تازہ ترین

وزیر اعلیٰ نے گلگت بلتستان کی تاریخ اور زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلان کردیا۔

گلگت (پ ر) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ اور زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائیگا ، صد سالہ آزادی گلگت بلتستان کی اشاعت تاریخ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے یہ کتاب کئی کتابوں کا مجموعہ ہے تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے اسکو نصاب کا حصہ بنایا جاتاہے جیسے کہ تاریخ پاکستان ہمارے نصاب کا ایک اہم حصہ ہے گلگت بلتستان کے لوگ اپنی تاریخ سے والہانہ محبت او جذبہ رکھتے ہیںرشید احمدکی جانب سے تاریخ پر مشتمل کتاب کی اشاعت ایک بڑی کاوش ہے لیکن مجموعی طور پر ہمیں کہیں متفقہ تاریخ سامنے نہیں آئی ہے 1947سے 2018تک متفقہ تاریخ مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر کام جلد شروع کیاجائیگا اور اس کو باقاعدہ طور پر نصاب کا حصہ بنایاجائیگا تاکہ گلگت بلتستان کی تاریخ زندہ رہے وزیر اعلیٰ ریٹائرڈ ایکسئین رشید خان کی کتاب ‘صدسالہ جدوجہد آزادی ”کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہاکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ثقافت ، اپنی تاریخ ،روایات اور زبانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ اور زبانوں کو کتابی شکل دیکر نصاب کا حصہ بنایا جائے اس حوالے سے زبانوں کو کتابی شکل دینے کیلئے ایک فورم تشکیل دیاتھا جس نے یہ کام مکمل کر دیاہے آئندہ نئے تعلیمی سال میں مقامی زبانوں پر مشتمل ابتدائی قاعدہ نصاب میں شامل کیا جائے گا ۔زبانوں پر کام کرنے والے فورم کو گلگت بلتستان کی تاریخ یکجا کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تاریخی کتاب مرتب کرنے کاٹارگٹ دیاجائیگا اور اس کو کتابی شکل دیکر بہت جلد تاریخ کو بھی نصاب کا حصہ بنایاجائیگا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ گلگت بلتستان کی ثقافت پاکیزہ ثقافت ہے نوجوانوں کو انٹر ٹینمنٹ کیلئے مخلوط محفلوں اور ناچ گانوں کا متبادل راستہ دینا ہوگا تاریخ اور زبانوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی ثقافت یہاں کی تہذیب و تمدن اورپاکیزہ روایات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج دشمن سرگرم ہے اور بیرون دنیا میں بیٹھ کر تیر و تفنگ پھینکنے کی دشمن کو ضرورت نہیں ہے سوشل میڈیا کے ایک ٹویٹ سے ہی ہم اپنے ملک کو جلانے پر تلے ہوئے ہیں بیرون ممالک میں بات دلائل سے ہوتی ہے یہاں پر ایک ٹیویٹ پر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہاہے یہی وجہ سے گلگت بلتستان اور وطن عزیز پاکستان میںگزشتہ کئی سال تک قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا اور گلگت بلتستان میں 400سے زائد جانیں ضائع ہوئی ہمیں اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ نجی ٹی وی کی جانب سے گلگت میں مخلوط محفل کے انعقاد کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے کمیٹی کی سفارشات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے کہ اسکا ذمہ دار کون ہے انہوں نے کہاکہ شادی اور دیگر خوشی کے مواقع پر انتظامیہ کی نگرانی میں پٹاخوں کی اجازت دی گئی ہے اس کیلئے ڈی سی سے اجازت لینا ضروری ہے انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کی آزادی کیلئے خدمات سر انجام دینے والے ہیروز کو بھی ہم نہیں بھول سکتے ہیں اہم شہراہیں اور پوائنٹ کو ہیروز کے نام سے منسوب کیاجائیگا ۔

  •  
  • 14
  •  
  •  
  •  
  •  
    14
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*