تازہ ترین

گلگت بلتستان کی الحاقیات۔۔۔

یکم نومبر 1947 کو جموں کشمیر کے ڈوگروں کے جبری قبضے سے گلگت کا علاقہ آزاد ہوا۔ اس سے قبل سن 1880-90 کے دوران علاقہ گلگت ڈوگرہ مہاراجہ کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ جبکہ بلتستان کے علاقوں پر پہلے ہی کٸی عشروں سے ڈوگروں کا قبضہ تھا وہ بدستور انہی کے زیر دست رہے۔ سرحدی علاقہ ہونے کے ناتے برٹش انڈیا کی حکومت نے گلگت اور ملحقہ علاقوں کو سن 1935 میں لیز پر لیکر علاقے میں اپنا پولیٹیکل ایجنٹ اور آرمی تعینات کر دیٸے تھے۔ جنہیں تقسیم ہند کے تسلسل میں جولاٸی 1947 کے آخری دنوں میں ڈوگرہ مہاراجہ کو واپس کردیا گیا۔ اسکے بعد گلگت اور بلتستان وغیرہ کے علاقوں پر ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ مسلط ہوا۔ لیکن چند ہی ہفتوں بعد یکم نومبر 1947 کو مقامی عوام اور برٹش آرمی کے کنٹرول میں قاٸم گلگت سکاوٹس کے افسران اور جوانوں نے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرکے گلگت کو آزاد کیا۔ اس دن سے لیکر پندرہ روز تک گلگت ایک خودمختار ریاست کے طور پر رہا۔ جبکہ بلتستان اور کٸی علاقوں میں جنگیں ہوتی رہیں۔

چونکہ تقسیم برصغیر پاکستان اور ہندوستان کی شکل میں ہوٸی تھی اسلٸے کشمیر کے علاقوں میں جنگوں کیساتھ ہی خطے کے سردار مہاراجہ ہری سنگھ نے 26,27 اکتوبر 1947 کو انڈیا کیساتھ الحاق کا اعلان کرکے انڈین آرمی کو بلالیا۔ گلگت میں جنگ آزادی دراصل مہاراجہ کی انڈیا کیساتھ الحاق کے اعلان خلاف شروع کیا گیا  جسکی منزل پاکستان میں شمولیت تھی۔ جیسا کہ جنگ آزادی کے ہیرو کپٹن حسن خان کی کتاب ”شمشیر سے زنجیر تک“ سمیت دیگر تاریخ کی کتب میں درج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سولہ نومبر 1947 کو گلگت ریاست کے منتظمین نے پاکستان کی حکومت سے مدد مانگی اور پشاور سے سرکاری آفیسر سردار عالم گلگت میں پہلا نماٸندہ پہنچ گیا۔ تب سے گلگت بلتستان کے انتظامات وفاقی حکومت کیجانب سے بیوروکریسی کے افسران کے ذریعے چلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ جسکی تفصیلات کٸی تحاریر میں رقم کرچکا ہوں اور تاریخی دستاویز میں مفصل موجود ہیں۔

سردار عالم جب بطور نماٸندہ حکومت و ریاست پاکستان گلگت وارد ہوا تو مقامی انتظامیہ نے انکا استقبال کیا، لیکن کوٸی شرایط کسی نے انکے سامنے پیش ہی نہیں کی، کسی دستاویز کا ثبوت تاریخ میں نہیں ملتی۔ اسکی وجہ جنگ آزادی کے بعض کرتا دھرتاوں خصوصا برٹش آرمی افسروں میجر برون جنکی ماتحتی میں مسلم فوج کیپٹن حسن خان وغیرہ تھے، انکی آپس کی چپقلش بھی بتایا جاتا ہے۔ البتہ کسی نے سردار عالم کی مزاحمت نہیں کی۔ گلگت کے آزاد علاقوں میں جسطرح پاکستان کے متعین کردہ افسر کو خوش آمدید کہہ کر کسی نے مخالفت نہیں کی، اسی طرح بعد کے آزاد شدہ علاقے جن میں بلتستان کے موجودہ  تمام علاقے شامل ہیں ، وہاں بھی کسی نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکار نہیں کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ اکہتر سال بعد بھی عوام پاکستان کیساتھ اپنی وفاداری کو نبھاتی آٸی ہیں چاہے اکہتر سال بعد کچھ افراد الحاق کے دستاویز نا ہونے پر زمین آسمان ایک کردے یا ضد زیادہ بڑھ جاٸے تو سردار ہری سنگھ کے الحاقی کاغذات پر ایمان لے آٸے۔ باوجود اسکے کہ پاکستانی حکومت نے اس خطے کو آٸینی شناخت اور بنیادی حقوق سے محروم ہی رکھا۔

اس وقت گلگت بلتستان کے جوان سترسال بعد بھی اس بحث میں لگے ہیں کہ آزادی کے بعد 16 نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کا پاکستان کیساتھ الحاق ہوا تھا یا نہیں؟  تاریخ جاننے والوں کیلٸے یہ کوٸی مبہم بات نہیں۔ البتہ الجھے ہوٸے اذہان ہمیشہ چیزوں کو الجھانے کی ہی کوشش کرتے ہیں۔ جوکہ سوشل میڈیا پر بغور دیکھا جاسکتا ہے۔

جواب نہایت سادہ ہے جب۔ سردار عالم بطور نمایندہ پاکستان گلگت آیا تب مقامی حکومت اور انقلابی سرکردوں نے کوٸی مطالبہ یا شرط و شروط پیش نہیں کٸے۔ کسی نے ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ یعنی کہ سب ہی آمادہ تھے گویا کہ پاکستان میں شمولیت ہی انکی منزل تھی۔ ہاں اس بابت تاریخی حوالوں میں کوٸی کاغذی دستاویز نہیں ملتی کہ جس پر فریقین نے اتفاق کیا ہو۔ ظاہر ہوتا ہے کہ تب کسی نے اسکی ضرورت محسوس ہی نہیں کی۔ جب آٸینی تحفظ اس غیر مشروط الحاق شدہ defacto خطے کو نہیں ملی تو مقامی افراد کی بے چینیاں بڑھتی گٸی۔ اب سات دہاٸیوں بعد لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ الحاق ہوا تھا تو دستاویز کہاں ہیں؟

سیاسیات کے طالبعلم De facto اور De Jure جیسے ٹرمز سے واقفیت رکھتے ہیں۔ Defacto حصہ ہونا یعنی کوٸی علاقہ یا خطہ کسی کی ملکیت میں ہونے یا قانونی یا غیر قانونی طور پر قبضے میں ہونے کو کہتے ہیں۔ جبکہ کسی جگہے یا علاقے کا مروجہ قوانین کے مطابق کسی کی ملکیت یا قبضے میں ہونے کو De jure کہا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے پاکستان یا انڈیا کا حصہ ہونے کو سمجھنے کیلٸے ان دو ٹرمز کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر قانون کی بات کرے اور دستاویز دیکھیں تو غالبا جنگ آزادی کے آغاز سے قبل ہی مہاراجہ جو کہ کشمیر اور گلگت بلتستان پر جابرانہ مسلط شدہ حکمران تھا ، انہوں نے انڈیا سے ساز باز کرکے پورے خطے کو انڈیا کا خودساختہ قانونی یعنی De jure حصہ بنادیا تھا۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوا۔ اور جموں کشمیر سمیت لداخ اور کرگل انڈیا کے قبضے میں چلا گیا۔ یعنی جو دستاویز کیساتھ ہی الحاق ہونا ضروری سمجھتے ہیں انکے لٸے یہی جواب کافی ہے کہ مہاراجہ اس خطے کا آمر حکمران تھا اس نے انڈیا کیساتھ الحاق کردیا۔ دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔ اسی مہاراجہ کیطرفسے الحاق کے دستاویز کیمطابق انڈیا نے کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ میں پیش کیا۔ مگر عوامی آزادی کو محظ مہاراجہ دستاویز کی بنیاد پر ختم نہیں کرسکتی تھی اکہتر سالوں سے نہیں کرا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو دنیا کا کوٸی قانون زبردستی مہاراجہ کے الحاقی دستاویز کی بنیادپر انڈیا کے حوالے نہیں کرسکتی۔

جب گلگت اور کشمیر میں جنگ آزادی لڑی گٸی تو وہ مہاراجہ کی اسی خود ساختہ قانونی الحاق کے خلاف تھی۔ یعنی عوام اس الحاق کو نہیں مانتے تھے۔ نا اب مانتے ہیں اور نا ہی کبھی مانیں گے۔ 1947-48میں ہمارے شہدإ کی جانیں دراصل انڈیا کیساتھ مہاراجہ کیطرفسے اسی الحاق  کے خلاف لڑتے ہوٸے قربان ہو گٸیں۔ ورنہ دستاویزی الحاق ہی سب کچھ ہوتا تو جنگوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب گلگت آزاد ہوا تو حکومت پاکستان کو اسوقت کے مروجہ مواصلاتی نظام کے تحت ٹیلی گرام بھیجا گیا۔ گلگت میں پاکستانی حکام آگٸے۔ دوسرے علاقوں میں جنگ آزادی لڑی گٸی۔ علاقے آزاد ہوتے گٸے اور پاکستان کا Defacto حصہ بنتا گیا۔ یعنی اس وقت کرگل لاٸن آف کنٹرول سے لیکر چترال کی سرحد تک گلگت بلتستان پاکستان کا Defacto حصہ ہے۔  مگر یہاں کی عوام اکہتر سالوں سے اس خطے کو آٸینی شناخت دیکر De Jure حصہ بنانے کا مطالبہ کرتی آٸی ہے۔

یہاں کے عوام کی قربانیوں اور پاکستان کیساتھ ہمدردیوں کو دنیا جانتی ہے مگر بدلتی پاکستانی حکومتیں مصلحتوں کا شکار ہوکر ابتک اس خطے کو نظر انداز کرتی آٸی ہیں۔ جسکی وجہ سے نٸی نسل میں بے چینیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ جسکا بروقت ادراک کرکے محرومیوں کو دور کرنا خود عالمی تبدیلیوں کیساتھ پاکستان کے اپنے حق میں بہت زیادہ ضروری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس چل رہا ہے اور سابق حکومت کیطرفسے جی بی حقوق کیلٸے بناٸی کمیٹی کی سفارشات پر نظر ثانی کیلٸے نٸی حکومت نے ایک اور کمیٹی بناٸی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت اس خطے کی حیثیت کو آٸینی طور پر طے کرتے ہیں یا پہلے کی طرح کسی حکم نامے تک محدود رہتے ہیں۔ ایک اور حکم نامے پر اکتفا اس خطے کی عوام میں پھیلی بے چینیوں کو ہوا دینے کے مترادف ہوگا۔

تحریر: شریف ولی کھرمنگی

  •  
  • 32
  •  
  •  
  •  
  •  
    32
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*