تازہ ترین

گلگت بلتستان پولیس کے مسائل پر ایک نظر۔۔۔

اگر چہ گلگت بلتستان اس وقت مسائلستان بنا ہوا ہے یہاں کے بہت سارے مسائل ہیں ہر محکمے اور ہر شعبے میں میں کسی نہ کسی قسم کی پریشانی اور مشکلات ضرورہیں ،لیکن گذشتہ جمعہ کے روز قومی الائنس کی جانب سے یاد گار شہداء پربلتستان پولیس جوانوں کے حق میںایک احتجاجی مظاہرہ دیکھنے کو ملا جن کے مطالبات میں چند اہم نکات شامل تھے کہ محکمہ پولیس کے ملازمین کو فوری اپ گریڈ کیاجائے،بلتستان کے پولیس جوانوں کو بلتستان ریجن میں ہی تعینات کیا جائے، بلتستان ریجن کے پولیس کو دیگر اضلاع میںا یمر جنسی ڈیوٹی پر لے جانے کی صورت میں انہیں اضافی الائونس دیا جائے، بلتستان میں پولیس آر ٹی سی کا قیام عمل میں لایا جائے،اگر چہ اس سے قبل جی بی کے مختلف ضلعوں میں تعینات بلتستان کے چند پولیس جوانوں سے میری بات ہوگئی تھی ان کی مشکلات اور مسائل سن کرمیں سوچ ہی رہا تھا ان کے بارے میں کچھ لکھوں لیکن الفاظ میرے ساتھ نہیں دے رہے تھے لیکن جب احتجاجی مظاہرین کے ہاتھوں میں آویزاں پینافلیکس اور مقررین کی باتیں سن کر آج ان پولیس جوانوںکے حق میں قلم اٹھانے پر مجبور ہواچونکہ یہ جو مطالبات انہوں نے پیش کئے ہیں یہ تو متعلقہ محکمے کی اہم اور بنیادی ضروریات میںشامل ہیں، ان مطالبات کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے پولیس جوانوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے کہ ان کو اپنی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں اس کے بائوجود بھی یہ لو گ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے ،جبکہ کسی بھی معاشرے میں تحفظ اس وقت ممکن ہے جب وہاں کے محافظ خود محفوظ ہو ں اور ان میں ایسی صلاحیت بھی ہو جس کے ذریعے وہ دوسروں کی بھی حفاظت کر سکے لیکن اگر کسی معاشرے کی محافظ خود محفوظ نہ ہو،نہ فقد جانی تحفظ بلکہ معاشی لحاظ سے، ذہنی اعتبار سے، یا پھر کسی بھی اعتبارار سے وہ اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھے تو دوسروں کی تحفظ میں بھی اس کو کوئی دلچسپی نہیں رہتی،ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں تحفظ درکار ہو وہاں پہلے محافظوں کے مسائل و مشکلات کو حل کریں چونکہ جب محافظ خود بنیادی حقوق سے محروم ہو تو وہ دوسروں کے مسائل سے زیادہ اپنے مسائل کے پیچھے بھاگتا ہوا نظر آئیگا نتیجے میں وہ معاشرہ تباہی کی طرف گامزن ہوگا، لیکن جی بی پولیس کی اپنے تمام تر مسائل کے باؤجود ذمہ داریوں کی ادایگی میں کسی قسم کی کوتاہی نظر نہیں آتا بلکہ بہتر سے بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش میں ہیں جو کہ قابل تعریف ہے جبکہ یہاں کے پولیس کو پاکستان کے دیگر شہروں کے پولیس حضرات کی طرح کسی قسم کے سہولیات میسر نہیں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے دیگر شہروں میں پولیس کو تمام تر سہولیات کے باجود اپنی ذمہ داری میں غفلت برتتے ہیں جس کے نتیجے میں اس وقت پاکستان کے کوئی بھی شہر قابل ذکر نہیں جہاں کے شہری اپنے آپ آپ کو محفوظ سمجھے بلکہ کئی مقامات پر ہمارے ملاحظے میں یہ بات آئی ہے کہ اکثر واقعات کے پیچھے خود پولیس والے ہی ملوث ہوتے ہیں البتہ کسی فرد واحد یا چند افراد کی کارکردگی سے ہم پورے ادارے پہ کوئی بات نہیں ڈال سکتے لیکن یہ بات بھی ہے کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے اب یہ ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے افراد کو خود ہی بے نقاب کرے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچائے تاکہ ادارہ داغدار ہونے سے بچ جائے،اس وقت ملک کے کئی شہروں میں پولیس گردی عروج پر ہے جہاں کے شہری پولیس سے پناہ مانگتے ہیں جبکہ پولیس کی ذمہ داری شہریوں کی جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن جب رکھوالے خود ہی جرائم کا مرتکب ہوں تو بیچاریے شہری کہاں جائیں کس سے فریاد کرے۔مگرجی بی پولیس ایک مثالی پولیس ہے، ان کی ایمانداری عوام سے پیار و محبت میں کوئی شک نہیں کرسکتا ہے،جس کی کئی مثالیں موجود ہیں جن کا ذکر یہاں ممکن نہیں ساتھ ہی علاقے میں امن کو برقرار رکھنے میں بھی ان کا کردار لائق تحسین ہے،ہمیں ان کی ایسی کارکردگیوں کو کو قدر کی نگاہ کی دیکھنا چاہیے اور قوانین کی اجراء میں ان کے ساتھ تعاون کو اپنا فرض سمجھنا چاہیے کیونکہ ان قوانین کی اطلاق سے براہ راست پولیس کو تو کوئی فائدہ نہیں بلکہ خود عوام کی تحفظ مقصود ہوتا ہے،ہمارے ہی تحفظ کے خاطر یہ جوان اپنے اہل و عیال سے دور،اپنی جوانی کے سکون برباد کرکے دن رات اپنے فرئض انجام دیتے ہیں کتنے ہی ایسے لوگ ہمارے سامنے سے گزرگئے جنہوں نے علاقائی تحفظ کے خاطر اپنی جانیں قربان کردی،اس کے باؤجود اگر ان کو اپنی ضروریات کے مطابق حقوق میسر نہ ہوتو سراسر ناانصافی ہے،لیکن ایسی مسائل پر بہت ہی کم لوگوں کی توجہ ہوتی ہے۔جبکہ میڈیا اور اہل قلم کو معاشرے کے تمام مسائل کو باریک بینی سے دیکھ کر انہیں واضح کرنی چاہیے تاکہ حکومت ان کی راہ حل پر غور کرسکے۔اگر چہ پولیس کے حقوق کے حوالے سے قوانین پہلے سے موجود ہیں مگر بدقسمتی سے اس نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف نہیں کروائی گئی اورنتیجتاًپولیس کا عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں فوری عدل و انصاف کا اطلاق تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔چونکہ ایک موثر اور خود مختار پولیس کے بغیر معاشرے میں انصاف کا حصول ناممکن ہے اوربنیادی آئینی حقوق کی فراہمی کا براہ راست تعلق بھی پولیس سروس سے ہے۔آج اگر ارکین اسمبلی اپنے حقوق کے خاطر متحد ہوسکتے ہیں تو ان جوانوں کے حقوق کی خاطر اس ایوان میں کبھی کوئی آواز کیوں نہیں اٹھتی؟کیا ہمارے منتخب نمائندوں کو صرف اپنے مسائل کے فکر لاحق ہے؟کئی عرصے سے سننے میں آرہا تھا کہ پولیس کانسٹیبل کے سکیل اپ گریڈ کیا جائے گا ان کی مشکلات فوری حل کیا جائے گا،جبکہ اس حوالے سے اسمبلی میں ایک قراداد بھی پیش ہوئی تھی،جس میں گلگت بلتستان پولیس میں اصلاحات کرنے اور پولیس ایکٹ2018بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھاجس کے مطابق کہا گیا کہ” گلگت بلتستان پولیس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے خیبر پختونخواہ کی طرز پر نیا پولیس ایکٹ بنا کر پولیس کو آپریشنل،انتظامی اور معاشی طورپرخود مختاربنایاجائے تاکہ پولیس لاء اینڈ آرڈر کی بحالی،جرائم کے انسداد اور ان کی تفتیش کے معاملے میں جمہوری طرز پر صوبائی حکومت اور اسمبلی کے سامنے جوابدہ ہوں”ساتھ ہی ایوان کی جانب سے گلگت بلتستان پولیس کے آفیسران اورجوانوں کی قابلیت، استعداد اور شہری خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے قراداد میں یہ بھی کہا کہ” گلگت بلتستان پولیس جو 170سالہ پرانا پولیس ایکٹ اور پولیس رولز 1934کے تحت کام کرتی ہے،یہ انتظامی،معاشی طورپر خود مختار نہیں نتیجتاً عصری تقاضوں کے مطابق عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترسکتی”ان سب باتوں کااقرار کرتے ہوئے آخر میں سپیکرجناب فدا محمد ناشاد نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اس قرارداد کو وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ کے سپرد کرتے ہوئے انہیں اس قرارداد پر عملدر آمد کرنے کی ہدایت کی بھی کی تھی،مگر اب تک عمل درآمد کی کوئی امید نظر نہیں آرہا،یکم نومبرسے پولیس اپ گریڈیشن کا سنا تھا لیکن وہ بھی فقد اخباری بیانوں تک محدود رہا۔ ایک جانب سے یہاں کے پولیس ایسی مشکلات میں گرفتار ہیں تودوسری طرف پولیس میں نفری کی کمی کے باعث یہاں کے بہت سارے پولیس جوان اضافی ڈیوٹی دینے پر مجبور ہیں،اس حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت جی بی میں اہم شخصیات اور سرکاری دفاتر کی تحفظ پر700 پولیس جوان تعینات ہیں جن کی بنا پر دیگر جگہوں میں ڈیوٹی دینے والے جوانوں کو اپنی مقررہ وقت سے زیادہ ڈیوٹی دینی پڑتی ہے یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ہفتہ وی آئی پی پولیس ڈویژن بنانے میں جی بی پولیس کو نفری کی کمی کے باعث ناکامی کا سامنا رہا۔ حکومت کو چاہیے کہ اگر700 افراد کو وی آئی پی سکیورٹی پر تعینات کی ہے تو ان کی جگہ نئی پوسٹیں تخلیق کریں اور پولیس جوانوں کی کمی کو پورا کریں۔دوسری بات بلتستان کے پولیس جوانوں کو دوسری اضلاع میں ڈیوٹی پر تعینات کرکے سکردو شہر پولیس جوانوں سے خالی نظر آرہا ہے جس کے باعث یہاں کچھ عرصے سے ورادات میں بھی اضافہ دیکھنے کوملا، لیکن پولیس جوانوں کی کمی کے باؤجود باقی مانندہ جوانوں نے بڑی حوصلہ اور جرات مندی سے ان عناصر کا مقابلہ کرکے شہر کی امن کو برقرار رکھ کر بہادری کی مثال قائم کی البتہ کبھی عوامی منتخب نمائندوں کی توجہ اس طرف مبذول نہیں ہوئے کہ بلتستان ڈویژن کے پولیس جوانوں کو دیگر اضلاع میں ڈیوٹی پر لگوا کر کتنے خوار کئے جارہے ہیں لیکن اب نئے گورنر کے حکم پر بلتستان کے چند پولیس جوانوں کوواپس اپنے اضلاع میں تعینات کرنا قابل تحسین ہے آئندہ بھی ان باتوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ رول آف لاء کے مطابق ایک ڈسٹرک کے پولیس کو دوسرے ڈسٹرک میں تین مہینے سے زیادہ نہیں رکھ سکتے،اگر تین مہینہ سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوتو مزید ایک یا دو مہینہ اس پروسس کو جاری رکھے تو اشکال نہیں لیکن تین چار سالوں تک اس طرح رکھنا کسی طور پربھی درست نہیں، یہاں مساوات ضروری ہے ایسا بھی نہیں کرسکتا کہ کچھ افراد کو مشکل مقامات پر تعینات کرکے قرابت داروں یا اسررسوخ والے افرادکو اپنی پسند کے مقامات پر تعینات کرے، سردیوں میں ملنے والے الائونس کو اس قدر تاخیر کا شکار بنا کر گرمیوں میں دیا جائے تو ا س بات کا بھی کوئی فائدہ نہیں ،لہذاحکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پولیس جوانوںکی ضروریات اور مشکلات پر فوری توجہ دیں ،انہیں مزید ذہنی ازیت میں مبتلا رکھنے کے بجائے ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور انہیں بروقت اور فوری فراہم کیا جائے ۔

تحریر: سید مرتضیٰ موسوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*