ہم نے یہ موقف اختیار کیاہے کہ تنازع کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کو مشروط عبوری آئینی صوبہ بنایاجائے اور5نومبر 2018ء کوگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے بھی اس کے حق میں قرار داد منظور کی ہے۔ہم نے 11اگست 2015ء کو پانچویں صوبے کے حق میں منظور کی گئی قرارداد عملاً واپس لی ہے۔

قوم پرست رہنماء کا موقف
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے رکن اسمبلی اور معروف متحرک قوم پرست رہنماء نواز خان ناجی کا کہناہے کہ گلگت بلتستان کی وہی حیثیت ہے ،جو مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی ہے، اس لیے تنازع کشمیر کے حل تک عبوری یا مستقل صوبہ کے نام پر اس کی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جاسکتاہے، اسی کوئی کوشش کی گئی تو اس سے بھارت اپنے پروپیگنڈے میں تیزی لائے گا اور عالمی سطح پرپاکستان کیلئے مشکلات پیداہوں گی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھی متاثر ہوسکتی ہے،جبکہ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی کچھ نہیں ملے گا۔ نواز خان ناجی کے مطابق ان کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان مقامی خود مختاری دی جائے جو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق ہو۔ پاکستان کی عدالت عظمیٰ اپنی حکومت کو کوئی بھی حکم دے سکتی ہے مگر گلگت بلتستان کے آئینی معاملات میں مداخلت کرنا اس کے اختیار میں نہیں ہے۔

افضل شگری کا موقف
امورکشمیر وگلگت بلتستان کے ماہر اور سابق آئی جی سندھ افضل شگری کہناہے کہ سرتاج عزیز رپورٹ کا90 فیصد حصہ ہمارے ماضی میں تیار کردہ سفارشات کے قریب تر ہے۔ چند سال قبل میں نے آزاد کشمیر کے جسٹس (ر) منظور گیلانی اوردیگر قانونی ماہرین اورسفارت کاروں کے ساتھ مل کر ایک ڈرافٹ تیارکیا تھا ، جس میں ہم نے عبوری صوبے کی ہی تجویز دی تھی ، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں مستقل آئینی صوبہ تنازع کشمیر کی وجہ سے ممکن نہیں ہے اور ہم اب امید کرتے ہیں کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ بھی اس پر غور کرکے فیصلہ کرے گی،کیونکہ مستقل صوبہ بنانے سے عالمی سطح پر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی۔

خلاصہ
تمام صورتحال کے جائزے اور ماہرین کی رائے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گلگت بلتستان کا پاکستان کا مستقل آئینی صوبہ نہیں بن سکتا ہے اور اس کا ادراک حکومت پاکستان، حکومت گلگت بلتستان، اور گلگت بلتستان کی سیاسی، مذہبی اور قوم پرست قوتوں اور قانونی ماہرین سمیت سب کوہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے 5راستے ہیں،(1)آئینی عبوری صوبہ، (2)موجودہ نظام میں مزید بہتری لائی جائے، (3) مقبوضہ کشمیرکی طرح نظام، (4)آزاد کشمیرطرز کا نظام اور(5)مستقل آئینی صوبہ ۔حالات سے یہی لگتا ہے کہ اولذکر دو میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا اور بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت پاکستان انہی دو آپشنز پر غور کر رہی ہے، کیونکہ مشکلات کا اس کو ادراک ہے۔

فارمولہ اور تجاویز
حکومت پاکستان سے ہماری درخواست ہے کہ جو بھی فارمولہ دے اس میں تین باتوں کو مد نظر رکھے۔(1)وہ فارمولہ عوامی امنگوں کے مطابق ہو۔ (2)اس فارمولے سے کشمیریوں کی جدو جہد آزادی اور تحریک کو نقصان نہ پہنچے یا بھارت فائدہ نہ اٹھا سکے۔ (3)پاکستان کے اصولی کشمیر کاز کو نقصان نہ پہنچے۔ فارمولہ تیار کرتے وقت ان تین باتوں کو مدنظر رکھاگیا تو بہت بہتر حل نکل سکتاہے۔ یہ تجویز بھی ہے کہ اگر حکومت پاکستان سرتاج عزیز رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ میں مشروط نمائندگی دینا چاہتی ہے تو پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستوں کی تعداد تین تین ناکافی ہیں بلکہ جس طرح فاٹا کو دونوں ایوانوں میں خصوصی نمائندگی دی گئی ہے اس طرح گلگت بلتستان کو بھی خصوصی نمائندگی دی جائے اور قومی اسمبلی میں 8 اور سینیٹ میں 6 نشستیں مختص کی جائیں تاکہ عوام کی مایوسی کو کم کیا جاسکے۔

تحریر: عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*