تازہ ترین

صدر پاکستان محترم عارف علوی کے نام کھلا خط!!!

محترم جناب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان عارف علوی صاحبالسلام علیکم!!بعد از سلام آپ جیسے سچے،کھرے اور دیرنہ سیاسی کارکن کو صدرمملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان بنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دوئم پاکستان تحریک انصاف کو اپنی 22 سالہ پرخلوص سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملنے والی تاریخی وشاندار فتح پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔یقیناً تحریک انصاف کی اس پر عزم سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملنے والی کامیابی ملکی تاریخ میں سہنری حروف میں لکھا جانے کے قابل ہے۔خداوندامتعال سے دعا گو ہوں مملکت اسلامی پاکستان کو انصاف جیسی پارٹی اور عمران خان و آپ جیسے سیاسی کارکن تا ابد میسر رہے۔جناب والا آپ کی حکومت سے توقعات لئے صرف کراچی تا خیبر کے عوام نہیں بلکہ ہمالیہ و قراقرم کے دامن میں آباد گلگتی ،بلتی قوم بھی آس لگائے بیٹھے ہیں۔یہاں کے عوام بھی اسی تبدیلی و انصاف کی امید لئے دن کاٹ رہے ہیں۔جیسے تبدیلی و انصاف کی حکمرانی خیبر پختنخواہ و دوسرے صوبوں میں آپ کی حکومت کے ہنگامی و مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں میسر ہوئی ہیں۔محترم صدر:جناب والا نے گلگت بلتستان کا مختصر دورہ کر کے یہاں کے باسیوں کی امید کو جہد دی تھی جس کو بندہ حقیر تبدیلی و انصاف کی لہر سمجھتا ہوں۔جناب والا اسی مختصر ملاقات میں تحریک انصاف گلگت بلتستان کے ایک مقامی رہنما کی جانب سے سکردو کارگل روڈ کو کھولنے سے متعلق مطالبہ سامنے آیا تو آپ کا جواب کچھ یوں تھا جو راقم کو مقامی اخبارات کے زریعے معلوم ہوا۔یہ سکردو کارگل روڈ کہاں واقع ہے۔؟اور یہ کب سے اور کیوں بند ہے۔؟اور اس کے بند رہنے کے کیا اسباب ہے؟اور آخر میں آپ نے اسے جلد از جلد کھولنے کے احکامات بھی صادر کیے تھے۔خدا آپ کے زبان مبارک کریں۔اور ستر سالوں سے بند یہ راستہ کھل جائے اور پچھلے نصف صدی سے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ایک دوسرے کے دیدار نصیب ہو جائے۔جناب صدر صاحب آپ مجھ سے پوچھے تو میں آپ کو بتاوں گا کہ یہ کارگل سکردو روڈ کہاں واقع ہے۔اس کی کیا تاریخی حیثیت ہے۔اور کتنے عرصے سے بند ہے۔البتہ میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ آج تک یہ روٹ کیوں بند ہے۔جناب والا یہ سکردو کارگل روڈ گلگت بلتستان پاکستان کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کارگل لداخ سے ملانے والی ماضی کی ایک اہم شہراہ ہے۔یہ شہراہ بہت بڑی تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔آذادی سے پہلے اس عظیم شہراہ کے زریعے سرحد کے پار آباد دونوں علاقوں کے درمیان تجارت و آمدورفت ہوا کرتی تھی۔جو آذادی گلگت بلتستان یعنی 1948 کے بعد ہر قسم کی آمدورفت و تجارت کیلئےبند ہے۔جناب والا جس طرح برصغیر کے تقسیم سے لوگ ایک جگہے سے دوسرے جگہے پر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ایسی صورتحال یہاں پر بھی ہیں۔کارگل لداخ سے بہت سارے لوگوں نے اسلامی مملکت پاکستان کی خاطر ہجرت کی تھی جو گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہو چکے ہیں۔جناب صدر صاحب خوش قسمت ہے مظفر آباد،سری نگر،امرتسر ،کراچی و لاہور سے ہجرت کرنے والے نگری کم ازکم وہ باآسانی ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔لیکن گلگت بلتستان و کارگل لداخ کے باسیوں کو کون سمجھائے کہ آپ لوگوں کے مقدر میں ایک دوسرے کی دیدار میسر نہیں ہیں۔انہیں کون سمجھائے مقدر میں جو لکھا ہے وہ بدلا نہیں کرتے ہیں۔لیکن جناب والا میں نے مقدر تبدیل ہوتے بھی دیکھا ہے۔جب تقدیر کے صیح فیصلہ کرنے والے لوگ حکمران بن جاتا ہے۔جناب والا سرحد کے دونوں پار آباد ستر سالوں سے بچھڑے ہوئے خاندان آپ جیسے کسی مسیحا کے منتظر ہےجو انکے تقدیر کا صیح فیصلہ کر سکے۔جناب صدر صاحب سرحد کے اس پار اور اس پار ایسے بہت سے خاندانین ہے جس کے عزیز دونوں علاقوں میں منقسم ہے۔کسی کے باپ کارگل لداخ میں تو کسی کا بیٹا سکردو یا کسی دوسرے شہر میں۔کئی خاندانین ایسے دیکھے ہیں۔جو اپنے عزیزوں کے دیدار ہوئے بغیر اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں۔محترم صدر یہ جو لیکر باڈر کی شکل میں ہے یہ ایک خونی لیکر ہے۔یہ لیکر انسانیت کے منہ پر ذور دار طمانچہ ہے۔یہ لیکر ایک ماں،باپ،بیٹے،بیٹی کے ارمانوں کا خون ہے۔جناب والا مظفر آباد و سری نگر سے تجارت و آمدورفت ہو سکتی ہے۔لاہور سے امر تسر تجارت و آمدورفت ہو سکتی ہے تو کارگل سکردو روڈ سے کیوں نہیں ہو سکتی۔جناب والا سےگزارش ہےکہ انسانیت کے رشتے کے ناطے سکردو کارگل روڈ کو جلد از جلد کھولنے کےاحکامات صادر کریں۔
تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی
صحافی،سماجی رہنما و صدر پروفیشنل سوشل ورکر فورم گلگت بلتستان

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*