تازہ ترین

ناٹنکی۔۔۔۔

اُس نے مجھے”سٹالکر” کہا تو میں کچھ وقت کے لیے دنگ رہ گیا۔ جب اسُ سے وجہ دریافت کی، کہ مجھے ایسا کیوں کہا؟ تو پھروہ معافی مانگنے لگی اور ساتھ ہی “ریکلیٹ “(بیکورڑ سٹالکر) کہا۔ کیوں کہا واجہ بتائے بغر وہ ہنسنے لگی اورمجھ میں اضطراب پیدا ہونے لگا۔ میں سوچنے پہ مجبورہوا کہ یہ مجھے ایسا کیوں کہہ رہی ہے ؟ایسا کیا کہہ دیا میں نے۔ میرے بار،باراسرار پر کہنے لگی آپ میرے بارے میں اتنا کیوں جاننا چاہتے ہیں اورآپ کو مجھ سے کیا مطلب؟ میری نمرہ سے پہلی ملاقات تب ہوئی تھی، جب وہ یونیورسٹی داخلہ لینےآئی تھی اور یونیورسٹی رجسٹرر سے آپنا داخلہ اندراج لیٹر لیے شوبہ داخلہ جات میں اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے آپنا تعرف کرارکھا تھا۔اور کہہ رکھا تھا کہ کسی بھی طرح کی مدد کی ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں۔اسُ نے جوابً شکریہ کہا تھا۔۔
وہ کلرک کے پاس اپنے کاغذات جمع کررہی تھی۔ میں بھی وہیں موجود تھا کلارک نے مجھے کہا جنید بیٹا، نمرہ کے کاغذات کی تین فوٹوکاپی کروالانا۔ نمرہ کو فوٹوکاپیر کا نہیں پتتا۔ جاتے ہوئے میں نے اس کا موبائل نمبر نکال لیا،اس کے آسناد دیکھ کر میں نے اس کی قابلیت کا اندازہ لگایا اور فوٹوکاپی لاکر دے دی۔ رات میں نے نمرہ سے بات کرنے کی ٹھانی اور اگلے دن ڈیپارٹمنٹ کےلان میں اکلی پا کراس کے پاس چلا گیا جاتے ہی اس نے پوچھا آپ کی کلاسس ختم ہوگئی؟ میں نے ہاں میں جواب دیا پھر کہنے لگی ابھی گھر جائنگے میں نے پھر ہاں میں جواب دیا۔وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے چلی گئی۔ اسی طرح کی رسمی ملاقاتیں آگے بھی ہوتی رہیں۔ کچھ دنوں بعد نمرہ نے یونیورسٹی آنا چھورڑ دیا۔ جب پورا ہفتہ گزرا اور وہ نہیں آئی تو میں نے اسے بے جیجک کال میلائی اس کے آٹینڈ کرنے پر اپنا نام بتایا تو،کہنے لگی کیوں کال کی ہےآپ نے؟ اور میرا نمبر کس نے دیا آپ کو؟ میں نے جواب دیئے بغیر اس کی طبعت کا پوچھا اور یونیورسٹی نہ آنے کی واجہ پوچھی۔وہ بولی میرا داخلہ قائداعظم یونیورسٹی میں ہوگیا ہے۔ اب میں نہیں آونگی کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔ رات میں نے نمرہ سے نیئی یونیورسٹی میں اس کے فیلڈ آف آسٹیڈی کا پوچھا کہنے لگی اس نے ابھی میجر نہیں رکھا، میں نے اپنی یونیورسٹی کا اس کی یونیورسٹی سے موازنہ کرایا اور اسُ کو مبارکباد دی، پھراسُ کے فیوچرپلان کا پوچھنے لگا کیوں کی جب میں نے اس کے اسناد دیکھے تھے تب ان میں این۔سی۔آے کے کچھ سرٹیفیکٹس بھی تھے اور اس کی سماجی ویب سائیٹ میں پروفائل دیکھ کر اس کے ہنر کا قائل ہوگیا تھا۔ اس نے بتانے سے انکار کردیا۔ وہ ایک بہترین مصویرہ تھی باقی لڑکیوں سے الگ ایک بے خوف اورحرکت میں رہنے والی لڑکی تھی جس کی خد اعتمادی کم از کم میرے لیے مثال تھی۔ وہ بولی آپ میرے بارے میں اتنا کیوں جاننا چاہتے ہیں اورآپ کو مجھ سے کیا مطلب؟ تو میں نے اپنی یونیورسٹی کی سیٹ جس میں اس کا داخلہ ہوا تھا کو ضایئع کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس بات پر وہ کہنے لگی میں جہاں چاہوں جاوں جو چاھوں پڑہوں آپ سے مطلب؟اور میں وہاں بھی آن میرٹ تھی، یہاں بھی آن میرٹ ہو جہاں دل کرے پڑہوں۔ میں بولا اگرکوئی اس اہل ہے کی ٹاپ رینکنگ یونیورسٹی میں پڑھ سکے اوراتنی خداعتمادی ہے کہ وہ جہاں جائے داخلہ مل جائے گا، کو کم از کم ملک میں ، علاقے میں رہنے والے دوسرے طالب علموں کا حق نہیں مارنا چاہیے۔ اور نمرہ کو بسٹ آف لک کہا اور اس نے مجھے” نوٹنکی ، سٹالکر، بیکورڈ اسٹالکر” کے القاب دے دیئے۔

تحریر: انیس الحسن بیگ

  •  
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*