تازہ ترین

چائنیز اور زراعت۔۔۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں شمالی جانب میدانی علاقے ہیں جہاں کپاس گندم مکئی کے وسیع و عریض کھیت ہیں جبکہ جنوبی سمت میں کاشغر، ہوتن وغیرہ ہیں جہاں ٹمپریٹ فروٹ میں خوبانی، اخروٹ انگور کثیر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ چائنا نے سنکیانگ صوبے میں زراعت ٹوٹلی میکنائزڈ کیا ہے، انسانوں کی بجائے بڑی بڑی مشینیں اب کھیتوں میں نظر آتے ہیں جس سے چین نے اپنی زرعی پیداواری لاگت کو انتہائی کم شرح پر لایا اور عالمی منڈی میں باقی اشیا کی طرح زرعی اجناس بھی کم ریٹ پر بکتا ہوا ملتا ہے۔ اس معاملے میں وطن عزیز پاکستان ہنوز طفل مکتب ہے۔ پاکستان کے زرعی پالیسی سازوں نے زراعت کی ترقی کو کبھی درخو اعتنا نہیں سمجھا۔ پانچ سالہ منصوبہ جات میں زراعت بجٹ کے اعتبار سے ہمیشہ آخری نمبر پر ہوتا ہے۔جبکہ کل آبادی کا ستر فیصد حصہ ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ زرعی شعبہ اور اسکے وسائل و خدمات پر انحصار کرتا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی حالات اس سے بہتر نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں صوبائی اسمبلی میں کچھ ممبران کی طرفسے تنقید ہوئی کہ کچھ محکمے کام نہیں کرتے ہیں جس میں محکمہ زراعت کا نام بھی لیا گیا۔ جس پر حکومتی بنچ سے اہم وزیر نے باقی ممبران سے سوال کیا کہ سالانہ ہر ممبر کو کروڑوں ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں ۔۔ زراعت کی ترقی کے لئے کس ممبر نے آج تک کتنا فنڈز مختص کیا؟ تمام ممبران اسمبلی آئیں شائیں بائیں کرنے لگے۔ زراعت ممبران اسمبلی کے ترجیحات میں بھی بلکل شامل نہیں۔اب زراعت کی ترقی کے لئے اچھے وژن والے اور جدید نظریات پر مبنی ترقیاتی سکیموں کی ضرورت ہوتی ہے جسکے لئے حکومت فنڈز مہیا کرے اور انقلابی تبدیلی زراعت میں لانے کی کوشش کرے۔ اسکے بغیر عام آدمی کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔ فنڈز کی عدم دستیابی کا مسئلہ پاکستان کے چوٹی کے زرعی اداروں کو بھی سامنا ہے۔این اے آر سی ایک بڑا قومی ادارہ ہے۔یہاں ایک ینگ زرعی سائنٹسٹ سے ملاقات ہوئی جو پر جوش کام کرنے والا ہے ۔۔۔ کہ رہا تھا پچھلے تین سالوں سے تنخواہ کے علاؤہ ریسرچ کے لئے بلکل بھی بجٹ نہیں اب وہ ملک سے بھاگنے کا سوچ رہا تھا۔۔ کہتا ہے تین سالوں سے زنگ آلود ہوچکا ہوں ۔۔۔ ایک دو سال بعد کسی کام کا نہیں رہونگا۔۔ بہتر ہے کسی اچھے ملک میں چلا جائے۔ یہاں سینکڑوں پی ایچ ڈی سائنسدان مفت میں بیٹھے ہیں ان سے کام لینے والا کوئی نہیں۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ زراعت کو درپیش مسائل ترجیحات میں شامل کرکے زرعی اداروں کو ایکٹیویٹ کیا جائے، ہر ادارے کو رزلٹ بیس ٹارگٹس دئے جائیں، چین سے جدید زرعی مشینری لاکر ملک کے اندر پروٹائپ بنائے، یہیں تیار کرے اور سیڈ امپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی کو برقرار رکھا جائے مگر اسکے لئے الٹرنیٹ حل بھی تجویز کئے جائیں۔ یہ کہاں کا انصاف کہ ملک کے اتنے بڑے بڑے ناموں کے ہوتے ہوئے پھولوں اور سبزیات کی سو فیصد بیج باہر سے امپورٹ کئے جا رہے ہیں۔ آپکے ملک کا شمالی علاقہ سیڈ پروڈکشن کا علاقہ ہے، ملکی سیڈز کی ڈیولپمنٹ پر فوری کام شروع کیا جائے تاکہ اس طویل سفر کی درست سمت میں ابتدا کیا جاسکے۔چینی زرعی مشینری مناسب ریٹس پر ہیں۔ سلائیڈز میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس کام کے لئے کونسی چائنیز مشینیں دستیاب ہیں۔

تحریر : جی ایم ثاقب
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت

  •  
  • 24
  •  
  •  
  •  
  •  
    24
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*