تازہ ترین

تبدیلی ہم سب کی ذمہ داری۔۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
علامہ اقبال
سال 2018 ؁ ء کو پاکستان میں تبدیلی کا سال کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس سال پاکستان کا ہر دل عزیز کھلاڈ ی ،سماجی کارکن اور سیاست دان جناب عمران خان نیازی صاحب ملک کے 22 وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ جناب عمران خان کا جماعت کی سب سے مقبول ترین نعرہ تبدیلی کا تھا۔جو نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں مشہور ترین نعرے کے طور پر سامنے آیا۔ اور اسی نعرے کی وجہ سے پی۔ٹی۔آئی کی جماعت ملک میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
اس نعرے کا اثر عوام پرکچھ اس قدر ہوا کہ وہ حکومت سے دو ماہ کے قلیل عرصے میں تبدیلی کا مطالبہ زور و شور سے کرنے لگے۔مجھے اس قوم کی ذہنت پر اکثر تعجب اور حیرت ہوتا ہے کہ ہم کس قدر احمقانہ خیالات کے حامل ہے۔71 سال کی گندگی اور وطن عزیز کے ساتھ زیادتی کا ازالہ صرف 60 دن میں؟ یہ اس حکومت کے ساتھ کسی زیادتی سے کم نہیں،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس زیادتی کا ذمہ دار خود حکومت ہی ہے ، جس نے اتنے بلند و بانگ دعوے کیں۔بہر حال میرا موضوع گفتگو یہ نہیں کہ موجودہ حکومت اپنے وعدے پورے کرپائی یا نہیں۔میرا نقطہ نظر سادہ سا ہے کہ کیا ملک میں تبدیلی لانے کی ذمہ دار صرف موجودہ حکومت اور اس کے قومی ادارے ہیں؟
ملک میں تعلیم کی گرتی معیار، صفائی کے نامناسب انتطامات، بجلی کا بحران، پانی کی کمی،نافرمان بیوروکریسی، اداروں میں نچلی سطح سے ایون بالا تک کرپشن اور مسلسل کمزور ہوتی معشیت جیسی خطرناک اور خوف ناک بیماریاں لاحق ہیں۔ان بیماریوں کا عوام کی زندگی اور روزمرہ کے رہن سہن سے گہرا تعلق ہے۔
وطن عزیز میں ہمارا ایک تعلیم یافتہ طبقہ جو اکثر تبدیلی کا علم بلند کرتی ہے، وہ نسوار اور پان کی پچکاری تھوکتے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ سے ملک میںبیماریاں جنم لیتی ہیں۔
تعلیمی میدان میں دیکھا جائے تو حکومتی اسکولوں کے اساتذہ ہفتے، مہینے اور سالہال ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں اور آج یہی تعلیمی مجرم اور غیر ذمہ دار لوگ ملک میں تعلیمی انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ بلند کرکے ملک کے ہمدرد بنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ملک میں بجلی کی چوری اور زیاں بھی اسی قوم کی مہربانی ہے اور یہی قوم آج بجلی کی فراوانی کیلئے احتجاج کر تے ہیں۔پانی کا مسئلہ آج کل ملک میں دن بدن سنگین ہوتا جارہا ہے،جس کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ پروگرام شروع کیا ہے۔لیکن مسئلہ یہاں عوام کے روّیے میں ہے،جو پانی کی زیاں کا ذمہ دار ہے۔
نافرمان بیوروکریسی بھی ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے جو ملک کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر ملک میں کرپشن کو اپنی جائزہ حق سمجھتے ہیں اور اس کی دیکھا دیکھی ہر محکمے کے افسران دس روپے سے لیکر لاکھوں روپوںکی رشوت کھانا اپنی قومی فریضہ کے طور پر ادا کیا کرتے ہیں۔
میرے خیال میں ان مسائل کا ذمہ دار سرحد پار سے بھارت یا اسرائیل نہیں بلکہ وطن عزیز کے تبدیلی کے متوالے (پاکستانی عوام)خود ہے۔
جس نے ترقی اور تبدیلی کا راستہ روکا ہوا ہے۔اگر ہم نے حقیقی تبدیلی لانی ہے تو ہمیں خود اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔اپنے گلی محلے کی صفائی، معیاری تعلیم کیلئے انفرادی کوشش،بجلی اور پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور اپنے اپنے محکوں میں بہتر ڈیوٹی کو ایمان کا حصّہ بنانانیز کرپشن سے پاک ادارے قوم و ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔اور دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو وطن عزیز کو ترقی سے روک سکے۔اللہ تعالٰی ہمیں اپنے اندر مثبت تبدیلی لانے کی توفیق اور وطن کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈالنے کی ہمت عطافرمائیں۔

تحریر: وجاہت عالم

  •  
  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*