تازہ ترین

بلاول بھٹو زرداری کے نام کھلا خط۔۔

جناب چئیر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری۔
اسلام علیکم۔گلگت بلتستان کے دورے پر آپکو دل کی آتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید۔ امید قدرتی مناظر سے آپ نے اندازہ لگایا ہوگا کہ گلگت بلتستان جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔جناب چئیرمین صاحب پاکستان 14آگست 1947 کو وجود میں آیا۔ مگر قائدین تحریک پاکستان کے اسوقت کے پلان میں گلگت بلتستان شامل نہیں تھا۔ ہم نے یکم نومبر 1947 کو ڈوگروں سے جنگ کرکے آزادی حاصل کی۔ اور جمہوریہ گلگت بلتستان کے نام سے سولہ دن تک آپنی آزادی قائم رکھ سکے۔ ہمسائے میں ایک اسلامی ملک کے قیام میں آنے پر ہمارے لوگوں میں ایک اسلامی جذبہ ضرور تھا۔ لہذا اسوقت ہمیں بحثیت قوم عزت دینے کے بجائے صوبہ سرحد سے ایک نائب تحصیلدار کو پولیٹیکل ایجنٹ بنا کر ہمارے اوپر مسلط کرکے ہماری سیاسی آزادیوں اور قومی وقار پر پہلا شب خون مارا گیا۔ جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے ہردم مملکت خداداد پاکستان کے لئے ہمیشہ چاروں صوبوں سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔ ہم نے پاکستان کے تحفظ کے لئے آپنے سینکڑوں جوانوں کو قربان کیا۔ ہم نے آپنے تاریخی علاقے کرگل لداخ کو کھویا ہے۔ ہمارے دس اضلاع شہداء کے قبرستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان نے ہمیشہ آپنے آئین میں شامل کرنے کے بجائے ہمیں ہر وقت دھتکارا ہے۔ ہمیں ریاست نے ہر بار بتایا کہ یہ علاقے مسلہ کشمیر کا فریق ہیں اور متنازعہ ہیں۔ اس خطے کو آئین پاکستان میں شامل کرنے سے ریاست کا مسلہ کشمیر پر گرفت کمزور ہو جائے گی۔ لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے کہنے کہ حد تک یا باتیں کی۔ لیکن عملا متنازعہ علاقے کو وفاق پاکستان کی چراگاہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ مسلہ کشمیر کے فریق آزاد کشمیر کو پاکستان نے آزاد ریاست کا درجہ دے کر اسکی ڈیموگرافی کو تحفظ دے کر رکھا۔ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو عبوری صوبے کا درجہ دے کر انکی داخلی خودمختاری اور انکی ڈیموگرافی کو بھی قائم رکھا۔ لیکن مسلہ کشمیر کے تیسرے فریق گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ کرکے ہماری ڈیموگرافی کو بدلا جارہا ہے اور ہمیں پاکستان کے آئینی شہری اور آئینی صوبہ بنانے سے مسلسل انکاری ہیں۔جناب چئیرمین صاحب ہم مسلہ کشمیر کا فریق ہیں۔ریاست کو ہمیں آئینی صوبہ بنانے میں دشواری ہے تو ہماری متنازعہ حثیت کو قانونی تحفظ دیا جائے جیسے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں دیا گیا ہے.جناب والا ہمیں ہر دور میں پیکجز اور آرڈرز کے ذریعے بہلایا گیا ہے۔ کسی بھی قوم کو برابری کی بنیاد پر حقوق نہیں دئے جائیں تو اس خطے کے عوام کے اندر احساس محرومی جنم لیتا ہے۔ آج گلگت بلتستان کے ہر باسی آپنے اندر محرومیاں پال رہا ہے۔ اور کسی بھی قوم کے اندر پلنے والی محرومیاں انقلاب کا انڈیکٹر ہوتی ہیں۔جناب والا آج ہم گلگت بلتستان کے باسی تین نسلوں کی سیاسی محرومیاں آپنے سینوں میں لئے ہوئے ہیں۔ ہم آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ ایک بڑی وفاقی جماعت کے بانی کے نواسے اور مظلوموں اور محکموں کے حقوق کی بات کرنے والی عظیم خاتون کے فرزند ہیں۔ آپ گلگت بلتستان کے عوام کے سینوں میں پلنے والی محرومیوں کو پاکستان کے ایوان تک پہنچائیں۔ ہمارے قومی تشخص اور وقار کو پاکستان کی دیگر قومیتوں کیطرح عزت اور مقام دینے کے لئے آپ آپنا موثر کردار ادا کریں۔ ہمیں پیکجز اور آرڈرز کے ذریعے چلانے کے بجائے باوقار طریقے سے ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔ آگر پنجاب کا مالک پنجابی۔ بلوچستان کا مالک بلوچی۔ پختون خواہ کا مالک وہاں کے باسی۔ سندھ کے مالک سندھی ہیں۔ تو پھر ہمیں ہماری زمین اور زمین پر بااختیار طریقے سے حکمرانی کا حق حاصل کیوں نہیں ہے۔ مسلہ کشمیر کے ہم فریق ہیں تو پھر کیوں ہماری متنازعہ حثیت کو پامال کیا گیا ہے۔ ہماری ڈیموگرافی کو کیوں پاؤں تلے روندا جارہا ہے۔جناب والا آپ سے ایک اور مطالبہ ہے کہ وفاقی جماعتیں عموما آپنا منشور بناتے وقت عوامی خواہشات کے برعکس اسلام آباد میں بیٹھ کر گلگت بلتستان کے حوالے سے ایک منشور وضع کرتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے منشور بناتے وقت ہماری تاریخی اور جغرافیائی حثیت کو سامنے رکھتے ہوئے عوامی خواہشات کو مقدم رکھ کر منشور بنایا جائے۔ تاکہ ہم آپکے بنائے ہوئے منشور سے مطمن ہوسکیں۔جناب والا ہم توقع رکھتے ہیں کہ آپ اسلام آباد پہنچ کر ایوانوں میں ہمارا مقدمہ لڑ کر ہماری حوصلہ آفزائی فرمائیں گے۔ اور محرومیوں کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات آٹھائیں گے۔ آگر ہمارے مقدمے میں بلخصوص پاکستان پیپلز پارٹی اور بالعموم دیگر وفاقی جماعتوں نے سستی برتی اور ہمیں نظر انداز کیا تو پھر اس تحریر کو تاریخ کا حصہ سمجھ کر ہم سنبھال کر رکھیں گے۔ اور مستقبل میں ہماری محرومیوں سے خدا نخواستہ کوئی لاوہ پھٹنے کی صورت میں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ ہم نے آپنے حقوق کے حصول کے لئے پاکستان کے ہر اداروں کے دروازوں پر دستک دی۔ ہر حکمران تک آواز پہنچائی۔ اور ہمیں ہر بار نظر انداز کیا گیا۔آخر میں تنظیمی معاملات کے حوالے سے چند گزارشات آپکے گوش گزار کرنا چاہونگا۔ پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کی آکثریت عوامی اور نجات دہندہ جماعت تصور کرتی ہے۔ سابق پیپلز پارٹی کے ادوار میں چند ایسی پالیسیاں آپنائی گئی جس سے عوام کو نقصان پہنچایا گیا اور کارکنان کو دیوار سے لگایا گیا جسکی وجہ سے 2015کے الیکشن میں ہماری جماعت کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی از سر نو تنظیم سازی کے بعد نوجوان قیادت آمجد آیڈوکیٹ کو صوبائی صدر بنانے کے بعد پیپلز پارٹی کو دوبارہ عوام کے درمیان ایک مقبول جماعت بنانے میں صوبائی صدر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوام کی نبض سے واقف صوبائی صدر نے گلگت بلتستان میں عظیم الشان جلسوں کا انعقاد کرکے حق حاکمیت او حق ملکیت کا نعرہ لگا کر بکھرے ہوئے لوگوں کو یکجا کرنے انتہائی جدوجہد کی ہے۔ امید ہے صوبائی قیادت کے اس اقدام کو وفاق کے قائدین حوصلہ اور تعاون بھی فراہم کرینگے۔ہماری دعا ہے اللہ آپکو مظلوم و محکوم قوموں کی آواز اور انکے حقوق کی جنگ کرنے میں آپکی مدد فرمائے ۔ اور آپکو ہزاروں خوشیوں سے نوازے۔اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔
وزیر نعمان علی
فرزند سرزمین بے آئین گلگت بلتستان
ڈپٹی سکریٹری اطلاعات پی۔پی ڈسٹرکٹ استور۔

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*