تازہ ترین

لائن آف کنٹرول کھرمنگ کے آخری گاوں برولمو جو مختلف جنگوں کے نتیجے میں ویران ہوگئے لیکن اُن بحالی کیلئے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

کھرمنگ( ممتاز حسین) سینکڑوں افراد پر مشتمل ، ہزاروں کنال زرعی اراضی و پھل دار درختوں سے مالامال وادی برولموضلع کھرمنگ سے کرگل جاتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے بلکل آخری حدود میں واقع ہیں۔ 1994 سے پہلے اس گاؤں کے باسی صرف خوبانی سکھا کر اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے سال کا، خرچہ نکال لیتے تھے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کی وجہ سے یہاں کے باسی 1994 سے سکردو میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اُن کی زمینیں ویران ہوگئے ،اشجارسوکھ گئے ہیں، مکانات کھنڈر بن چکے ہیں، لیکن کسی عوامی نمائندے کو ان کے دکھ اور مسائل کا ادراک نہیں، اور نہ ہی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں ان مہاجرین کے بارے میں بات نہیں کیجاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ معاوضوں کے بنا ان کی زمین و جایداد ختم ہوگئی یہاں کے باسی در بدر سکردو اور پاکستان کے مختلف شہروں میں افغان مہاجرین کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،جو اپنے وطن کو یاد کر کے روتے ہیں، یہ واپس جانا چاہتے ہیں مگرنہیں معلوم کس وجوہات کی بناء پربرلمو کے باسیوں واپس جانے نہیں دیا جارہا۔
حکومت کو چاہئے کہ سرحدی علاقوں کے عوام کے مسائل کی طرف توجہ دیں اور مظفرآباد سرینگر اور لاہور امرتسر کی طرح سکردو کرگل روڈ کو منقسم خاندانوں کو ملانے اور تجارت کیلئے کھول دیں۔
یاد رہے وزیر اعلیٰ جموں کشمیر محبوبہ مفتی اس حوالے سے پہلے ہی واضح کرچُکی ہے کہ اُنکی طرف سے اس روڈ کو کھولنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔لیکن گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ یا تو اس طرح کے معاملات میں فیصلہ سازی کے اختیارات نہیں رکھتے یا اُنہیں عوامی مسائل اور مہاجرین کا احساس نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*