تازہ ترین

گلگت بلتستان کی زمینوں پر پختونخواہ کا ناجائز دعویٰ، متاثرین دیامر بھاشا ڈیم فریا د لیکر اسلام آباد پہنچ گئے۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) دیا مر بھاشا ڈیم کمیٹی شلیہیٹی تھور گلگت بلتستان کے ممبران نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیا مر بھاشا ڈیم سے متعلق زمین متنازعہ کیس چل رہاہے کہا کہ سپریم کورٹ میں ضلع ہربن کوہستان کے رہائشیوں نے ہماری زمینوں پر جھوٹا دعویٰ دائر کیا ہے،کمیٹی ممبران نے کہا ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے یہ ہماری ملکیتی زمین تھی،بھاشا ڈیم کی زمین کے سارے ثبوت گلگت بلتستان حکومت کے پاس موجود ہے، انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس سے متعلق ہمیں باخبر رکھا جائے۔ پیر کو نیشنل پری کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دیا میر بھاشا ڈیم پرتحفظات رکھنے والی کمیٹی ممبران میں محمد ایوب نمبر دار، حبیب الرحمن سلفی کمیٹی ممبر تھور، عزیز، شکور خان، سیف اللہ، امیر حاتم سمیت دیگر ممبران نے کہا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں، چاہتے ہیں کہ دیامیر بھاشا ڈیم بنے اور ملک میں پانی کا ذخیرہ جمع ہوں لیکن ڈیم سے متعلق ہمارے تحفظات دور کیے جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے بھاشا ڈیم کی زمینیں ہمارے پاس تھی۔ دیامر ضلع کے ساتھ ضلع ہربن کوہستان کی رہائشیوں نے ہمارے زمینوں پر جھوٹے دعوے کئے اور ہمارے ہمارے زمینوں پر سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا۔ زمینوں کے سارے ثبوت گلگت بلتستان کے پاس بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقاء کی خاطر ہم نے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ڈیم بننے سے ہمارے ساری زمینیں پانی میں ڈوب جائے گی۔ حکومت نے زمینوں کی قیمتیں ادا کرنے کاوعدہ کیا ہے لیکن چیف جسٹس آف پاکستان ہماری زمینوں سے متعلق دائر کئے گئے مقدمے سے ہمیں آگاہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا دیا میر بھاشا ڈیم کے اردگرد تقریباً2لاکھ آباد ی ہے۔ہمیں انصاف دلایا جائے۔

  •  
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*