تازہ ترین

ضلع کھرمنگ میں سرکاری نوکریوں پر بھرتی کیلئے میرٹ کے حکومتی دعوے کا پول کھل گیا۔

کھرمنگ (قاسم قاسمی)کھرمنگ میرٹ کے دعوی، داوروں نے محکمہ صحت کھرمنگ میں میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔پچھلے کئی سالوں سے میرٹ کے نام پر کھرمنگ کے عوام کو بیوقوف بنانے والے وزیر پلاننگ اقبال حسن کا اصل چہرہ کل سول کورٹ نے دکھا دی یاد رہیں اس سے قبل جب انکے اپنے ووٹرز انکو نوکری کا تقاضا کرتے اور الیکشن سے قبل کئے ہوئے وعدے یاد دلاتے تو موصوف مختلف بہانے بناتے اور اکثر کو یہ کہ کر واپس کرتے کہ میں میرٹ پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا مگر وزیرِپلاننگ کا اصل چہرہ کل سول کورٹ نے سب کے سامنے عیاں کی۔ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وزیرِ پلاننگ کو آج تک دو نمبری کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔زرائع کے مطابق محکمہ صحت کھرمنگ کی جانب سے مختلف پوسٹوں پر ہونے والے ٹیسٹ انٹریوو میں کھرمنگ گراخ سے تعلق رکھنے والے دو لیڈی امیدواروں نے دائی کے پوسٹ کے لئے درخواست جمع کی۔ایک مسماہ (ب) جس کے پاس آٹھویں پاس سرٹیفکیٹ کے علاوہ کوئی اور سند موجود نہیں تھا جبکہدوسرا امیدوار مسماہ (ر) جن کے پاس ایف اے ، میٹرک اور دائی کے ٹریننگ سرٹیفکیٹ موجود تھے محکمہ صحت کھرمنگ نے دونوں امیدواروں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹیسٹ انٹروو کروائیں ریٹرن ٹیسٹ میں مسماہ (ب) جو کہ آٹھویں سرٹیفیکٹ ہولڈر تھی اس کو 20 نمبر جبکہ مسماہ (ر) نے 25 نمبر حاصل کئے جب انٹریوو لیا تو آٹھویں سرٹیفیکٹ ہولڈر کو آگے کر کے انہی کو ہی دائی کے پوسٹ پر اپوائنٹ کیا کیونکہ انکو وزیر پلاننگ اقبال حسن کا آشرباد حاصل تھا انہی کے کہنے پر میرٹ کا قتل عام کرنا چاہا تاہم مسماہ (ر) نے سول کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیں کہ مسماہ (ب) دختر مرزا بلکل ان پڑھ ہے انکی آٹھویں پاس سرٹیفیکیٹ جعلی ہے کیس کے دوروان سماعت سول جج کی جانب سے مسماہ (ب) کو اپنا نام اور اپنےوالد کا نام لکھنے کے لئے کہا جو کہ وہ نہیں لکھ سکی۔ جبکہ اردو ریڈینگ کے لئے کہا جو وہ نہیں کر سکی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسکے پیچھے وزیر پلاننک اقبال حسن کا ہاتھ ہے۔جبکہ کیس کے فریق مسماہ (ر) کی جانب سے سرٹیفیکٹ بھی جعلی جمع کرنے کا دعوی تھا جس کی تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ آٹھویں پاس سند بھی جعلی نکلا۔ ان تمام تر ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کی جانب سے مقدمہ علت نمبر 11/18 بجرائم 420 465 468 471 کے تحت کاروائی کرنے کا حکم دیا زیر دفعات کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مسماہ (ب) کو گرفتار کیا بعد ازاں ضمانت پر چھوڑ دیا۔درخواست کے ساتھ جمع شدہ سرٹیفیکیٹ جعلی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہاں سے بھی واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ لڑکی کا تعلق گرخ سے ہے جبکہ ان کو سرٹیفیکٹ گرلز پرائمری سکول گنوخ سے دلوایا ہے جبکہ لڑکی نے گنوخ دیکھنا تو دور کی بات نام پہلی بار سنی ہو گی۔دوسری جانب دونمبری کے استادوں نے سرٹیفیکٹ بھی بنانے والے استاد کا نام مرحوم ماسٹر محمد قاسم حمزی گوند کا لکھا ہے جبکہ زرائع کا کہنا ہے کہ مرحوم ماسٹر قاسم نے بحیثیت استاد گنوخ میں کبھی بھی ڈیوٹی نہیں دیا ہے۔ لہذا اصل کرداروں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ایک غریب کی غربت کا مذاق اڑانے کے لئے یہ سارے ڈرامے کئے گئے۔جعلی سرٹیفیکٹ کس نے بنوایا ایک غریب کے غربت سے کھیلنے والے اصل مکروہ چہروں کو سامنے لایا جائے۔ وزیر پلاننگ اقبال حسن ، محکمہ صحت کے ذمہ دار آفسران سمیت ٹیسٹ انٹروویو لینے والے تمام عملوں کو بھی شامل تفتیش کرنا چاھئے تاکہ آئندہ اس طرح کے دونمبری سے باز آجائیں۔

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*