تازہ ترین

گلگت بلتستان سے تین نسلوں کا رشتہ ہے، اس خطے کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری

گلگت (تحریر نیوز نیٹ ورک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے شاہی پولو گراؤنڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے نئے پاکستان کا خاکہ تو دیکھ لیا ہوگا، یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں غریب کی کوئی آواز نہیں سنی جا رہی اور نہ ہی کسی کی جان ومال محفوظ ہے، تحریک انصاف کی وجہ سے عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں، کسان بے حال اور مزدور کو مزدوری نہیں مل رہی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ نئے پاکستان میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن نوکریاں دینے والے لوگوں سے روزگار چھین رہے ہیں، پچاس لاکھ گھر بنانے والے غریبوں کے کچے مکان توڑ رہے ہیں۔انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا گلگت میں صحت، تعلیم اور ترقی کا وعدہ پورا ہوا؟ آج کل تبدیلی کے وعدے کیے جا رہے ہیں، تبدیلی کا آغاز گلگت بلتستان کے بجٹ کو کاٹ کر کیا گیا۔ گلگت بلتستان کے باسیوں نے ڈوگرا راج کیخلاف جنگ لڑی لیکن ڈوگرا راج سے آزادی حاصل کرنے والوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ سی پیک میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا گیا، گلگت بلتستان کے حقوق پر کسی کو ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے، سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نیا پاکستان کے نام پر پرانا پاکستان تباہ کرنے والوں کو روکیں گے، انہیں ”توں توں میں میں“ کے علاوہ تیسرا کوئی لفظ نہیں آتا، یہ معاشی بحران کا حل کیا نکالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو نے گلگت بلتستان کو شاہراہ قراقرم کا تحفہ دیا اور یہاں سے سرداری نظام کا خاتمہ کیا، اس کے بعد شہید بی بی کے وعدوں کو آصف زرداری نے پورا کیا اور یہاں کی عوام کو حقوق دلوائے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کیساتھ جو رشتہ بھٹو نے جوڑا وہ رشتہ بے نظیر اور آصف زرداری نے نبھایا، میں بھی وہی رشتہ نبھانے کا وعدہ کرتا ہوں، پیپلز پارٹی کے پرچم کے سائے تلے استحصالی نظام کیخلاف جدوجہد جاری رکھوں گا، میری جدوجہد ہرمحنت کش کی جدوجہد ہے، مجھے یقین ہے آپ بھٹو کی طرح میرا بھی ساتھ دیں گے۔
انہوں نے عوام وک مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی حمایت کے بغیر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، میرا ساتھ دیں اور میرا بازو بن جائیں، ہم اقتدار میں آ کر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کو یقینی بنائیں گے، آپ کو معلوم ہے ہم صرف وعدے نہیں کرتے بلکہ نبھاتے بھی ہیں، اگر آپ کو جمہوری وسیاسی حقوق ملے تو پیپلز پارٹی نے دیئے۔ ہم اقتدار میں آ کر دیامربھاشا اور منجھی ڈیم سے منصفانہ رائلٹی کو یقینی بنائیں گے
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے، ملک نازک ترین صورتحال سے دوچار ہے، قرض مانگنے پر خود کشی کرنے والے قرض ملنے پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں، بحران حل کرنے کے لیے ویژن، قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے وقت ملے تو معیشت پر توجہ دیں، ہم پاکستان کو ان کی سیاسی تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں عوام کو سبز باغ دکھائے گئے، ایمانداری کے سرٹیفیکٹ بانٹنے والا کا اپنا دامن داغدار ہو چکا ہے، سو دن والوں نے سو سے زائد یوٹرن لیے۔ ہم نئے پاکستان کا نام لے کر پاکستان کو تباہ کرنے والوں کا راستہ روکیں گے، نیا پاکستان بنانے والوں نے پاکستان کی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دی ہیں۔
یاد رہے گلگت بلتستان بین الاقوامی طور پر مسلہ کشمیر سے منسلک ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس خطے کی انظمام کیلئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری ہونا باقی ہے اور گلگت بلتستان کے عوام آج بھی وزیر اعظم کی چناو کیلئے ووٹ کے اہل نہیں اور نہ ہی گلگت بلتستان کو سنیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل ہے۔ ایسے میں بلاول کا گلگت میں گرجنا برسنا سوائے یہاں کے عوام کی جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سے متنازعہ حیثیت کے باوجود قانون باشندہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کی ابتداء بھٹو دور سے شروع ہوئی لہذا حقوق چھینے والے حقوق کا پاسبان کیسے ہوسکتا ہے

  •  
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*