تازہ ترین

گلگت تاریخ کے آئینے میں ۔۔

قدیم تواریخ کا مطالعہ گلگت بلتستان میں زمانہ قبل از مسیح سے آزاد اور خود مختار حکومتوں کے وجود کا پتا چلتا ہے ۔ماضی بعید میں قائم ہونے والی حکومتوں کے حدود وقتاً فوقتاً پھلتی اور سکڑ تی رہی ہیں ۔گلگت بلتستان میں 700ء میں باقدعدہ حکومتوں کے قیام کا تذکرہ ملتا ہے اوراگوتھم اس دورمیں یہاں حکمران تھاپھر مختلف خاندانوں کی حکومتیں قائم رہیں ۔گلگت میں لاہور کی سکھ حکومت کی فوجیں ایک مقامی راجہ کی مدد کے بہانے داخل ہوئی جس کے خلاف بھرپور مذمت کی گئ اور اسی دوران مارچ 1846ء کو گلگت میں سکھوں انگرزوں اور اس کے بعد ڈوگروں کا قبضہ ہوا جس کے خلاف راجہ گوہر امان کی قیادت میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے 1885ء میں گلگت میں سلطنت راجہ گوہر آمان نے سمبھالی 1860 ء میں دوبارہ ڈوگروں کی حکومت قایم ہوئی 1936ء میں انگرزوں نے گلگت کے مہا راجہ سے کشمیر پٹے پر حاصل کر لیا ۔بلا آخر یکم نومبر 1947ء کو منظم انداز میں بغاوت کی گئی اور گورنر گھنسارا سنگ کو گرفتار کر کے گلگت کو آزاد کر لیا گیا ۔
گلگت کی آزاد اسلامی ریاست کا اعلان کردیا گیا راجہ شاہ رئیس خان کو نوزییدہ اسلامی ریاست کا صدر چن لیا گیا کرنل مرزاحسن خان کو مسلح افواج کا سرابرہ مقرر کیا گیا ۔16 نومبر 1947ء کو ریاست گلگت نے پاکستان سے علاقے کا انتظام و انصرام سمبھلنے کی درخواست کی جس کے جواب میں پاکستان کے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ سردار محمّد عالَم خان نے گلگت آکرانتظام و انصرام سمبھلا حکومت پاکستان کی طرف سے 1956 ء میں دیہات سد ھارو کے نام سے ترقیاتی پروگرام کا آغاز ہوا اسی طرح 1961 ء میں نادرن ایریاز میں بنیادی جمہوریت کی بنیاد ڈالی گئی ۔1969 میں صدر یحی خان نے نادرن ایریاز ایڈوزری کونسل کے نام سے ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی۔ 1971ء میں ایف سی آر کا خاتمہ ہوا ہے۔1972ء میں ضلع دیامر کا قیام عمل میں لایا گیا ۔1974ء کو ضلع غذر کا اعلان کر دیا گیا سیاسی تحرک کا آغاز شروع ہوا تو 1975 ء میں ناردن ایریاز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ڈالی گئی 1977ء میں نادرن ایریاز میں پہلا مارشل اللہ‎ نافذ ہوا اس کے بعد پہلے مرشاللہ کے ختمے کے بعد 1979ء میں لوکل گورنمنٹ آڈر نافذ کیا گیا سیاسی شعور اجاگر ہونے کی وجہ سے 1979ء میں نادرن ایریاز میں بلغ راے دہی کی بنیاد پر عام انتخبات منعقد ہوے ۔1998 ء میں نادران ایریاز کو قانون ساز کونسل کا درجہ دیا گیا ۔1998 ء میں حاجی فدا محمد ناشاد پہلا ڈپٹی چیف ایگزیکٹو منتخب ہوا اور 2010 میں نادرن ایریاز قانون ساز کونسل سے گلگت بلتستان اسمبلی کا درجہ ملا سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلی اور ڈاکٹر شمع خالد پہلی گورنر منتخب ہوئی گلگت کوہ ہمالیہ، کوہ ہند د کش اور کوہ قراقرام کے درمیان واقع ہے ۔
ماضی میں گلگت کے نام سارگن گیلت ،گری گرت، کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔گلگت کے شما ل میں ہنزہ اور نگر کی وادیاں ہیں شما ل مغرب میں اشکومن پونیال یاسین اور غذر کا علاقہ ہے ۔مغرب میں داریل تانگیر ہیں جنوب مغرب میں چلاس جنوب مشرقی میں وادی استور ہیں ۔1973 میں ضلع دیامر کا قیام عمل میں لایا گیا ننگاپربت دیامر کی بلند چوٹی ہیں یہاں شینا پشتو بولی جاتی ہے اور اس کا صدر مقام چلاس ہیں ۔سید اکبر شاہ اور شاہ ولی کے زریعے گلگت میں آمد اسلام ہوا ۔۔شینا کو پہلی بار امیر سنگھ نے 1883 میں لکھا اور ٹھکر سنگھ 1915 میں اس طرح ٹی گرم نے شینا زباں کی پہلی گرایمر تحریر کی شینا زبان کی چار شاخیں ہیں گلگتی، استوری، چلاسی اور بروسکت 1947 سے 2005 تک گلگت میں 80 پرائمری اسکول 36 مڈل اسکول 33 ہائی اسکول اور تین انٹر کالجز اور ایک ڈگری کالج تھی۔ گلگت انٹر کالج کا قیام 1970 میں ڈگری کالج کا قیام 1975 میں گرلزانٹر کالج کا قیام 1974 میں اور علامہ اقبال اوپن ینورسٹی نے اپنا سلسلہ 1987 میں شروع کیا ۔2002 میں گلگت میں قراقرام انٹرنشنل ینورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا یہ پاکستان کی پہلی انٹرنیشنل ینورسٹی اور وفاق کی چوتھی اور گلگت بلتستان کی پہلی اور پاکستان کی سترییویں ینورسٹئ ہونے کا اعزاز رکھتی ہے ۔گلگت کے مشور شاہراہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
شاہراہ قراقرام ، شاہراہ ریشم شاہراہ غذر اور شاہراہ استور ہیں سر زمین گلگت میں بلند و بالا پہادی سلسلے ہیں ننگا پربت 8125 میٹر دستگل سسر 7885 میٹر ننگا بربت شمالی 7816 میٹر بتورا 7785 میٹر بلند ہیں ۔گلگت میں کئی اہم گلشیر موجود ہیں جیسے مکن گلشیر، ماند گلشیر ،سیار گلشیر، الترو گلشیر ،ہوپسر ،گلشیر مناپن گلشیر اور ہسپر گلشیر کے علاوہ دیگر کئی گلشیرز موجود ہیں ۔ سارگن گلت میں 16 مشہور و معروف جھیل پایے جاتے ہیں کچھ اہم جھیل نلتر جھیل، راما جھیل استور، پھنڈرجھیل
چیزو کسا جھیل، رکون جھیل تم سر جھیل ،اٹ جھیل، رش جھیل اور دیگر کئی چھوٹے بڑے جھیل موجود ہیں جو اس جنت نظیر وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں ۔جنت نظیر وادی جنگلی پرندوں کی خوبصورت آوازں سے ایک سحر انگیز ادا پیش کرتی ہیں یہاں کے پرندوں میں بگلا، گدھ، جنگلی کبوتر، فاختہ، الو ،ہدہد کوا ،چکور، رام چکور،سفید چڑیا، عقاب اور دیگر پرندوں پر مشتمل ہیں ۔گلگت کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملانے والے دروں میں درہ شاقزم، درہ قراقرام درہ قراتیغ اور درہ خنجراب ہیں ۔سر زمیں گلگت تاریخی مقامات کے لیے بھی معروف ہیں اس کے تاریخی مقامات میں یادگار قلعہ گلگت، بت نوپورہ گلگت، گورا قبرستان اور مینار گلگت یہ وہ تاریخی مقامات ہیں جو گلگت کے ماضی اور حال کے چسم دید گواہ ہیں ۔۔
بقول شاعر
شلدٹی وطن پاکستان ہنی مئی
غذر دیامر بلتستان ہنی مئی

تحریر: آصف علی تیمور (جامعہ کراچی پاکستان )

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*