تازہ ترین

وفاق نے سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کا ایک اور اہم مسلہ خفیہ قرار دے دیا، معلومات فراہم کرنے سے انکار۔

اسلام آباد(ابرار حسین استوری) سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیامر بھاشا ڈیم حدود بندی کا معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی. سماعت شروع ہوئی تو ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان اقبال سعید نے عدالت کو بتایا کہ برفباری کی وجہ سے راستے بند تھے اور عدالتی کمیشن کی رپورٹ ہمیں 31 اکتوبر کو تاخیر سے ملی، جبکہ کچھ دیگر دستاویزات تاحال نہیں ملی۔جسٹس اعجازالاحسن نے ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ رپورٹ تو دیکھیں پھر اپنا اپنا موقف عدالت میں پیش کریں، ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان نے عدالت سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر کمنٹس داخل کرنے کے لئے ہمیں 20 دن کا وقت دیا جائے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا 20 دن بہت زیادہ ہیں اتنا ٹائم نہیں دے سکتے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ سماعت 15 نومبر کے بعد رکھیں کیونکہ اس دن گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا کیس بھی ہے اور یہ کیس بہت اہم ہے ان دونوں کیسسز کا ایک دوسرے سے لینک بھی ہے، ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان اقبال سعید نے عدالت سے استدعا کی کہ فیڈرل گورنمنٹ اور خیبرپختونخواہ گورنمنٹ نے جو رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں ہیں وہ فراہم کی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ رپورٹس سیکرٹ ہیں اسلئے فراہم نہیں کر سکتے جس پر ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان اقبال سعید نے عدالت سے استدعا کی اگر رپورٹس ہمیں فراہم نہیں کئیے جا سکتے ہیں تو اس کو عدالتی حکم نامے میں لایا جائے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان کی استدعا منظور کرتے ہوئے رپورٹ فراہم نہ کرنے سے متعلق تفصیل اپنے حکم نامے کا حصہ بنایا. دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ نے کہا کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے درمیان ڈیم کی حدود بندی کا تنازعہ بہت اہم یے اسلئے گلگت بلتستان حکومت کے جواب پر جواب الجواب دینا چاہتا ہوں.

عدالت نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان کی استدعا منظور کرتے ہوئے رپورٹ میں موقف دینے کے لئے مہلت دیتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔

  •  
  • 168
  •  
  •  
  •  
  •  
    168
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*