تازہ ترین

گلگت بلتستان کے تاریخی ورثہ بدھ مت یونیورسٹی کے آثار محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کا شکار۔

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک )ضلع دیامر کے سب ڈویژن داریل ستر ہزار نفوس پر مشتمل زرخیز علاقہ ہے تیرہوں صدی میں یہ علاقہ ریاست دردستان کا ہیڈ کوارٹر اور بدھ مت دور میں داریل مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے مرکز رہا ہےداریل میں وادی پھوگچ قراقرم ہائی وے سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں 500 سے 750 عیسوی میں بدھ مت یونیورسٹی کے نام سے آثار بغیر پتھروں کے سرخ چکنی مٹی سے بنی دیواریں ابھی تک موجود ہے لیکن گلگت بلتستان حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے سبب منہدم ہونے کے قریب ہے۔
اس تاریخِ اور قدیم بدھ مت یونیورسٹی کے آثار کو بچانے اور اس پر تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے آج کھنڈرات بھی مٹ رہے ہیں۔ اس عظیم تاریخی ورثے کی تحفظ کیلئے ابھی تک نہ مقامی لوگوں نے توجہ دیا نہ حکومتی سطح پر کوئی توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کو چاہئے کہ اس قدیم تاریخی ورثے کو قومی ورثہ قرار دیکر اس مقام کی تحفظ ہو یقینی بنائیں۔ علاقے کے قدیم لوگوں کا کہنا ہے کہ اس یوینورسٹی کے آثار والی جگہ سے کھدائی کرنے پر سونے کے زیورات مٹی کے برتن لوہے کے جنگی اوزار جن میں لواریں تیر لوہے کی زرہیں اور دیگر سامان ملتا ہے ،یہاں تک بھی کہا جاتا ہے کہ یہ علاقہ چونکہ بدھ مت دور بدھ ازم کےء حوالے سے ایشاء کا مرکز ہوا کرتے تھے اور اس مقام پر سونے سے ایک ایک طویل بدھا بھی ہے جس کے بارے میں مختلف قسم کی کہانیاں ہےپرُانے زمانے کے لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ سونے سے بنی بدھا اسی مکان پر آج بھی مدفن ہوسکتا ہے جبکہ ایک خیال یہ ہے کہ بدھا یہاں سے لیکردوسرے احاطے میں مدفن ہو۔

 

  •  
  • 47
  •  
  •  
  •  
  •  
    47
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*