تازہ ترین

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس،گلگت بلتستان نظرانداز۔

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک)وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس وزیراعظم آفس میں ہورہا ہے جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو ایک بار پھر نظرانداز کردیا۔ ذرائع کےمطابق اجلاس میں شماریات ڈویژن کی جانب سے مردم وخانہ شماری نتائج کی رپورٹ پیش کی جائے گی، اس دورا ن وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات، پانی کی تقسیم کا جائزہ، صوبوں میں ترقیاتی پروگرامز اور وفاق کی جانب سے تعاون کے امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اجلاس میں مردم وخانہ شماری کے نتائج کی رپورٹ کی منظوری دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ، آبی وسائل، پیٹرولیم، پاور ڈویژن کے وفاقی وزراء بھی شریک ہیں۔
یاد رہے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے قانونی طور پر گلگت بلتستان کو اس آئینی اداروں میں ترجمانی ممکن نہیں لیکن وفاق کی جانب سے عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کردہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے مطابق تمام آئینی اور قومی اداروں میں گلگت بلتستان کو بطور مبصر کے نمائندگی دینا تھا لیکن تحریک انصاف نے حکومت نے اب تک کے تمام اہم فیصلوں اور مشاورت میں گلگت بلتستان کو مکمل طور پر نظر کیا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام میں اس حوالے سے شدید شکوک شبہات اور سخت تشویش پایا جاتا ہے ۔
وفاقی حکومت نہ ہی گلگت بلتستان کو بارہا اقرار کے باوجود متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر UNCIP کے قرادادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حقوق دینے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی عوامی اور قانون ساز اسمبلی کی جانب سے کئی بار متفق طور پر آئینی صوبہ بنانے کے قراداد کی طرف توجہ دیا جارہا ہے۔ اس تمام صورت حال کو دیکھ کر گلگت بلتستان کی نئی نسل میں شدید تشویش پایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے نئی نسل سراپا احتجاج نظر آتا ہے اور یہاں کے عوام نے اپنی تمام تر توجہ اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف مرکوز کی ہوئی ہے ۔ ذیادہ سوشل میڈیا صارفین کا یہی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے مسلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کے قوانین اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرمیوں کی ازالے کیلئے بڑا فیصلہ دے سکتا ہے جسکا کا راستہ روکنے کیلئے گلگت بلتستان میں جھوٹ اور فریب پر مبنی نعروں کے زریعے جلسے جلوس نکال کر سپریم کورٹ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی سیاسی جماعت نے گلگت بلتستان کو اس خطے کی قانونی حیثیت اور اہمیت کے مطابق حقوق نہیں دئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں مکمل داخلی خودمختاری کا وعدہ شامل ہونے کے باوجود ابھی تک اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آرہا جو کہ قابل تشویش ہے۔

  •  
  • 19
  •  
  •  
  •  
  •  
    19
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*