تازہ ترین

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران مراعات کیلئےاتحاد،سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ گئی۔

گلگت(نامہ نگارخصوصی،سوشل میڈیا سروے رپورٹ)گزشتہ روز گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور ممبر اسمبلی اور تحریک اسلامی کے ممبر کیپٹن(ر) سکندر علی کی یہ مشترکہ قرارداد جاوید حسین نے ایوان میں پیش کی جس میں ممبران اسمبلی کے سفری اخراجات(ٹی اے ڈی اے )میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے۔قراردادکے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین کے درجے کو گریڈ اکیس کے آفیسر کے درجے سے اوپر رکھاگیا ہے لیکن گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین کو دوران سیشن اوردیگر سرکاری اجلاسوں میں سفری اخراجات گریڈ سترہ کے آفیسر کے مساوی بھی ادا نہیں کیا جارہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی اورتضاد ہے اس لئے یہ مقتدر ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ مذکورہ حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئے اراکین گلگت بلتستان اسمبلی کے سفری اخراجات ان کے عہدے کے مطابق تعین کیا جائے ۔ جاوید حسین کا کہنا تھا کہ ممبران اسمبلی دور دراز علاقوں اجلاس میںشرکت کیلئے گلگت آتے ہیں ممبران اسمبلی کو روزانہ پانچ ہزار کے حساب سے ٹی اے ڈی ملتا ہے جس سے ہوٹل کا کرایہ بھی پورا نہیں ہوتا ہے اس کے برعکس گریڈ سترہ کے آفیسرکو مناسب ٹی اے ڈی اے دیا جاتا ہے۔
تحریک اسلامی کے رکن قانون ساز اسمبلی کیپٹن(ر)سکندر علی کا کہنا تھا کہ ہم سب غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں ممبران اسمبلی کی حیثیت گریڈ اکیس کے آفیسر سے زیادہ ہے ممبران اسمبلی کو ان کا جائز حق دیاجائے تاکہ ممبران اسمبلی کی نظرکرپشن پر نہ ہو انہوںنے کہا کہ ایک رکن اسمبلی کو صرف دو لاکھ تنخواہ ملتی ہے ان میں سے ساٹھ ہزار روپے صرف گاڑیوں کے تیل پر خرچ ہوتے ہیں۔ قوم پرست رکن اسمبلی
نواز خان ناجی نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کرپشن کرپشن کی باتیں کرتی ہے مگرپنجاب اسمبلی کے ایک ممبران کو ماہانہ پینتالیس ہزارروپے تنخواہ ملتی ہے پینتالیس ہزار روپے کی تنخواہ سے ایک رکن اسمبلی کا ایک دن کا خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا ہے ممبران اسمبلی کو تنخواہ اور مراعات پورے ملے اس کے بعد کوئی ممبر کرپشن کرتا ہے تو پھر اسے گرفتار کیا جائے۔
مسلم لیگ نون کے رہنما ڈپٹی سپیکرجعفر اللہ خان جواجلاس کی صدارت کررہے تھے نے قرارداد کی متفقہ منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اس پرعمل درآمد کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردی اس موقع ڈپٹی سپیکرجعفر اللہ خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران پر آج تک کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا ہے اس لئے ممبرا ن اسمبلی کو ان کی حیثیت کے مطابق مراعات ملنی چاہیے انہوںنے کہا کہ حالیہ دنوں میں ڈالر کے نرخ میں بھی اضافہ ہوا ہے اورمہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے اسی حساب سے ممبران کی مراعات میں بھی اضافہ ہونا چاہیے۔
مقامی اخبارات میں یہ خبر چھپتے ہی عوام نے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران پر سوال اُٹھانا شروع کردیا عوامی حلقوں کی جانب سے مذاق اُڑاتے ہوئے کہنا ہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے تمام مسکین اور غریب ممبران کو عوامی سطح پر چندہ جمع کرنے کی ضرورت ہے،عوام کی جانب سے سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پر بوجھ اس اسمبلی نے آج تک سوائے عوامی حقوق کے سودا بازی کے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرمیوں کا ازالہ ہو، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اسمبلی کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں اور نہ ہی اس اسمبلی کے پاس کئے گئے قرارد کی وفاق میں کوئی شنوائی ہوتی ہے گلگت بلتستان میں اصل حکمرانی غیر مقامی بیورکریسی جو ان ممبران کی بھی نہیں سُنتے۔ عوامی سوال اُٹھا رہے کہ اسمبلی کے ممبران کی جانب سے موجودہ چیف سیکرٹیری کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا تھا اور نومنتخب گورنر نے بھی چیف سکرٹیری کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں ملک بھر سے آنیوالے ارکان قومی اسمبلی کو پانچ ہزار روپے ٹی اے ڈی اے ملتا ہے لیکن گلگت بلتستان کے بے اختیار ممبران کا اسمبلی میں آنے کیلئے مزید مراعات سرکاری خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں،سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک سروے کے مطابق پورے گلگت بلتستان کے تمام سرکاری سکولز اور ہسپتالیں ٹوٹ پھوٹ کے شکارہوکر فرنیچرز، کھڑکی دروازے دیواریں تک بوسیدہہوچُکی ہے لیکن ممبران اسمبلی کو عوامی مسائل کی فکر نہیں بلکہ اپنے مراعات کیلئے ایک ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممبران ٹھیکداروں کی ملی بھگت سے تمام ADP کا فنڈ ہڑپ کرنے کے باوجود اپنے لیے ذیادہ مراعات اور غریب عوام بارے سوچنے کیلئے اُن کے پاس سیاسی بیانات کے سوا کچھ نہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کرپشن نہیں کرتے تو اُنکی زندگیوں میں حکومت میں آتے ہی تبدیلیاں لگژری اسٹائل من سلویٰ تو نہیں آتے بلکہ کرپشن گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی کا واحد ذریعہ آمدنی ہے اور ممبران بحریہ ٹاون جیسے مہنگا ترین ہاوسنگ اسکیم میں پلاٹ خرید کر فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر ڈالتے رہے ہیں، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر گائے فروخت کرکے الیکشن لڑا تھا آج وہ شاہانہ زندگی گزارتے ہیں پنڈی اسلام آباد میں جائداد بنا چُکے ہیں یہ پیسہ کہاں سے آیا نیب کو تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا صارفین وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن پر بھی خوب گرج برس رہا ہے اُنکا کہنا ہے کہ حفیظ الرحمن کی مالی حیثیت سے اہل گلگت خوب واقف ہیں اور آج وہ فرنٹ مین کے مختصر وقت میں ذریعے ارب پتی چُکے ہیں اسکا بھی حساب ہونا چاہئے۔ سوشل میڈیا صارف یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ ممبران تو ممبران گلگت بلتستان میں مشیر اور کورڈنیٹر کا لاولشکر بھی اس وقت شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے قومی احتساب بیورو سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبران گلگت بلتستان اسمبلی کے اثاثہ جات کی چھان بین کیا جائے تاکہ دوھ کا دوھ اور پانی کا پانی ہوجائے

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*